فتوحات اسلامیہ میں توقف
علی محمد الصلابیسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اواخر میں بعض اسباب کی وجہ سے اسلامی فتوحات کا سلسلہ رک گیا اور وہ فارس، افریقہ اور بلاد شام کے شمال میں آگے نہ بڑھ سکا۔ جس کے نتیجہ میں اموال غنیمت کی آمد کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ اس دوران بادیہ نشین لوگ سوال کرنے لگے کہ پہلی غنیمتیں کہاں گئیں؟ مفتوحہ اراضی کہاں گئی؟
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 344 )
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ انہوں نے اپنی خواہش کے مطابق مسلمانوں کے لیے وقف زمینوں میں ناجائز تصرف کرتے ہوئے انہیں اپنے پسندیدہ لوگوں کے نام الاٹ کر دیا ہے۔ اس قسم کی افواہوں نے
بادیہ نشینوں کو بڑا متاثر کیا اور خصوصاً ایسے حالات میں کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ بے کار بیٹھے اپنے وقت کا آدھا حصہ کھانے پینے اور سونے میں گزارتے اور آدھا حکومتی اور ریاستی سیاست میں بحث مباحثہ کرنے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تصرفات کے بارے میں گفتگو کرنے میں جنہیں سبائی بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تھے۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک عامل عبداللہ بن عامر کو اس صورت حال کا ادراک ہوا تو انہوں نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ وہ لوگوں کو جہاد کرنے کا حکم دیں اور انہیں جنگوں کا ایندھن بنا دیں تاکہ ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا جائے۔
(تاریخ طبری: جلد 2 صفحہ 340)
ایسے افراد کی اس قسم کی گفتگو اور غور و فکر کے ماحول میں جو کہ دین کی زیادہ سوجھ بوجھ کے بغیر جنگ کے عادی تھے ان سے کسی بھی برائی کی توقع کی جا سکتی ہے، اور اس کے لیے یہی کافی تھا کہ اعراب کو تحریک دے کر انہیں کسی راستے پر لگا دیا جائے۔ پھر یہ ہوا کہ یہ لوگ بغاوت پر اتر آئے، ہیجان پیدا کرنے لگے، فتنے کھڑے کرنے لگے۔ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنہ میں اور اس کی آگ بھڑکانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔
( تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 353)