Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کبار صحابہ رضی اللہ عنہم کا مدینہ منورہ سے چلے جانا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین میں قریش کے سرکردہ لوگوں پر ان کی اجازت کے بغیر مدینہ چھوڑ کر دوسرے شہروں میں آباد ہونے پر پابندی لگا دی تھی۔ جب لوگوں نے ان سے اس بارے میں شکایت کی تو آپ نے فرمایا: اس طرح قریش اللہ کے مال پر اللہ کے دوسرے بندوں سے ہٹ کر قبضہ جمانا چاہتے ہیں مگر میں ہر ممکن طریقہ سے ان کا راستہ روکوں گا۔ میں قریش کو جہنم میں گرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 413)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مختلف مفتوحہ شہروں میں آباد ہونے سے خائف تھے، اگر مدینہ منورہ میں آباد مہاجرین میں سے کوئی شخص آپ کے پاس آ کر شہر سے باہر جانے کی اجازت طلب کرتا تو آپ اس سے فرماتے: تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہو کر جہاد کرنے سے جو مقام و مرتب ملا وہ آج کے جہاد سے حاصل ہونے والے مقام و مرتبہ سے کہیں افضل ہے۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 414)

جبکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں مدینہ منورہ سے نکل جانے کی اجازت دے دی۔