Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتنہ سبائیت کے بارے میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

یہ 33ھ کی بات ہے کہ ایک والی کوفہ سعید بن العاصؓ ایک عام مجلس میں چند لوگوں کے ساتھ بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ سبائی گروہ کے چند خارجی اس مجلس کو تہ و بالا کرنے اور فتنہ کی آگ بھڑکانے کے لیے اس میں گھس آئے۔ سعید بن العاصؓ اور حاضرین مجلس میں سے ایک شخص خنیس بن حبیش اسدی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تو ان کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو گیا۔ اس مجلس میں سات فتنہ بردار خارجی بھی بیٹھے ہوئے تھے جن میں جندب الازدی، اشتر نخعی، ابن الکوّاء اور صعصعہ بن صحوان بھی شامل تھے۔ فتنہ پرداز اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھری مجلس میں خنیس اسدی کو مارنے لگے اور جب اس کا باپ اس کی مدد کرنے اور اسے ان سے چھڑانے کے لیے آگے بڑھا تو انہوں نے اسے بھی مارنا شروع کر دیا۔ سعید بن العاصؓ نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو وہ پھر بھی مار پیٹ سے باز نہ آئے۔ حتی کہ شدید زد و کوب کی وجہ سے دونوں باپ بیٹا بے ہوش ہو گئے۔ ادھر سے بنو اسد اپنے آدمیوں کا بدلہ لینے کے لیے آن پہنچے۔ قریب تھا کہ فریقین میں لڑائی شروع ہو جاتی مگر سعیدؓ نے معاملہ رفع دفع کرا دیا۔ جب اس واقعہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو انہوں نے سعید بن العاصؓ سے کہا کہ وہ اس معاملہ کو حکمت کے ساتھ نمٹائیں اور جس طرح بھی ممکن ہو فتنہ کو دبانے کی کوشش کریں۔ واقعہ کے بعد خوارج اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور خلیفۃ المسلمین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، والی کوفہ سعید بن العاصؓ اور کوفہ کے سر کردہ لوگوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈہ کی زوردار مہم شروع کر دی۔ اہل کوفہ نے ان سے تنگ آ کر سعید بن العاصؓ سے انہیں سزا دینے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے روک رکھا ہے۔ اگر تمہارا یہ ارادہ ہے تو اس سے انہیں مطلع کر دو۔ اس پر کوفہ کے معززین اور صلح جو لوگوں نے اس گروہ کے بارے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا کہ انہیں شہر سے نکال دیا جائے اس لیے کہ یہ فسادی اور تخریب کار لوگ ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے مطالبہ پر سعید بن العاصؓ کو حکم دیا کہ وہ ان لوگوں کو کوفہ سے نکال دیں۔ ان کی تعداد دس سے کچھ زائد تھی۔ سعیدؓ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم پر انہیں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیج دیا۔ ادھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہؓ کو ان لوگوں کے بارے میں ایک خط کے ذریعہ سے فرمایا: اہل کوفہ نے کچھ فتنہ پرداز لوگوں کو اپنے شہر سے نکال کر تمہارے پاس بھجوایا ہے، آپ ان پر دباؤ ڈال کر ان کی اصلاح کی کوشش کریں اور اگر ان میں اچھائی محسوس کریں تو ان کی معذرت قبول کر لیں۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 324)

جن لوگوں کو شام جلاوطن کیا گیا تھا ان میں اشتر نخعی، جندب ازدی، صعصعہ بن صحوان، سہیل بن زیاد، عمیر بن صنابی، اور ابن الکوّاء بھی شامل تھے۔

(الخلفاء الراشدون: صفحہ 131)

