فتنہ سبائیت کے بارے میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ…

فتنہ سبائیت کے بارے میں سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

3۔ اپنے امراء اور ولاۃ کی کڑی نگرانی کرنے والے اور انہیں راہ راست پر رکھنے والے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے جو کہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی کوئی پروا نہیں کیا کرتے تھے اگر وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں کوئی کوتاہی یا انحراف دیکھتے تو اسے اپنی خلافت کے سارے عرصہ کے دوران اس عہدے پر بحال نہ رکھتے۔ جبکہ ان سے قبل خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں اپنے بعض اعمال کا والی مقرر فرمایا اور انہیں کاتب وحی کا منصب سونپے رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں ولایت تفویض کی اور ان کی صلاحیت پر کسی نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا۔

4۔ عہدے سے برطرفی کے کچھ اسباب ہوا کرتے ہیں مگر داعیان فتنہ و فساد کے پاس وہ کون سی دلیل اور اساس ہے جس کی بنا پر وہ مجھ سے معزولی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

5۔ کسی کو عہدے پر برقرار رکھنا یا کسی کو اس سے ہٹا دینا تمہارے اختیار میں نہیں ہے، یہ اختیار صرف امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ہے، امراء کی تعیین اور معزولی کا صرف وہی استحقاق رکھتے ہیں۔

6۔ اگر خلیفۃ المسلمین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مجھے معزول کر دیں گے تو میں کھلے دل سے ان کے حکم کی تعمیل کروں گا اس لیے کہ مجھے یقین ہے کہ ان کا حکم سراسر خیر ہو گا۔ میں صرف امیر ہی نہیں ہوں بلکہ مامور بھی ہوں۔ خلیفہ المسلمین کے احکام کی تعمیل کرنا میری ذمہ داری ہے۔

(معاویۃ بن ابوسفیان: صحابی کبیر و ملک مجاہد: صفحہ 114 تا 117)

مگر اس مجلس کا اختتام انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ رہا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اللہ کے قہر و غضب سے خبردار کیا اور انہیں نخوت و غرور ترک کرنے کی نصیحت کی تو وہ اس کے جواب میں ان پر جھپٹے اور انہیں سر اور داڑھی سے پکڑ لیا۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتنہ پرور کوفی عناصر کو ڈانٹ پلائی اور سخت سست کہا۔ آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یوں ان لوگوں کا راہ حق پر لانا مشکل ہے، لہٰذا ان کی صورت حال سے امیر المومنین کو مطلع کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ان کے بارے میں خود کوئی فیصلہ کر سکیں۔

(معاویہ بن ابوسفیان از غضبان: صفحہ 117، 118)


صفحہ 4 از 4