Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اور اس بارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

باغیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ بڑا سخت کر دیا یہاں تک کہ انہیں مسجد نبویﷺ میں نماز پڑھنے سے بھی روک دیا گیا مگر اس دوران جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا انہوں نے بڑے صبر اور حوصلہ مندی کا مظاہرہ کیا۔ آپ قضاء و قدر پر بڑا پختہ ایمان رکھنے کے ساتھ اس امر کے لیے کوشش کرتے رہے کہ اس مصیبت کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے۔ اس کے لیے آپ کبھی تو مسلمان کے خون کی حرمت کے بارے لوگوں کو خطبہ دیتے نظر آتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ کسی بھی مسلمان کا ناحق خون کرنا جائز نہیں ہے۔ کبھی لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے انہیں اپنے فضائل و مناقب سے آگاہ کرتے اور اسلام میں اپنی خدمات جلیلہ سے آشنا کراتے ہیں اور اس کے لیے عشرہ مبشرہ کے فضائل سے استشہاد کرتے ہیں۔

(اثر العلماء فی الحیاۃ السیاسیۃ: صفحہ 76)

گویا کہ آپ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بیان کردہ ان فضائل و مناقب اور اسلام کے لیے میری ان گراں قدر خدمات کے باوجود میرے لیے یہ ممکن ہے کہ میں دنیا کا طمع کرتے ہوئے اسے آخرت پر ترجیح دوں گا اور کیا یہ بات معقول ہے کہ ایسا شخص امانت میں خیانت کرے گا، امت کے اموال کو من مانے انداز میں لٹائے گا اور اس کے خون کا مذاق اڑائے گا؟ جبکہ وہ اللہ کے ہاں اس کے انجام سے بھی بخوبی آگاہ ہو؟ اور وہ وہی ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست تربیت حاصل کی، آپ نے اس کی پاکیزگی کی گواہی دی؟ جس شخص کا جوانی میں یہ کردار رہا ہو بھلا وہ اسی سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ اس قسم کا معاملہ کر سکتا ہے؟

مدینہ منورہ پر سرکشوں کی گرفت اور مضبوط ہو گئی یہاں تک کہ وہ لوگوں کو نمازیں بھی خود ہی پڑھانے لگ گئے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 515)

جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ ادراک ہوا کہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح اس کا تاثر دیا گیا اور وہ صورت حال کے برے انجام سے ڈرے اور انہیں یہ خبر ملی کہ باغی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے درپے ہیں، تو انہوں نے آپ کو ان کا دفاع کرنے اور شورش پسندوں کو مدینہ منورہ سے باہر نکال دینے کی پیش کش کی، مگر آپ نے اس خدشہ کے پیش نظر ان کی اس پیش کش کو رد کر دیا کہ اس سے خونریزی ہو گی۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 167، صحیح الاسناد)

کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیے بغیر اپنے بیٹوں کو ان کے پاس بھیجا جن میں حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بڑی محبت کرتے اور ان کا احترام کیا کرتے تھے، جب ان کا محاصرہ کر لیا گیا تو انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ کو قسم دی کہ وہ اپنے گھر لوٹ جاؤ تاکہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

(تاریخ المدینۃ از ابن شبہ: جلد 4 صفحہ 1208)

انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرے بھتیجے! واپس لوٹ جائیں یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔

(الریاض النضرۃ بحوالہ الحسن بن علی و دورہ السیاسی: صفحہ 46)

صحیح روایات سے ثابت ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو محاصرہ کے دن بیت خلافت سے زخمی حالت میں اٹھایا گیا تھا۔

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 128، حسن سند کے ساتھ)

ان کے علاوہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، محمد بن حاطب رضی اللہ عنہما اور مروان بن حکمؓ کو بھی زخم آئے۔ اس دوران سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ تھے۔

(تاریخ الخلیفۃ: صفحہ 174)

محاصرہ کے دوران سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا سب لوگوں سے زیادہ دفاع سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کیا جس کے گواہ مروان بن حکمؓ ہیں۔

(تاریخ الاسلام: صفحہ 460، 461 اس کی سند قوی ہے۔)

اسی طرح ابن عساکر جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ میرے پاس پانچ سو زرہ پوش لوگ موجود ہیں، آپ اجازت دیں تو میں ان لوگوں سے آپؓ کا دفاع کروں۔ اس لیے کہ آپ نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ کو قتل کرنا جائز ہو۔ اس کے جواب میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کسی کا خون ہو۔

(تاریخ دمشق: صفحہ 403)

متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے محاصرہ کے دوران سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ مثلاً: جب شورش پسندوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا پانی بند کر دیا اور سیدنا عثمان غنیؓ کے اہل خانہ پیاس کی شدت کی وجہ سے قریب الموت ہو گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس پانی سے بھری ہوئی تین مشکیں بھجوائیں مگر وہ ان تک نہ پہنچ پاتیں اگر اس کے لیے بنوہاشم اور بنوامیہ کے متعدد آزاد کردہ غلام زخمی نہ ہوتے۔ واقعات برق رفتاری سے آگے بڑھتے گئے اور آخر کار شرپسند عناصر اور باغی لوگوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کر ڈالا۔ جب یہ خبر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ملی جن کے زیادہ تر لوگ مسجد میں موجود تھے تو وہ وحشت زدہ ہو گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں اور بھتیجوں سے پوچھا: جب تم دروازے پر موجود تھے تو پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کیسے شہید کر دیا گیا؟ اس دوران انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو تھپڑ بھی مارا جب کہ وہ پہلے ہی زخمی تھے۔

(ابن ابی عاصم الآجاد و الثمانی: جلد 1 صفحہ 125، بحوالہ خلافۃ علی: صفحہ 87)

انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سینہ پر ضرب لگائی اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور اور ابن طلحہ رضی اللہ عنہما کو برا بھلا کہا۔ پھر وہ ناراضی کے ساتھ یہ کہتے ہوئے اپنے گھر چلے گئے: تم ہمیشہ کے لیے برباد رہو۔ میرے اللہ میں تیرے سامنے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔ میں نے نہ تو انہیں قتل کیا اور نہ کسی کو ہی اس کا اشارہ کیا۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 209، اس کی سند صحیح ہے)

فتنہ کے ایام میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بڑی دلیری کے ساتھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا۔ ان سے مشاورت کرتے رہے۔ ان کی خیر خواہی کرتے اور سمع و اطاعت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب سے بڑھ کر ان کا دفاع کیا اور انہیں کبھی برائی کے ساتھ یاد نہ کیا۔ سیدنا علیؓ نے اصلاح احوال کی بڑی کوشش کی، خلیفۃ المسلمین اور ان کے خلاف خروج کرنے والوں کے درمیان افہام و تفہیم کے لیے سرگرم عمل رہے۔ مگر صورت حال ان کے کنٹرول سے باہر ہو چکی تھی۔ اللہ کا فیصلہ یہی تھا کہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو شہادت کی موت سے مشرف ہو کر فوز و فلاح سے ہم کنار ہونا ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 209، اس کی سند صحیح ہے)

اور مفسدین کو یہ گناہ اپنے سر لینا ہے۔

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے قتل عثمان رضی اللہ عنہ کو ناپسند کیا اور ان کے خون ناحق سے برأت کا اظہار کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبات کے دوران اور دیگر متعدد مواقع پر یہ بات قسم اٹھا کر بیان کی کہ انہوں نے نہ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا۔ نہ کسی کو اس کا حکم دیا، نہ کسی کو اس کا اشارہ کیا اور نہ اسے پسند ہی کیا۔ سیدنا علیؓ سے یہ بات متعدد ایسے طرق سے ثابت ہے جو قطعیت کا فائدہ دیتے ہیں۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 202)

اس کے برعکس روافض یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ ان کی رضامندی سے ہوا۔

(العقیدۃ فی اہل البیت بین الافراط و التفریط: صفحہ 129)

شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں وارد بعض اخبار و روایات کو ذکر کرنے کے بعد امام حاکم لکھتے ہیں: ’’بدعتی لوگوں کا یہ دعویٰ کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت میں باغیوں کو امیرالمؤمنین علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا تعاون حاصل تھا محض کذب ہے۔ متواتر اخبار و روایات صورت حال اس کے برعکس بتاتی ہیں۔‘‘

(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 103)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ سب کچھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر محض کذب و افتراء ہے، وہ نہ تو قتل عثمان رضی اللہ عنہ میں شریک ہوئے نہ اس کا حکم دیا اور نہ اسے پسند ہی کیا۔ ان سے یہی کچھ مروی ہے، اور وہ بالکل سچے ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 406)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود فرمایا تھا: میرے اللہ! میں تیرے حضور عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔

(العقیدۃ فی اہل البیت بین الافراط و التفر: صفحہ 229، طبقات ابن سعد: 313 اس کی سند حسن ہے۔)

بعض کتب تاریخ نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنہ کے دوران اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤقف کو مسخ کر کے پیش کیا ہے، جس کی وجہ سے مؤرخین کی بیان کردہ ضعیف اور موضوع روایات ہیں۔ تاریخ طبری اور دیگر کتب تاریخ میں مندرجہ ابو محنف، واقدی اور ابن أعثم کی روایات کے حوالے سے فتنہ کے احداث کا مطالعہ کرنے والا ہی تاثر لیتا ہے کہ اس تحریک کو چلانے والے اور اس کی آگ کو بھڑکانے والے دراصل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ ابو محنف رافضی ہے، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر بار بار یہ تہمت لگاتا ہے کہ ان سے بکثرت غلطیاں سرزد ہوئیں، لہٰذا وہ اس چیز کے مستحق تھے۔ جبکہ طلحہ اپنی مرویات میں ایک ایسے شخص کے روپ میں سامنے آتا ہے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کوئی انتقام لینا چاہتا ہو۔ واقدی کی روایات بھی ابومحنف کی روایات جیسی ہی ہیں۔ روافض سے ایسی روایات بکثرت وارد ہیں جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف سازش کرنے کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تہمت لگاتی ہیں،  اور یہ کہ ان لوگوں نے فتنہ کو تحریک دی اور لوگوں کو اشتعال دلایا۔ مگر یہ سب کچھ جھوٹ اور فریب کاری ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 14 صفحہ 20)