جب یہ لوگ شام پہنچے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔ ان کی خوب مہمان نوازی کی اور سیدنا عثمان غنیؓ کے حکم سے انہیں وہی روزینہ اور سہولتیں فراہم کیں جو انہیں عراق میں فراہم کی جاتی تھیں۔ سیدنا معاویہؓ ان کی دلجوئی کے لیے صبح و شام کا کھانا بھی ان کے ساتھ کھایا کرتے۔ ایک دن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے: تم عربوں کی ایک معزز قوم ہو۔ تم لوگوں نے اسلام کی وجہ سے عز و شرف حاصل کیا۔ تم دوسری امتوں پر غالب آ گئے اور ان کا سب کچھ خود سمیٹ لیا مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم قریش سے ناراض ہو، مگر یاد رہے کہ اگر قریش نہ ہوتے تو تم ہمیشہ کی طرح ذلیل اور کمزور رہتے اور گمنامی کی زندگی گزارتے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بات کا ادراک تھا کہ سیدنا معاویہؓ مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے بہرہ مند ہیں۔ فصاحت و بلاغت اور ہمت و حوصلہ سے متصف ہیں اور اپنی ذہانت و ہیبت کی وجہ سے فتنوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سامنے جب بھی کوئی مشکل اور پیچیدہ معاملہ آتا وہ اسے حل کرنے کے لیے سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس بھیج دیتے۔ اب کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے میل جول رکھا، ان کے ساتھ بیٹھا کرتے۔ اس سے قبل کہ وہ ان کے بارے میں موصولہ معلومات کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی فیصلہ کرتے ان سے میل ملاپ کے ذریعے سے ان کی اندر کی باتوں سے آگاہی حاصل کی۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 324)

جب سیدنا امیر  معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے وحشت کا ازالہ کر دیا اور اپنے اور ان کے درمیان حائل تکلف کے پردہ کو ہٹا دیا تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ انہیں تحریک دینے والی اصل چیز ان کی قبائلی نخوت اور غرور ہے اور حکومت و برتری کی خواہش نے انہیں بھڑکا رکھا ہے، لہٰذا ان کے ساتھ دو زاویوں سے بات کرنا ضروری ہے:

1۔ عربوں کی عزت و قوت میں اسلام کا کردار و اثر۔

2۔ اسلام کی اشاعت میں قریش کا کردار اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے سامنے قبل از اسلام عربوں کی صورت حال کی وضاحت کی کہ کس طرح وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ایسی امت واحدہ میں تبدیل ہو گئے جو ایک ہی امام کے تابع تھی۔ انہوں نے طوائف الملوکی، بدنظمی اور خونریزی کو خیرباد کہہ دیا اور بدبودار قبائلی تعصب سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

(معاویۃ بن ابی سفیان: از منیر غضبان: صفحہ 101)

