فتنہ سبائیت کے بارے میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ…

فتنہ سبائیت کے بارے میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں مطمئن کرنے کے لیے اپنی تمام فکری، سیاسی اور ثقافتی صلاحیتیں کھپا دیں۔

تھوڑے دنوں کے بعد سیدنا معاویہؓ ان کے پاس دوبارہ آئے اور ان سے دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اس دوران سیدنا معاویہؓ نے فرمایا: مجھے یا تو کوئی اچھا جواب دو یا پھر خاموش رہو۔ تم لوگ وہ بات سوچو جو تمہیں اور تمہارے اہل خانہ کو فائدہ دے جو تمہارے قبائل کے لیے بھی نفع بخش ہو اور مسلمانوں کی جماعت کے لیے بھی۔ تم خود بھی زندہ رہو اور ہمیں بھی زندہ رہنے دو۔ اس کے جواب میں صعصعہ نے کہا: تم حکومت کے لیے اہل نہیں ہو اور تمہاری اطاعت میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں گفتگو کے آغاز میں اللہ سے ڈرنے، اس کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کی تلقین نہیں کی تھی؟ اور کیا میں نے تمہیں یہ نہیں کہا تھا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر اٹھو اور تفرقہ بازی سے پرہیز کرو؟ وہ کہنے لگے: تم نے تفرقہ بازی کا حکم دیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف بات کہی تھی۔ سیدنا امیر معاویہؓ کہنے لگے: اگر میں نے ایسی کوئی بات کی تھی تو میں اللہ تعالیٰ کے حضور معافی کا خواستگار ہوں۔ اب میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم اللہ سے ڈرو۔ اس کی اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔ جماعت کو لازم پکڑو، تفرقہ بازی سے نفرت کرو۔ اپنے ائمہ کی عزت کرو اور جہاں تک ہو سکے ان کے ساتھ خیر خواہی کرو اور اگر ان میں کوئی برائی دیکھو تو انہیں نرمی کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرو۔ یہ سن کر صعصعہ کہنے لگا: ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنے کام سے الگ ہو جاؤ اس لیے کہ مسلمانوں میں تم سے زیادہ باصلاحیت اور اس کام کے لیے موزوں اور لوگ بھی موجود ہیں۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ کون ہیں؟

اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جن کے آباء نے تمہارے آباء سے اور خود انہوں نے تم سے زیادہ اچھے اسلامی کارنامے انجام دیے ہیں۔ اس پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اسلام میں بڑا اچھا کردار ادا کیا ہے۔ یقیناً دوسرے لوگوں نے مجھ سے بھی بہتر اسلامی کارنامے انجام دیے ہوں گے مگر میرے زمانے میں مجھ سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں ہے اور نہ اس کام کے لیے مجھ سے زیادہ کوئی موزوں ہی ہے۔ میرے اس موزوں ہونے کو دیکھ کر ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے میرا انتخاب کیا تھا۔ اگر مجھ سے زیادہ اس کام کا کوئی اور اہل ہوتا تو وہ میرا انتخاب نہ کرتے۔ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے میں اپنے اس منصب سے الگ ہو جاؤں۔ اگر امیر المؤمنینؓ مجھ میں ایسی کوئی بات دیکھتے تو وہ مجھے اپنے ہاتھ سے خط لکھتے اور میں اپنے عہدے سے الگ ہو جاتا اور اگر اللہ کا یہی فیصلہ ہے تو مجھے امید ہے کہ اس سے بہتر کوئی صورت نکل آئے گی۔ مگر یاد رہے کہ تمہاری یہ باتیں شیطان کی تمنائیں ہیں اور وہی تمہیں ان باتوں کا حکم دیتا ہے۔ مجھے میری بقاء کی قسم! اگر تمہاری تمناؤں اور آراء کے مطابق فیصلے ہوا کرتے تو مسلمانوں کے معاملات کبھی درست نہ ہوتے اور یہ نظام ایک دن بھی نہ چل سکتا، مگر یہ ذات باری تعالیٰ ہی ہے جو ان معاملات کو سدھار رہی ہے اور وہی انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچائے گی۔ تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ تم نیکی کی طرف لوٹو اور خیر خواہی کی باتیں کرو۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی یہ بات پھر دہرائی کہ تم اس منصب کے اہل نہیں ہو۔ انہوں نے فرمایا: سنو! اللہ کی گرفت بڑی سخت ہوتی ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر تم اسی طرح شیطان کی اتباع کرتے رہے اور رب تعالیٰ کی نافرمانی سے باز نہ آئے تو اس کا قہر و غضب تمہیں اس دنیا میں بھی ذلیل و خوار کرے گا اور آخرت میں بھی۔ اس پر یہ لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر جھپٹے اور انہیں سر اور داڑھی سے پکڑ لیا۔ اس پر انہوں نے فرمایا: رک جاؤ یہ کوئی کوفہ نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اہل شام کو یہ معلوم ہو جائے کہ تم نے ان کے امام کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے تو میں انہیں تمہیں قتل کرنے سے نہیں روک سکوں گا، پھر سیدنا امیر معاویہؓ ان کے پاس سے اٹھ گئے اور فرمایا: میں آئندہ کے لیے تمہیں یہاں آنے کے لیے نہیں کہوں گا۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 330)

اہل کوفہ کو مطمئن کرنے کے لیے امیر شام سیدنا معاویہ کی یہ آخری کوشش تھی جس میں انہوں نے حلم و حوصلہ سے کام لیتے ہوئے اپنی طرف سے پوری پوری کوشش کی کہ انہیں کسی طرح فتنہ و فساد اور شرپسندی سے باز رکھیں۔ اسی دوران آپ نے انہیں اللہ سے ڈرنے، اس کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے، جماعت سے وابستہ رہنے اور فرقہ بازی سے باز رہنے کی تلقین فرمائی۔

مگر انہوں نے بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ تمہاری اطاعت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مگر انہوں نے وسیع ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ میں تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری کی تلقین کر رہا تھا اور اگر تمہارے خیال میں میں نے ایسا نہیں کہا تو میں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں اور اب تمہیں اس کی اطاعت گزاری اور جماعت سے وابستگی کی دعوت دیتا ہوں۔ مگر انہوں نے ان کی پند و نصیحت سے تو کیا متاثر ہونا تھا الٹا ان سے یہ کہہ دیا کہ ہم تمہیں اپنے عہدے سے الگ ہونے کا حکم دیتے ہیں اس لیے کہ تم اس عہدے کے لیے موزوں نہیں ہو مسلمانوں میں تم سے زیادہ بہتر اور باصلاحیت لوگ بھی موجود ہیں۔ مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی اس اشتعال انگیزی کا جواب بھی بڑے تحمل اور بردباری سے دیا۔ جو کہ چھ اہم اور اساسی نکات پر مشتمل تھا:

1۔ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے بڑی خدمات سر انجام دی ہیں اور یہ کہ وہ اپنے بھائی یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کی موت سے لے کر آج تک شامی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

2۔ اگرچہ مسلمانوں میں ان سے بہتر لوگ موجود ہیں اور جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے بڑی بڑی تکالیف برداشت کی ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ میں شام کے اسلامی محاذ کا دفاع کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت اور طاقت رکھتا ہوں۔

صفحہ 3 از 4