فتنہ سبائیت کے بارے میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ…

فتنہ سبائیت کے بارے میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

یہ 33ھ کی بات ہے کہ ایک والی کوفہ سعید بن العاصؓ ایک عام مجلس میں چند لوگوں کے ساتھ بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ سبائی گروہ کے چند خارجی اس مجلس کو تہ و بالا کرنے اور فتنہ کی آگ بھڑکانے کے لیے اس میں گھس آئے۔ سعید بن العاصؓ اور حاضرین مجلس میں سے ایک شخص خنیس بن حبیش اسدی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تو ان کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو گیا۔ اس مجلس میں سات فتنہ بردار خارجی بھی بیٹھے ہوئے تھے جن میں جندب الازدی، اشتر نخعی، ابن الکوّاء اور صعصعہ بن صحوان بھی شامل تھے۔ فتنہ پرداز اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھری مجلس میں خنیس اسدی کو مارنے لگے اور جب اس کا باپ اس کی مدد کرنے اور اسے ان سے چھڑانے کے لیے آگے بڑھا تو انہوں نے اسے بھی مارنا شروع کر دیا۔ سعید بن العاصؓ نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو وہ پھر بھی مار پیٹ سے باز نہ آئے۔ حتی کہ شدید زد و کوب کی وجہ سے دونوں باپ بیٹا بے ہوش ہو گئے۔ ادھر سے بنو اسد اپنے آدمیوں کا بدلہ لینے کے لیے آن پہنچے۔ قریب تھا کہ فریقین میں لڑائی شروع ہو جاتی مگر سعیدؓ نے معاملہ رفع دفع کرا دیا۔ جب اس واقعہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو انہوں نے سعید بن العاصؓ سے کہا کہ وہ اس معاملہ کو حکمت کے ساتھ نمٹائیں اور جس طرح بھی ممکن ہو فتنہ کو دبانے کی کوشش کریں۔ واقعہ کے بعد خوارج اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور خلیفۃ المسلمین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، والی کوفہ سعید بن العاصؓ اور کوفہ کے سر کردہ لوگوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈہ کی زوردار مہم شروع کر دی۔ اہل کوفہ نے ان سے تنگ آ کر سعید بن العاصؓ سے انہیں سزا دینے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے روک رکھا ہے۔ اگر تمہارا یہ ارادہ ہے تو اس سے انہیں مطلع کر دو۔ اس پر کوفہ کے معززین اور صلح جو لوگوں نے اس گروہ کے بارے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا کہ انہیں شہر سے نکال دیا جائے اس لیے کہ یہ فسادی اور تخریب کار لوگ ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے مطالبہ پر سعید بن العاصؓ کو حکم دیا کہ وہ ان لوگوں کو کوفہ سے نکال دیں۔ ان کی تعداد دس سے کچھ زائد تھی۔ سعیدؓ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم پر انہیں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیج دیا۔ ادھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہؓ کو ان لوگوں کے بارے میں ایک خط کے ذریعہ سے فرمایا: اہل کوفہ نے کچھ فتنہ پرداز لوگوں کو اپنے شہر سے نکال کر تمہارے پاس بھجوایا ہے، آپ ان پر دباؤ ڈال کر ان کی اصلاح کی کوشش کریں اور اگر ان میں اچھائی محسوس کریں تو ان کی معذرت قبول کر لیں۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 324)

جن لوگوں کو شام جلاوطن کیا گیا تھا ان میں اشتر نخعی، جندب ازدی، صعصعہ بن صحوان، سہیل بن زیاد، عمیر بن صنابی، اور ابن الکوّاء بھی شامل تھے۔

(الخلفاء الراشدون: صفحہ 131)

جب یہ لوگ شام پہنچے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔ ان کی خوب مہمان نوازی کی اور سیدنا عثمان غنیؓ کے حکم سے انہیں وہی روزینہ اور سہولتیں فراہم کیں جو انہیں عراق میں فراہم کی جاتی تھیں۔ سیدنا معاویہؓ ان کی دلجوئی کے لیے صبح و شام کا کھانا بھی ان کے ساتھ کھایا کرتے۔ ایک دن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے: تم عربوں کی ایک معزز قوم ہو۔ تم لوگوں نے اسلام کی وجہ سے عز و شرف حاصل کیا۔ تم دوسری امتوں پر غالب آ گئے اور ان کا سب کچھ خود سمیٹ لیا مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم قریش سے ناراض ہو، مگر یاد رہے کہ اگر قریش نہ ہوتے تو تم ہمیشہ کی طرح ذلیل اور کمزور رہتے اور گمنامی کی زندگی گزارتے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بات کا ادراک تھا کہ سیدنا معاویہؓ مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے بہرہ مند ہیں۔ فصاحت و بلاغت اور ہمت و حوصلہ سے متصف ہیں اور اپنی ذہانت و ہیبت کی وجہ سے فتنوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سامنے جب بھی کوئی مشکل اور پیچیدہ معاملہ آتا وہ اسے حل کرنے کے لیے سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس بھیج دیتے۔ اب کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے میل جول رکھا، ان کے ساتھ بیٹھا کرتے۔ اس سے قبل کہ وہ ان کے بارے میں موصولہ معلومات کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی فیصلہ کرتے ان سے میل ملاپ کے ذریعے سے ان کی اندر کی باتوں سے آگاہی حاصل کی۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 324)

جب سیدنا امیر  معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے وحشت کا ازالہ کر دیا اور اپنے اور ان کے درمیان حائل تکلف کے پردہ کو ہٹا دیا تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ انہیں تحریک دینے والی اصل چیز ان کی قبائلی نخوت اور غرور ہے اور حکومت و برتری کی خواہش نے انہیں بھڑکا رکھا ہے، لہٰذا ان کے ساتھ دو زاویوں سے بات کرنا ضروری ہے:

1۔ عربوں کی عزت و قوت میں اسلام کا کردار و اثر۔

2۔ اسلام کی اشاعت میں قریش کا کردار اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے سامنے قبل از اسلام عربوں کی صورت حال کی وضاحت کی کہ کس طرح وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ایسی امت واحدہ میں تبدیل ہو گئے جو ایک ہی امام کے تابع تھی۔ انہوں نے طوائف الملوکی، بدنظمی اور خونریزی کو خیرباد کہہ دیا اور بدبودار قبائلی تعصب سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

(معاویۃ بن ابی سفیان: از منیر غضبان: صفحہ 101)

صفحہ 1 از 4