آپ نے ان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا: تمہارے ائمہ تمہارے لیے ڈھال ہیں اور تم اپنی ڈھال سے انحراف نہ کرو، تمہارے ائمہ تمہارے ظلم و جور کو برداشت کرتے اور پھر تمہاری ہی طرف سے پریشان بھی رہتے ہیں۔ اللہ کی قسم! تم یا تو اپنی اس روش سے باز آ جاؤ گے یا پھر اللہ تمہاری ان لوگوں کے ذریعے آزمائش کرے گا جو تمہیں سختی کا مزہ چکھائیں گے۔ اگر تم ان کی سختیوں پر صبر کرو تو وہ اس کے لیے تمہارے قدر دان نہیں ہوں گے۔ پھر تم اپنی رعیت پر جو مظالم ڈھاؤ گے تو تم دنیا میں بھی ان کے شراکت دار ہو گے اور آخرت میں بھی۔ ان کی یہ باتیں سن کر ان میں سے ایک شخص کہنے لگا: یہ جو تم نے قریش کی بات کی، تو وہ دوسرے عربوں سے کوئی زیادہ نہیں تھے اور نہ وہ زمانہ جاہلیت میں ان سے زیادہ طاقتور تھے۔ لہٰذا آپ ان سے ہمیں نہ ڈرائیں اور یہ جو آپ نے ڈھال کا ذکر کیا، تو جب ڈھال پھٹے گی تو ہمارے لیے میدان صاف ہو جائے گا۔ ان کی یہ باتیں سن کر سیدنا امیر  معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اب تمہاری حقیقت سے آگاہ ہوا ہوں۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہاری کم عقلی نے تمہیں ان کاموں کے لیے بھڑکایا ہے۔ مگر مجھے تجھ میں عقل نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی، میں تیرے سامنے اسلام کی عظمت بیان کر رہا ہوں اور تجھے اسلام یاد دلا رہا ہوں جبکہ تو مجھے دور جاہلیت یاد دلا رہا ہے۔ میں نے تجھے پند و نصیحت کی اور آپ نے اپنی ہی ڈھال کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ وہ ٹوٹ اور پھٹ جائے گی۔ اللہ ان لوگوں کو ذلیل کرے جنہوں نے تمہارے معاملہ کو اہمیت دی اور تم لوگوں کو خلیفہ کے سامنے پیش کر دیا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 324)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جان چکے تھے کہ ان لوگوں کو سرسری سا اشارہ مطمئن نہیں کر سکے گا، لہٰذا ان کے سامنے قریش کی اولین صورت حال کو بالتفصیل بتانا ضروری ہے، چنانچہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قریش کو زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام میں صرف اللہ عزوجل کی وجہ سے عزت نصیب ہوئی۔ یہ درست ہے کہ قبیلہ قریش عربوں کا اکثریتی قبیلہ نہیں تھا اور نہ وہ سب سے زیادہ طاقتور ہی تھا تاہم وہ حسب و نسب میں سب سے زیادہ شریف اور معزز تھا۔ اس کا مقام و مرتبہ سب سے بلند تھا اور وہ شرافت و مروت میں کامل ترین تھے۔ دور جاہلیت میں لوگ ایک دوسرے کو کھائے جا رہے تھے مگر اللہ کے فضل و کرم سے یہ قبیلہ ایسی صورت حال سے محفوظ تھا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جسے عزت سے نوازتا ہے اسے ذلیل نہیں کرتا اور جسے سربلند کرتا ہے اسے کا سرنگوں نہیں کرتا، کیا تم نہیں جانتے کہ عربی ہوں یا عجمی، کالے ہوں یا گورے، ہر قوم پر کسی بیرونی قوت نے ضرور حملہ کیا اور ان کے ملک کی عزت و حرمت کو نقصان پہنچایا مگر قریش اس آفت سے محفوظ رہے۔ جس کسی نے بھی انہیں نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا اللہ نے اس کا سر نیچا کیا اور قبیلہ قریش کو عزت بخشی پھر اللہ رب العزت نے اس قبیلہ کو مزید عزت سے نوازا، اسے دنیا کی ذلت اور آخرت کے انجام بد سے نجات دلوائی تو اللہ تعالیٰ نے اسی قبیلہ سے بہترین شخص کا انتخاب کیا۔ پھر ان کے لیے ان کے ساتھیوں کا انتخاب کیا، چنانچہ ان کے بہترین صحابہ رضی اللہ عنہم قریش ہی میں سے تھے۔ پھر ان لوگوں نے اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی اور اللہ نے خلافت بھی ان لوگوں میں رکھی اور اس کے لیے زیادہ موزوں بھی یہی لوگ تھے۔ جب اللہ رب العزت نے قریش کو اس وقت محفوظ و مامون رکھا جب وہ اس کے منکر تھے تو کیا وہ ان کی اس وقت حفاظت نہیں فرمائے گا جب وہ اپنے آباء و اجداد کے دین کو ترک کر کے اس کے دین کو قبول کر چکے ہیں؟ دورِجاہلیت میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو ان بادشاہوں سے محفوظ و سالم رکھا جو تم پر غالب آ گئے تھے۔ افسوس ہے تجھ پر اور تیرے ان ساتھیوں پر، کاش تیرے علاوہ کوئی اور شخص مجھ سے بات کرتا۔ آپ نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا: اے صعصعہ! اس زمانہ میں تیری بستی عرب کی بدترین بستی تھی۔ اس کی پیداوار سب سے زیادہ بدبودار اور اس کی وادی دوسری تمام وادیوں سے زیادہ عمیق تھی اور جو شر و فساد میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی تھی اور یہ اپنے پڑوسیوں کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔ اس بستی میں جب بھی کسی شخص نے قیام کیا وہ شریف ہو یا رذیل اس پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی اور اسے بدنام کر دیا گیا۔ وہاں کے رہنے والے سب لوگ تمام عربوں میں بدنام تھے۔ ہر ایک سے لڑنا جھگڑنا ان کا شیوہ تھا اور وہ ایرانیوں کے زیر تسلط تھے۔ جب تمہارے پاس اسلام کی دعوت پہنچی تو تم نے مدینہ منورہ آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہ کیا، بلکہ تو اس وقت عمان میں رہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں شریک بھی نہ ہوا۔ تو تو اپنی قوم کا بدترین شخص ہے۔ یہاں تک کہ جب اسلام نے تجھے نمودار کیا اور تو مسلمانوں کے ساتھ مل کر ان لوگوں پر غالب آیا جو قبل ازیں تم پر غالب تھے تو تو اللہ کے دین میں کج روی اختیار کرنے لگا اور پھر آہستہ آہستہ ذلت و رسوائی کے کاموں کی طرف مائل ہونے لگا، مگر قریش ایسا نہیں کرتے۔ تیری ان حرکتوں کی وجہ سے قریش کی عظمت میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور نہ تو انہیں کوئی نقصان ہی پہنچا سکے گا اور اس طرح تم انہیں ان کے فرائض کی ادائیگی سے روک نہیں سکو گے۔ یاد رکھنا کہ شیطان تم سے غافل نہیں ہے، اس نے شر پھیلانے کے لیے تمہاری قوم سے تمہیں چن لیا ہے اور وہ تمہارے ذریعہ سے لوگوں کو فریب دے رہا ہے، شیطان اپنے مقاصد میں کامیاب ہوا اور تم لوگوں پر غالب آ گیا۔ مگر اسے اس بات کا بھی بخوبی علم ہے کہ وہ تمہارے ذریعے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو رد نہیں کر سکتا اور نہ اس کے ارادوں میں دخل اندازی ہی کر سکتا ہے، لہٰذا تم اپنی شرارتوں میں کبھی کامیاب نہ ہو سکو گے۔ البتہ وہ تمہارے لیے برائی کا دروازہ کھول کر تمہیں ضرور ذلیل کرے گا۔