ضعیف اور موضوع روایات کے برعکس بحمداللہ تعالیٰ کتب حدیث نے ہمارے لیے ایسی صحیح روایات کو محفوظ رکھا ہے جن سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دست و بازو بنے۔ ان کا دفاع کیا اور ان کے قتل سے لاتعلق رہے۔

(خامس الخلفاء الراشدین الحسن بن علی از صلابی: صفحہ 123)

اور پھر ان کی شہادت کے بعد ان کے قصاص کا مطالبہ لے کر اٹھے۔ یہ سب کچھ اس امر کی دلیل ہے کہ فتنہ کو تحریک دینے اور اسے ہوا دینے میں صحابہ رضی اللہ عنہم کسی طرح سے بھی شریک عمل نہیں تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 14 صفحہ 20)

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون ناحق سے لاتعلق ہیں۔ جو شخص بھی اس کے خلاف کوئی بات کرتا ہے تو اس کی بات باطل ہے۔ اپنے مؤقف کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی ایک بھی صحیح دلیل نہیں ہے۔ خلیفہ اپنی تاریخ میں عبدالاعلی بن ہیثم سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ سے کہ میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین میں انصار و مہاجرین میں سے بھی کوئی شخص شامل تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہرگز نہیں۔ وہ اہل مصر میں سے اجڈ اور وحشی قسم کے لوگ تھے۔

(عثمان بن عفان از صلابی: صفحہ 450)

امام نوویؒ فرماتے ہیں: ان کے قتل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص بھی شریک نہیں تھا۔ سیدنا عثمانؓ کے قاتل نچلے طبقہ کے وحشی قسم کے ذلیل اور گھٹیا قسم کے لوگ تھے جو مصر سے گروہ در گروہ مدینہ پہنچے اور شہر میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انہیں روکنے میں بے بس ہو گئے۔ ان لوگوں نے بیت خلافت کا محاصرہ کر لیا اور پھر انہیں قتل کر ڈالا۔

(شہید الدار عثمان بن عفان: صفحہ 148)

سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ وہ مختلف شہروں کے شورش پسند لوگ تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ مختلف قبائل کے دھتکارے ہوئے لوگ تھے۔

(شرح نووی علی صحیح مسلم: جلد 15 صفحہ 148)

ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ خوارج، فسادی، گمراہ، باغی اور زیادتی کرنے والے تھے۔

(منہاج السنۃ: جلد 2 صفحہ 189، 206)

امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: وہ سنگ دلی اور جفا و ظلم کی انتہاء کو پہنچے ہوئے تھے۔

(دول الاسلام از ذہبی: جلد 1 صفحہ 12)

فرماتے ہیں: وہ بڑے گھٹیا اور قبائل کے ذلیل ترین لوگ تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 482، شذرات الذہب: جلد 1 صفحہ 40)

اس کی تائید ان کے اس سنگدلانہ رویے سے بھی ہوتی ہے جو انہوں نے خلیفہ وقت کے ساتھ ان کے محاصرہ سے لے کر ان کی شہادت تک ان کے ساتھ روا رکھا اور ان پر بڑے بڑے مظالم ڈھائے گئے۔ ان تک پانی اور خوراک کی ترسیل روک دی گئی، حالانکہ انہوں نے اپنی جیب سے خرچ کر کے مسلمانوں کے لیے مفت پانی مہیا کیا تھا۔

(تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ عثمان بن عفان: صفحہ 450)

اور جب بھی انہیں بھوک اور کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے اس کے ازالہ کے لیے بھاری رقوم خرچ کیں اور ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ان کے ساتھ مالی تعاون کا سلسلہ ہمیشہ جاری رکھا۔

(التمہید و البیان: صفحہ 424)

یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی محاصرین کو ڈانٹتے ہوئے اور صورت حال کی عکاسی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لوگو! جو کچھ تم کر رہے ہو یہ امیر المؤمنینؓ کے شایان شان نہیں ہے۔ تمہارا یہ رویہ کافروں سے بھی بدتر ہے۔ ان تک پانی اور خوراک کی ترسیل مت روکو، رومی اور فارسی تو اپنے قیدیوں کو بھی کھانا کھلاتے اور پانی پلاتے ہیں۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 400)

الغرض صحیح اخبار و روایات اور تاریخی واقعات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لوگوں کو سیدنا عثمان کے خلاف بھڑکانے یا ان کے خلاف فتنہ کھڑا کرنے میں باغیوں کے شراکت دار نہیں تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 18)

تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں میری کتاب ’’ سیّدنا عثمان بن عفان، شخصیت اور کارنامے۔‘‘