Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا موجودہ قرآن اصلی ہے؟

  ڈاکٹر ذاکر عبدالکریم نائیک

کیا موجودہ قرآن اصلی ہے؟

’’کیا ایسا نہیں کہ قرآن کے متعدد نسخے موجود تھے جنھیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے جلا ڈالا گیا اور صرف ایک نسخہ باقی رہنے دیا گیا اور اسی طرح کیا یہ درست نہیں کہ موجودہ قرآن کریم وہ ہے جس کی تدوین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کی اور یہ اصلاً وہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کیا گیا؟‘‘

قرآن کریم کے بارے میں بعض بے بنیاد تصورات میں سے ایک تصور یہ ہے کہ تیسرے خلیفۂ اسلام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بہت سے باہم متضاد نسخوں میں سے قرآن کریم کے ایک نسخے کی توثیق اور تدوین کی۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم جو آج بطور کلامِ الٰہی دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہے، وہی قرآن کریم ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذاتی نگرانی میں اس کی کتابت کرائی اور بنفس نفیس اس کی توثیق فرمائی۔ آئیے! اس بے بنیاد تصور کی حقیقت کا جائزہ لیں جس کے مطابق دعوٰی کیا جاتا ہے کہ قرآن کی تدوین و توثیق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے کی گئی۔

نبوی سرپرستی میں تدوینِ قرآن

جب بھی نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی، سب سے پہلے آپ اسے زبانی یاد کرتے اور اس کے بعد اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سناتے اور ہدایت فرماتے کہ جو اسے حفظ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوگا۔آپ بلاتاخیر کا تبانِ وحی کو حکم دیتے کہ نازل ہونے والی وحی کو لکھ لیں۔ اس کے بعد بذاتِ خود ان سے سن کر اس کی توثیق فرماتے۔ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم امی تھے اور لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، لہٰذا ہر نزولِ وحی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے سامنے اسے دہراتے تھے۔ وہ بذریعہ وحی نازل ہونے والی آیات لکھ لیا کرتے تھے اور نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تحریر کردہ آیات کی صحت کا جائز ہ لینے کے لیے صحابہ سے فرماتے کہ جو کچھ لکھا گیا ہے پڑھ کر سناؤ۔ اگراس میں کوئی غلطی ہوتی تو نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نشاندہی فرماتے، اس کی تصحیح کراتے اوردوبارہ اس کی پڑتال فرماتے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی حفظ کردہ آیات ِ قرآنی اور سورتیں ان سے سنا کرتے اوران کی توثیق فرماتے تھے۔ اسی طریقے سے پورے قرآن کریم کی کتابت نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی نگرانی میں انجام دی گئی۔

ترتیبِ قرآن وحی الٰہی کے مطابق ہے

پوراقرآن کریم ساڑھے بائیس برس کی مدت میں تھوڑا تھوڑا کرکے حسب ضرورت نازل ہوا۔ نبی ٔ کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی تدوین وحی کی زمانی ترتیب کے مطابق نہیں فرمائی۔ قرآنی آیات اور سورتوں کی ترتیب وحی ٔ الٰہی کے تحت قائم کی گئی اور اللہ کی جانب سے اس کا حکم حضرت جبرائیلعلیہ السلام کے ذریعے سے نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا گیا ۔ جب بھی نازل شدہ آیات صحابہ کرامرضی اللہ عنہم کو سنائی جاتیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرمادیتے کہ نازل ہونے والی آیات کو کونسی سورت میں اور کن آیات کے بعد شامل کیا جائے۔

ہر رمضان میں نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے نازل شدہ حصوں کی، ترتیب ِآیات کے ساتھ،دہرائی فرماتے اور توثیق جبرائیل امین کے ذریعے سے کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے قبل آخری رمضان المبارک میں قرآن کریم کی تصدیق وتوثیق دو مرتبہ انجام دی گئی، لہٰذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں خود قرآن کریم کی تدوین اور توثیق فرمائی اور یہ تدوین و توثیق قرآن مجید کی کتابت اور آپ کے متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے حفظ قرآن، دونوں صورتوں میں ہوئی۔