اس کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں یہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد یہ لوگ باہم مشورہ کرنے لگے مگر کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر رہے۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 326) 

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مطمئن کرنے کے لیے اپنی تمام فکری، سیاسی اور ثقافتی صلاحیتیں کھپا دیں۔

تھوڑے دنوں کے بعد سیدنا معاویہؓ ان کے پاس دوبارہ آئے اور ان سے دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اس دوران سیدنا معاویہؓ نے فرمایا: مجھے یا تو کوئی اچھا جواب دو یا پھر خاموش رہو۔ تم لوگ وہ بات سوچو جو تمہیں اور تمہارے اہل خانہ کو فائدہ دے جو تمہارے قبائل کے لیے بھی نفع بخش ہو اور مسلمانوں کی جماعت کے لیے بھی۔ تم خود بھی زندہ رہو اور ہمیں بھی زندہ رہنے دو۔ اس کے جواب میں صعصعہ نے کہا: تم حکومت کے لیے اہل نہیں ہو اور تمہاری اطاعت میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں گفتگو کے آغاز میں اللہ سے ڈرنے، اس کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کی تلقین نہیں کی تھی؟ اور کیا میں نے تمہیں یہ نہیں کہا تھا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر اٹھو اور تفرقہ بازی سے پرہیز کرو؟ وہ کہنے لگے: تم نے تفرقہ بازی کا حکم دیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف بات کہی تھی۔ سیدنا امیر معاویہؓ کہنے لگے: اگر میں نے ایسی کوئی بات کی تھی تو میں اللہ تعالیٰ کے حضور معافی کا خواستگار ہوں۔ اب میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم اللہ سے ڈرو۔ اس کی اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔ جماعت کو لازم پکڑو، تفرقہ بازی سے نفرت کرو۔ اپنے ائمہ کی عزت کرو اور جہاں تک ہو سکے ان کے ساتھ خیر خواہی کرو اور اگر ان میں کوئی برائی دیکھو تو انہیں نرمی کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرو۔ یہ سن کر صعصعہ کہنے لگا: ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنے کام سے الگ ہو جاؤ اس لیے کہ مسلمانوں میں تم سے زیادہ باصلاحیت اور اس کام کے لیے موزوں اور لوگ بھی موجود ہیں۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ کون ہیں؟

اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جن کے آباء نے تمہارے آباء سے اور خود انہوں نے تم سے زیادہ اچھے اسلامی کارنامے انجام دیے ہیں۔ اس پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اسلام میں بڑا اچھا کردار ادا کیا ہے۔ یقیناً دوسرے لوگوں نے مجھ سے بھی بہتر اسلامی کارنامے انجام دیے ہوں گے مگر میرے زمانے میں مجھ سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں ہے اور نہ اس کام کے لیے مجھ سے زیادہ کوئی موزوں ہی ہے۔ میرے اس موزوں ہونے کو دیکھ کر ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے میرا انتخاب کیا تھا۔ اگر مجھ سے زیادہ اس کام کا کوئی اور اہل ہوتا تو وہ میرا انتخاب نہ کرتے۔ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے میں اپنے اس منصب سے الگ ہو جاؤں۔ اگر امیر المؤمنینؓ مجھ میں ایسی کوئی بات دیکھتے تو وہ مجھے اپنے ہاتھ سے خط لکھتے اور میں اپنے عہدے سے الگ ہو جاتا اور اگر اللہ کا یہی فیصلہ ہے تو مجھے امید ہے کہ اس سے بہتر کوئی صورت نکل آئے گی۔ مگر یاد رہے کہ تمہاری یہ باتیں شیطان کی تمنائیں ہیں اور وہی تمہیں ان باتوں کا حکم دیتا ہے۔ مجھے میری بقاء کی قسم! اگر تمہاری تمناؤں اور آراء کے مطابق فیصلے ہوا کرتے تو مسلمانوں کے معاملات کبھی درست نہ ہوتے اور یہ نظام ایک دن بھی نہ چل سکتا، مگر یہ ذات باری تعالیٰ ہی ہے جو ان معاملات کو سدھار رہی ہے اور وہی انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچائے گی۔ تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ تم نیکی کی طرف لوٹو اور خیر خواہی کی باتیں کرو۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی یہ بات پھر دہرائی کہ تم اس منصب کے اہل نہیں ہو۔ انہوں نے فرمایا: سنو! اللہ کی گرفت بڑی سخت ہوتی ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر تم اسی طرح شیطان کی اتباع کرتے رہے اور رب تعالیٰ کی نافرمانی سے باز نہ آئے تو اس کا قہر و غضب تمہیں اس دنیا میں بھی ذلیل و خوار کرے گا اور آخرت میں بھی۔ اس پر یہ لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر جھپٹے اور انہیں سر اور داڑھی سے پکڑ لیا۔ اس پر انہوں نے فرمایا: رک جاؤ یہ کوئی کوفہ نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اہل شام کو یہ معلوم ہو جائے کہ تم نے ان کے امام کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے تو میں انہیں تمہیں قتل کرنے سے نہیں روک سکوں گا، پھر سیدنا امیر معاویہؓ ان کے پاس سے اٹھ گئے اور فرمایا: میں آئندہ کے لیے تمہیں یہاں آنے کے لیے نہیں کہوں گا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 330)

اہل کوفہ کو مطمئن کرنے کے لیے امیر شام سیدنا معاویہ کی یہ آخری کوشش تھی جس میں انہوں نے حلم و حوصلہ سے کام لیتے ہوئے اپنی طرف سے پوری پوری کوشش کی کہ انہیں کسی طرح فتنہ و فساد اور شرپسندی سے باز رکھیں۔ اسی دوران آپ نے انہیں اللہ سے ڈرنے، اس کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے، جماعت سے وابستہ رہنے اور فرقہ بازی سے باز رہنے کی تلقین فرمائی۔

