کوفہ کے فتنہ بازوں کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ…

کوفہ کے فتنہ بازوں کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خط

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا:

بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرحیم… اما بعد!

’’ امیر المؤمنین! آپ نے میری طرف ایسے لوگوں کو بھیجا ہے جو شیطانوں کے لہجے میں بات کرتے ہیں اور اس کے لیے شیطان ہی ان کی راہنمائی کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے پاس جا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ قرآنی تعلیمات پیش کرتے ہیں اور اس طرح وہ لوگوں میں غلط فہمی پیدا کر رہے ہیں اور اس لیے کہ سب لوگ ان کے اصل ارادوں سے واقف نہیں ہیں۔

ان لوگوں کا مقصد لوگوں میں تفرقہ اور انتشار پھیلانا ہے اور یہ لوگ اپنے عمل اور کردار سے فتنہ کو قریب لا رہے ہیں۔ اسلام انہیں گراں گزرتا ہے اور وہ اسلام سے بیزار ہیں۔ شیطان کی غلامی ان کے دلوں میں گھر کر چکی ہے اور انہوں نے کوفہ کا ماحول خراب کر دیا ہے۔ مجھے خطرہ ہے کہ اگر یہ لوگ مزید کچھ عرصہ اہل شام کے ہاں مقیم رہے تو یہ انہیں بھی اپنے فسق و فجور اور سحربیانی سے خراب کر دیں گئے، لہٰذا آپ انہیں اسی شہر میں واپس بلا لیں جہاں سے ان کی منافقت پھوٹی تھی۔‘‘

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 331)

خط پڑھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں سعید بن العاصؓ کو تحریری حکم بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو واپس بلا لیں۔ انہوں نے ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان لوگوں کو واپس کوفہ بلا لیا مگر کوفہ آنے کے بعد ان کی زبانیں پھر کھل گئیں۔ اس پر سیدنا سعیدؓ نے سیدنا عثمانؓ کو خط لکھا کہ وہ ان سے بہت تنگ ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ ان لوگوں کو عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس حمص بھیج دیں۔ عبدالرحمٰن اس وقت حمص کے امیر تھے۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 331)

جب یہ لوگ ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے انہیں اپنے پاس بلا کر بڑے سخت لہجے میں بات کی۔ اس دوران انہوں نے کہا: تم لوگ شیطان کے آلہ کار ہو، لہٰذا میں تمہیں مرحبا نہیں کہہ سکتا۔ شیطان تو ناکام و نامراد ہوا مگر تم ابھی تک باطل کے لیے کوشاں ہو۔ عبدالرحمٰن کے پاس کچھ نہ رہے اگر وہ تمہیں سیدھا نہ کرے اور تمہیں ذلیل نہ کرے۔ میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو، عربی ہو یا عجمی؟ مجھ سے وہ باتیں نہ کرنا جو تم سعید اور معاویہ سے کرتے رہے۔ میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہوں۔ میں مرتدین کی گردنے توڑنے والے کا بیٹا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں تمہاری گردنیں جھکا کر چھوڑوں گا۔ عبدالرحمٰن نے ایک ماہ تک انہیں اپنے پاس رکھا اور ان کے ساتھ بڑا سخت برتاؤ کیا اور ان کے ساتھ سعید رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرح نرمی نہ برتی۔ انہیں ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے اور انہیں ذلیل کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ جب ان کا زعیم صعصعہ بن صوحان عبدالرحمٰن کے سامنے آتا تو وہ ان سے فرماتے: ارے گناہ کے بیٹے! کیا تو جانتا ہے کہ جسے خیر صحیح نہ کرے اسے شر صحیح کرتا ہے اور جسے نرمی صحیح نہ کرے اسے سختی صحیح کیا کرتی ہے؟ آپ ان سے یہ بھی کہا کرتے: تم مجھے اس طرح جواب کیوں نہیں دیتے جس طرح کوفہ میں سعید کو اور شام میں معاویہ کو دیا کرتے تھے؟ تم مجھ سے اس طرح مخاطب کیوں نہیں ہوتے جس طرح ان دونوں سے مخاطب ہوا کرتے تھے؟ ان کے ساتھ عبدالرحمٰن کا یہ رویہ ان کے لیے مفید ثابت ہوا۔ ان کی شدت اور سخت دلی رنگ لائی، چنانچہ انہوں نے ان کے سامنے توبہ اور ندامت کا اظہار کیا۔ وہ کہنے لگے: ہم اللہ کے حضور توبہ کرتے اور اس سے طلب بخشش کرتے ہیں۔ ہمیں معاف کر دیں وہ تمہیں معاف کر دے گا۔ ہمارے بارے میں درگزر سے کام لیں اللہ تم سے درگزر فرمائے گا۔ یہ لوگ جزیرہ میں عبدالرحمٰن کے پاس رہے اس دوران انہوں نے اشتر کو حضرت عثمان کے پاس بھیجا تاکہ وہ انہیں بتائے کہ ہم نے توبہ کر لی ہے اور فتنہ سازی کی اپنی سرگرمیوں سے باز آگئے ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اشتر سے کہا: میں نے بھی تمہیں معاف کیا۔ تم اور تمہارے ساتھی جہاں چاہو قیام کر سکتے ہو۔ اشتر نے کہا: ہم کچھ دیر کے لیے عبدالرحمٰن کے پاس رہنا چاہتے ہیں، وہ ان کے پاس اپنے قیام کے دوران انہیں توبہ، استقامت اور درستگی کا تاثر دیتے رہے۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 327)

ادھر فتنہ پردازوں نے کوفہ میں بھی کچھ عرصہ تک خاموشی اختیار کیے رکھی ان کے نزدیک مصلحت کا تقاضا یہی تھا۔

(الخلفاء الراشدون از خالدی: صفحہ 134)

البتہ فتنہ کے دیگر کرداروں نے بصرہ، مصر اور دیگر شہروں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

عثمانی خلافت کے گیارہویں سال ابن سبا نے اپنے ناپاک منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے مقرر کردہ امراء کے خلاف بغاوت کرنے کے لیے اپنی جماعت کے ساتھ مشاورت کی۔ اس کے لیے اس نے اپنی سازشوں کے گڑھ مصر میں بصرہ، کوفہ اور مدینہ میں موجود دیگر سازشی شیطانوں سے رابطے کیے اور ان کے ساتھ خلیفۃ المسلمین کے خلاف بغاوت کی تفصیلات پر اتفاق کیا۔ یہ لوگ باہم خط و کتابت کے ذریعے رابطے کرتے تھے۔ کوفہ میں سبائی گروہ سے تعلق رکھنے والے کل دس بارہ لوگ تھے جن میں سے بعض کو پہلے شام اور بعد میں عبدالرحمٰن کے پاس جزیرہ میں جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ ان کے یہاں سے نکالے جانے کے بعد کوفہ میں فتنہ پرور سبائی گروہ کا قائد یزید بن قیس تھا۔

(الخلفاء الراشدون از خالدی: صفحہ 135)

34 ھ میں کوفہ سرکردہ اور معززین شہر سے خالی ہو گیا اس لیے کہ یہ سب لوگ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے روانہ ہو گئے تھے اور شہر میں نچلے طبقہ کے چند لوگ باقی رہ گئے تھے جن پر منحرف سبائیوں نے اثر انداز ہو کر ان کے ذہنوں کو اپنے خبیث اور گندے افکار و نظریات سے بھر دیا اور انہیں کوفہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ والی حضرت سعید بن العاصؓ کے خلاف بھڑکا دیا۔

(الخلفاء الراشدون: صفحہ 135)

صفحہ 1 از 2