Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لوگوں کو اشتعال دلانے والے اسالیب و وسائل کا استعمال

  علی محمد الصلابی

باغی عناصر بھی محفلوں میں لوگوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بھڑکاتے، ان سے مناظرہ کرتے، لوگوں کے سامنے ان سے جھگڑا کرتے، ان کے امراء پر لعن طعن کرتے اور عائشہ، علی، طلحہ اور زبیر جیسے اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف سے جھوٹے خطوط تحریر کرتے اور انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے۔ انہوں نے اس بات کی بڑی تشہیر کی کہ خلافت کے اصل حق دار علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ تھے اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ان کے لیے خلافت کی وصیت کی تھی۔ انہوں نے کوفہ، بصرہ اور مصر ایسے شہروں میں کچھ گروہوں کو بھی منظم کیا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سب کچھ ایک منصوبے کے تحت ہو رہا تھا۔ انہوں نے اہل مدینہ کو یہ تاثر دیا کہ ہم یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دعوت پر آئے ہیں، پھر انہوں نے معاملات کو یہاں تک بھڑکایا کہ بات خلیفۃ المسلمین کی شہادت تک جا پہنچی۔

(دراسات فی عہد النبوۃ: صفحہ 401)

جھوٹے پروپیگنڈہ کے ان وسائل کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے لوگوں سے یہ کہنا بھی شروع کر دیا کہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے روا رکھے گئے مظالم کے خلاف جہاد کر رہے ہیں اور ہم صرف امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ولاۃ الامر کو معزول کر کے ان کی جگہ نئے لوگوں کا تقرر کیا جائے، پھر اس سے آگے بڑھ کر وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی دست برداری کا مطالبہ کرنے لگے، پھر سرکشی پر مبنی ان کی جرأت اس حد تک بڑھ گئی کہ انہوں نے خلیفۃ المسلمین کو شہید کر ڈالا۔ انہوں نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب انہیں یہ خبر ملی کہ مختلف شہروں سے لوگ ان کی نصرت و معاونت کے لیے مدینہ منورہ کی طرف بڑھ رہے ہیں جس سے ان کے خلیفہ رضی اللہ عنہ کا گھلا گھونٹ دینے کے جذبات مزید بھڑکے اور انہیں یہ شوق چرایا کہ جس طرح بھی بن پائے انہیں فوراً قتل کر دیا جائے۔

(گزشتہ حوالہ: صفحہ 420)