سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کی بوچھاڑ کرنے کا ٹھوس منصوبہ
علی محمد الصلابیخلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں معاشرہ مختلف عوامل و اسباب کی وجہ سے جھوٹی افواہوں پر کان دھرنے کے لیے آمادہ اور اپنے اندر پیدا کردہ دراڑوں کو برداشت کرنے کے قابل ہو چکا تھا۔ اصحاب فتنہ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نام پر خلیفۃ المسلمین کے امراء میں کیڑے نکالنے پر اتفاق کر لیا تھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی۔ خلیفۃ المسلمین پر جو اعتراضات کیے گئے اور جن کی وجہ سے انہیں ہدف تنقید بنایا گیا، وہ درج ذیل ہیں:
1۔ منصب خلافت سنبھالنے سے قبل ان کا ذاتی کردار، یعنی بعض غزوات اور مواقع سے ان کا غائب رہنا۔
2۔ ان کا طرز حکمرانی: اپنے قرابت داروں کو والی مقرر کرنا اور منصب ولایت کی تفویض کا طریقہ کار۔
3۔ ان کی اپنی ذات یا امت کی مصلحت کی خاطر ان کے اجتہادات (منیٰ میں پوری نماز پڑھنا، قرآن جمع کرنا، مسجد نبوی میں توسیع کرنا)
4۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم مثلاً عمار، ابو ذر اور عبداللہ بن مسعود کے ساتھ ان کا برتاؤ۔
میں نے ان اعتراضات کے حوالے سے سیدنا عثمان کا موقف اپنی کتاب ’’تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ امیر المومنین عثمان بن عفان شخصیتہ و عصرہ‘‘ میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کی زندگی میں یا ان کی شہادت کے بعد ان پر جتنے بھی اعتراضات کیے گئے اور جن جن لوگوں کی طرف سے بھی کیے گئے وہ صحیح نہیں ہیں اور وہ اس حد تک نہیں پہنچتے تھے کہ ان کی وجہ سے خلیفہ راشد کو قتل کر دیا جاتا۔
(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 400)
مذکورہ بالا اعتراضات پر مشتمل روایات جو کہ تاریخ طبری اور دیگر کتب تاریخ میں مندرج ہیں اور جو غیرمعروف راویوں اور ضعیف مورخین اور خاص طور پر شیعہ سے مروی ہیں وہ ہمیشہ سے خلفاء اور ائمہ کی سیرت کے حقیقی پہلؤوں کے لیے ایک بڑی آفت بنی رہی ہیں۔ خصوصاً وہ روایات جو اضطراب و فتن کے دور سے متعلق ہیں۔ افسوس کہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی سیرت کو ان خرافاتی روایات سے وافر حصہ ملا۔ پیچیدہ انداز میں احداث و واقعات کو روایت کرنا اور لا اصل امور کو وضع کرنا غالی قسم کے منحرفین کی ایسی کارستانی ہے جس سے مقصود ان لوگوں کی روشن و نیر سیرت کو داغدار کرنا ہے اور جس کا ادراک خود سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی ہو گیا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے امراء کے نام لکھا: لوگوں نے انتشار پھیلانا شروع کر دیا ہے اور وہ شر کی طرف مائل ہو رہے ہیں، اور ایسا تین وجوہ سے ہو رہا ہے: دنیا کو ترجیح دینا، نفسانی خواہشات کی فوری تسکین چاہنا اور دلوں میں کینہ رکھنا۔
(التمہید و البیان: صفحہ 64)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر لگائے گئے ان الزامات و اتہامات کے بارے میں ابن العربی فرماتے ہیں: وہ کاذب راویوں کی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے ازراہ ظلم و زیادتی یہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دوران مظالم کا ارتکاب کیا اور غیر معروف طور طریقے اپنائے مگر سند اور متن کے اعتبار سے یہ سب کچھ باطل ہے۔
( دراسات فی عہد النبوۃ: صفحہ 401)