Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مجتہد العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑی کا فتویٰ رافضی کے پیچھے نماز پڑھنا،ان سے سلام مصافحہ کرنا،ان کے ساتھ نکاح کرنا،ان لوگوں سے میل ملاپ رکھنا


مجتہد العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑی کا فتویٰ

سوال: رافضیہ، بلا تفضیلیہ، معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، مرزائیہ، چکڑالویہ وغیرہ وغیرہ فرقے یہ قطعی کافر ہیں یا نہیں؟نماز میں ان کی اقتدا کرنا اور ان سے سلام مصافحہ کرنا روا ہے یا نہیں؟ ان کی ورثہ مسلمان کو یا مسلمان کی وراثت ان کو پہنچتی ہے یا نہیں؟ اور مسلمان عورت کو ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر مسلمان عورت کا خاوند ان فرقوں میں داخل ہو جائے، مذہب اہلِ سنّت و الجماعت بدل لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ بغیر طلاق کے دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟

جواب: ان فرقوں کے گمراہ، زندیق، ملحد، بدعتی ہونے میں کوئی شبہ نہیں، البتہ کافر ہونے میں تفصیل ہے۔مرزائیہ، چکڑالویہ یہ تو بے شک کافر ہیں۔ معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، جبریہ بھی تقریباً ایسے ہی ہیں، لیکن صاف کافر کہنا ذرا مشکل ہے۔ رافضیہ میں سے غالی قطعاً کافر ہیں، جو سیدنا صدیقِ اکبرؓ وغیرہم کو مرتد کہتے ہیں،اور زیدیہ کافر نہیں، جن کا عقیدہ ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی امامت خطا نہیں ہے، مگر سیدنا علی المرتضیٰؓ افضل ہیں،اور سیدنا عثمانؓ کے بارے میں ساکت ہے نا اچھا کہتے ہیں نہ برا۔

رہا ان لوگوں سے میل ملاپ تو یہ بالکل ناجائز ہے۔ تفسیر ابنِ کثیر: جلد، دوم صفحہ، 201 میں مسندِ احمد وغیرہ سے یہ حدیث شریف ذکر کی ہے: کہ جب تم متشابہ آیتوں کے پیچھے جانے والوں کو دیکھو تو ان سے بچو۔

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں سے رشتہ ناطہ وغیرہ کرنا یا ویسے میل ملاپ رکھنا یا نماز میں امام بنانا اس قسم کا تعلق کوئی بھی جائز نہیں، بلکہ ان میں سے جو کافر ہیں، اگر اتفاقی طور پر ان کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے یا غلطی سے ان کے ساتھ نکاح کا تعلق ہو گیا ہو تو نماز بھی صحیح نہیں اور نکاح بھی صحیح نہیں،نماز کا اعادہ کرنا چاہیئے،بلکہ اگر نکاح پڑھا ہوا ہو، اور بعد میں ایسی بدعت کے مرتکب ہوئے جو حدِ کفر کو پہنچ گئی تو بھی نکاح خود بخود فسخ ہو جاتا ہے، طلاق کی ضرورت نہیں۔

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِکِینَ حَتّٰى یُؤْمِنُّوا الخ۔  (سورۃ البقرة: آیت، 221)

ترجمہ: یعنی مشرک مردوں کو نکاح نہ دو۔اور اور دوسری جگہ ہے: وَلَا تُمْسِكُـوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِـرِ الخ۔

(سورۃ الممتحنہ: آیت، 10)

ترجمہ: یعنی کافر عورتوں کے ساتھ نکاح مت رکھو۔

اگر اسی حالت میں مر جائیں تو مسلمان ان کے وارث نہیں اور یہ مسلمان کے وارث نہیں۔(فتاویٰ الحدیث: جلد، 1 صفحہ، 1)