مگر انہوں نے بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ تمہاری اطاعت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مگر انہوں نے وسیع ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ میں تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری کی تلقین کر رہا تھا اور اگر تمہارے خیال میں میں نے ایسا نہیں کہا تو میں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں اور اب تمہیں اس کی اطاعت گزاری اور جماعت سے وابستگی کی دعوت دیتا ہوں۔ مگر انہوں نے ان کی پند و نصیحت سے تو کیا متاثر ہونا تھا الٹا ان سے یہ کہہ دیا کہ ہم تمہیں اپنے عہدے سے الگ ہونے کا حکم دیتے ہیں اس لیے کہ تم اس عہدے کے لیے موزوں نہیں ہو مسلمانوں میں تم سے زیادہ بہتر اور باصلاحیت لوگ بھی موجود ہیں۔ مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی اس اشتعال انگیزی کا جواب بھی بڑے تحمل اور بردباری سے دیا۔ جو کہ چھ اہم اور اساسی نکات پر مشتمل تھا:

1۔ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے بڑی خدمات سر انجام دی ہیں اور یہ کہ وہ اپنے بھائی یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کی موت سے لے کر آج تک شامی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

2۔ اگرچہ مسلمانوں میں ان سے بہتر لوگ موجود ہیں اور جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے بڑی بڑی تکالیف برداشت کی ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ میں شام کے اسلامی محاذ کا دفاع کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت اور طاقت رکھتا ہوں۔

3۔ اپنے امراء اور ولاۃ کی کڑی نگرانی کرنے والے اور انہیں راہ راست پر رکھنے والے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے جو کہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی کوئی پروا نہیں کیا کرتے تھے اگر وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں کوئی کوتاہی یا انحراف دیکھتے تو اسے اپنی خلافت کے سارے عرصہ کے دوران اس عہدے پر بحال نہ رکھتے۔ جبکہ ان سے قبل خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں اپنے بعض اعمال کا والی مقرر فرمایا اور انہیں کاتب وحی کا منصب سونپے رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں ولایت تفویض کی اور ان کی صلاحیت پر کسی نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا۔

4۔ عہدے سے برطرفی کے کچھ اسباب ہوا کرتے ہیں مگر داعیان فتنہ و فساد کے پاس وہ کون سی دلیل اور اساس ہے جس کی بنا پر وہ مجھ سے معزولی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

5۔ کسی کو عہدے پر برقرار رکھنا یا کسی کو اس سے ہٹا دینا تمہارے اختیار میں نہیں ہے، یہ اختیار صرف امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ہے، امراء کی تعیین اور معزولی کا صرف وہی استحقاق رکھتے ہیں۔

6۔ اگر خلیفۃ المسلمین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مجھے معزول کر دیں گے تو میں کھلے دل سے ان کے حکم کی تعمیل کروں گا اس لیے کہ مجھے یقین ہے کہ ان کا حکم سراسر خیر ہو گا۔ میں صرف امیر ہی نہیں ہوں بلکہ مامور بھی ہوں۔ خلیفہ المسلمین کے احکام کی تعمیل کرنا میری ذمہ داری ہے۔

(معاویۃ بن ابوسفیان: صحابی کبیر و ملک مجاہد: صفحہ 114 تا 117)

مگر اس مجلس کا اختتام انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ رہا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اللہ کے قہر و غضب سے خبردار کیا اور انہیں نخوت و غرور ترک کرنے کی نصیحت کی تو وہ اس کے جواب میں ان پر جھپٹے اور انہیں سر اور داڑھی سے پکڑ لیا۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتنہ پرور کوفی عناصر کو ڈانٹ پلائی اور سخت سست کہا۔ آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یوں ان لوگوں کا راہ حق پر لانا مشکل ہے، لہٰذا ان کی صورت حال سے امیر المومنین کو مطلع کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ان کے بارے میں خود کوئی فیصلہ کر سکیں۔

(معاویہ بن ابوسفیان از غضبان: صفحہ 117، 118)