کتابت ِ قرآن کی تکمیل عہدِ نبوی میں ہوئی

نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکمل قرآن مجید، آیات کی صحیح ترتیب اور سیاق و سباق کے ساتھ موجود تھا، تاہم اس کی آیات الگ الگ چمڑے کے ٹکڑوں، پتلے ہموار پتھروں، درختوں کے پتوں، کھجور کی شاخوں اوراونٹ کے شانوں کی ہڈیوں وغیرہ پر تحریر کی گئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد پہلے خلیفۂ اسلام حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پر مختلف اشیاء پر لکھے گئے قرآن کے حصوں کو ایک ہی چیز پر تحریر کرکے یکجا کردیاگیا اور یہ اوراق کی صورت میں تھا۔ اوران اوراق کو ڈوریوں کے ساتھ باندھ دیا گیا تاکہ جمع شدہ قرآن کا کوئی حصہ گم نہ ہونے پائے۔ قرآن پاک کا یہ نسخہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے پاس رہا حتی کہ انھوں نے وفات پائی، پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ان کے پاس تھا، پھر یہ نسخہ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی تحویل میں رہا لیکن اس کی اشاعت نہیں ہوئی۔

[صحیح البخاری، فضائل القرآن ، باب جمع القرآن ، حدیث :4986]

نقولِ قرآن

تیسرے خلیفہ حضرت عثمان ر ضی اللہ عنہ کے دور میں قرآن مجید کے بعض الفاظ کے املا اور تلفظ کے بارے میں اختلاف نے سر اٹھایا۔ املا اور تلفظ کے اختلاف سے معنی پر کوئی اثر نہ پڑتا تھا مگر نومسلم عجمیوں کے لیے اس کی بڑی اہمیت ہوگئی۔ ہر جگہ لوگ اپنی قراء ت کو صحیح اور دوسروں کی قراء ت کو غلط قراردینے لگے، اسی لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاسے قرآن مجید کا اصل نسخہ مستعار لیا جس کے متن کی توثیق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول کے فرمان کے مطابق قرآن کی کتابت کرنے والے چار صحابیوں کو، جن کی قیادت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی، یہ حکم دیا کہ وہ مکمل قرآن مجید کی متعدد نقول تیار کریں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ نقول مسلمانوں کے بڑے بڑے مراکز میں بھجوادیں۔

بعض لوگوں کے پاس قرآن کے بعض حصوں کے ذاتی مجموعے موجود تھے۔ عین ممکن تھا کہ یہ نامکمل ہوں اوران میں غلطیاں بھی موجود ہوں، چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی تمام نقول نذر آتش کردیں جو اصل نسخۂ قرآنی سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں تاکہ قرآن کا اصل متن محفوظ کیا جاسکے۔ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے توثیق شدہ اصل قرآن کے متن سے نقل کردہ قرآن کی دو ایسی نقول آج بھی دستیاب ہیں۔ ان میں ایک تاشقند (ازبکستان) کے عجائب گھر میں اور دوسری استنبول (ترکی) کے توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

اِعراب ِ قرآن

قرآن مجید کے اصل مسودے میں حرکات اور اعراب کی علامتیں ظاہر نہیں کی گئی تھیں۔ ان میں تین اہم علامتوں کو اردو زبان میں زبر، زیر، پیش اور عربی میں فتحہ، ضمہ اور کسرہ کہا جاتا ہے۔ شد، مد اورجزم وغیرہ ان کے علاوہ ہیں۔ عربوں کوقرآن مجید کے صحیح تلفظ کی ادائیگی کے لیے ان علامات کی کوئی حاجت نہیں تھی کیونکہ عربی ان کی مادری زبان تھی، تاہم غیر عرب مسلمانوں کے لیے اعراب کے بغیر قرآن کی صحیح تلاوت مشکل تھی، چنانچہ یہ علامتیں بنو امیہ کے پانچویں خلیفہ عبدا لملک بن مروان کے عہد (66ھ تا86ھ بمطابق 685ء تا705ء) اور عراق میں حجاج کی گورنری کے دور میں قرآنی رسم الخط میں شامل کی گئیں۔

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجیدکا موجودہ متن جس میں حرکات اور اعراب شامل ہیں، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا اصل قرآن نہیں ہے لیکن وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ قرآن کا لغوی مطلب تلاوت یا بار بار پڑھی جانے والی چیز ہے، لہٰذا قطع نظر اس سے کہ رسم الخط مختلف ہے یا یہ کہ اس میں حرکات وغیرہ شامل کردی گئی ہیں، اہم بات قرآن کریم کی تلاوت کی صحت ہے۔ اگر عربی متن اور اس کا تلفظ وہی ہے جو ابتدا میں تھا تو لازمی طورپر اس کے معانی بھی وہی رہیں گے۔

حفاظت ِقرآن

اللہ نے قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ خود فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ }

’’بلاشبہ ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘

[ الحجر :15/9]

اسلام پر 40 اعتراضات کے عقلی و نقلی جواب

مصنف: ڈاکٹر ذاکر عبدالکریم نائیک