شیعہ فرقے اور ان کے عقائد و افکار - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ فرقے اور ان کے عقائد و افکار

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

’’میں گواہی دیتا ہوں کہ (حضرت علی) حیدر گنجے اور بڑے پیٹ والے کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ نیز یہ کہ صادق و امین محمد کے سوا حضرت علی پر اور کوئی حجاب حائل نہیں ہے۔ حضرت علی کی طرف جانے کا راستہ صرف حضرت سلمان (فارسی) ہیں جو بڑے طاقت ور اور مضبوط تھے۔‘‘بعض شیعہ کے نزدیک رمضان کا مقدس مہینہ تیس آدمیوں کے ناموں سے عبارت ہے؛اور یہ تیس نام تیس عورتیں ہیں ۔ اور یہ کہ پانچ نمازیں اصل میں پانچ نام ہیں : وہ نام یہ ہیں :علی ؛ حسن؛ حسین؛ محسن اور فاطمہ۔اس کے علاوہ بھی ان کے کئی کفریہ عقائد ہیں جن کا بیان یہاں پر طوالت اختیار کر جائے گا۔[1][1] صوفیہ کا نظریہ حلول ایک خطرناک مرض ہے اعداء اسلام نے اس کے جراثیم کو دین اسلام کے جسم میں پھیلا دیا تھا۔ اگر اسلام کے اصول و مبادی دیگر مذاہب وادیان کے مقابلہ میں اقوی و اکمل نہ ہوتے تو وہ ان عظیم مصائب کے سامنے ٹھہر نہ سکتا۔ اور تشیع و فلسفیانہ تصوف کا سیلاب اسے خس و خاشاک کی طرح بہالے جاتا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ جو شخص علی الصبح تصوف کا مسلک اختیار کرے اور چاشت کے وقت تک صوفی رہے اس کے احمق ہونے میں شبہ نہیں ۔‘‘(دیکھئے حلیۃ الاولیاء ابو نعیم نیز مقدمۃ صفۃ الصفوۃ لا بن الجوزی)۔ صوفیہ فلسفۂ غیب کے مسئلہ میں اس قدر منہمک ہوئے کہ اس ضمن میں وارد شدہ نصوص صریحہ و صحیحہ کو بھی نظر انداز کر دیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے اوہام و ظنون میں ڈوب کر اس دھوئیں کی طرح ضائع ہوگئے جو فضا میں منتشر ہو جاتا ہے، ان کی حالت اس تنکا جیسی ہے جس سے آدمی لٹک جاتا ہے، مگر اس کا انجام کچھ نہیں ہوتا۔اور یہ معلوم امر ہے کیونکہ اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ یہ غالیوں کے عقائد ہیں ؛ جو رب تعالیٰ کو عیوب اور نقائص سے متصف کرنے والی غلو آمیز باتیں جو نقص والی صفات میں خالق کی مخلوق سے تشبیہ اور الوہی صفات میں مخلوق کی خالق سے تشبیہ کو متضمن ہیں ، زیادہ تر شیعوں میں پائی جاتی ہیں ۔ امت کے فرقوں میں سے جس قدر حلول، تمثیل اور تعطیل ان میں پائی جاتی ہے، کسی اور گروہ میں نہیں پائی جاتی۔اسی وجہ سے ان کی طرف منسوب بعض لوگوں کو ملاحدہ اور غالیہ کا نام دیا گیا ہے۔ اسماعیلیوں کا مخصوص نام ملاحدہ ہے اور غالیہ ان لوگوں کا مخصوص نام ہے جو انسانوں میں الوہی صفات کے قائل ہیں ، مثلا: نصیرِیہ[2] [2] یہ شیعہ کا فرضی امام ہے جو ان کے زعم کے مطابق امام حسن عسکری کا بیٹا ہے، بقول شیعہ وہ تاہنوز بقید حیات ہے اس کی موت سے قبل حضرت ابوبکر و عمر اور صحابہ رضی اللہ عنہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے وہ ان سے انتقام لے گا، ان کے انصار و اعوان کو سخت سزائیں دے کر صفحہ ہستی سے مٹا ڈالے گا، پھر شیعہ کی دولت عظمی قائم کرے گا اور مر جائے گا۔۔ انسانوں کے الہ ہونے والا غلو آمیز دعوی عیسائیوں کا ہے ؛ یا پھر شیعوں میں سے غالیوں کا۔ بعض صوفیوں وغیرہ میں بھی اس طرح کا الحاد اور غلو موجود ہے لیکن شیعوں میں زیادہ ہے اور قبیح ترین ہے۔جب حقیقت یہی ہے تو اہل سنت والجماعت کو تجسیم اور حلول کا الزام دینے والا اور شیعوں کی تعریف کرنے والا یا تو شیعوں کی باتوں سے بالکل ناواقف ہے یا پھر عدل وانصاف سے کوسوں دور اور لوگوں پر ظلم وستم ڈھانے والا ہے۔پھر اہل سنت متاخرین شیعوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ عقلی اور شرعی دلائل سے اپنے متقدمین کا دفاع کریں تو وہ اس سے عاجز آجاتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی اس پر تنبیہ گزر چکی ہے۔ شیعوں میں سے مجسمہ فرقہ کے لوگ ہر طرح سے متکلمین کے اکابر میں سے تھے۔ انہوں نے کتابیں بھی لکھی ہیں ۔ ابو الحسن اشعری کہتے ہیں : رافضیوں کے مرد ِ میدان اور ان کی کتابوں کے مؤلفین ہشام بن حکم، جو قطعی تھا، علی بن منصور، یونس بن عبد الرحمن قمی، سکاک، ابو اخوص، داد بن اسد بصری ہیں ۔ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں : ابو عیسی وراق اور ابن راوندی بھی انہی کی طرف منسوب ہے اور انہوں نے شیعوں کے لیے امامت کے مسئلہ پر کتابیں لکھی ہیں ۔[ مندرجہ بالا معائب (غلط عقائد) کے اولیں بانی و موسس شیعہ ہیں ۔[شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ شیعہ مصنف کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں ]:]دوسری وجہ : ’’ جو بات تم نے نقل کی ہے، وہ معروف ائمہ اہل سنت والجماعت جیسے ،اصحاب ِامام ابو حنیفہ ؛امام مالک؛ امام شافعی؛ امام احمد حنبل رحمہم اللہ ؛ کے ساتھیوں میں سے کسی ایک سے بھی منقول نہیں ۔اہل حدیث اور اہل رائے[ فقہاء وحفاظ حدیث اور مشائخ طریقت] میں سے کسی نے بھی نہیں کہی۔ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جو اﷲ کے جسم اور اس کے طول وعمق کا عقیدہ رکھتا ہو،اوروہ مصافحہ بھی کرتا ہو؛ اور اہل اسلام میں سے صالحین دنیا میں اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ سکتے ہیں ۔اور اگر رافضی مصنف کے ’’جماعت حشویہ اور مشبہہ ‘‘ سے مراد ان میں سے کچھ لوگ ہیں تویہ ان پر کھلا ہوا بہتان اور جھوٹ ہے۔ ان تمام مذاہب کے عقائد کی کتابیں موجود ہیں ۔ مذاہب کے کچھ علماء مرچکے ہیں اور کچھ زندہ ہیں ؛ ان میں سے کسی ایک بھی معروف عالم کے متعلق بھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ اس قسم کا عقیدہ رکھتا ہو۔بلکہ ان تمام طوائف ومذاہب کے سب علماء اس ضمن میں یک زبان ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کو ان آنکھوں سے آخرت میں دیکھا جا سکے گا، دنیا میں نہیں ۔جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’خوب جان لو کہ تم میں سے کوئی شخص موت سے قبل اپنے رب کو نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ [1][1] صحیح مسلم ۔ کتاب الفتن۔ باب ذکر ابن صیاد(ح:۷۳۵۶)۔ وجاء الحدِیث فِی سننِ التِرمِذِیِ 3؍345 کتاب الفتن باب ما جاء فِی الدجال. وروی الدارِمِی الحدِیث فِی ِکتابِہِ الردِ علی الجہمِیۃِ ص 190۔وفِیہِ: قال:’’ تعلمون أنہ لن یری أحدکم ربہ حتی یموت۔‘‘وسنن ابن ماجہ2؍36 ۔کِتاب الفِتنِ، باب فِتنِ الدجالِ؛ فیہ: أنا نبِی ولا نبِی بعدِی؛ ثم یثنِی فیقول: أنا ربکم، ولا ترون ربکم حتی تموتوا. . . الحدِیث۔ان میں ظاہر اور شائع ہونے والا مذہب اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے کہ: اللہ تعالیٰ کو روزِ قیامت آنکھوں سے دیکھا جائے گا۔ جو اس چیز کا انکار کرتا ہے، ان کے نزدیک وہ بدعتی ہے اگرچہ وہ ان کی طرف اپنی نسبت کرتا ہو۔ جو شخص یہ کہتا ہے تو یہ ان کے ائمہ کا قول ہے اور نہ ان کا مفتی بہ قول ہے۔جو شخص کسی گروہ کا قول نقل کرنا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ قائل اور ناقل کا نام بتائے، وگرنہ ہر کوئی جھوٹ بولنا جانتا ہے۔اہل سنت کا جو قول بنا کر اس نے پیش کیاہے، اس سے اس کا جھوٹ ثابت اور واضح ہوچکا ہے۔ اور یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ یہ قول اور اس سے گھٹیا ترین اقوال شیعوں کے متقدمین کے ہی ہیں ۔تیسری وجہ:یہ کہا جائے کہ گروہ اپنے قائدین کے ناموں یا اپنے احوال کے بیان سے دیگر گروہوں سے ممتاز ہوتے ہیں ۔ پہلے کی مثال میں کہا جائے گا: نجدات، ازارقہ، جہمیہ، نجاریہ اور ضِراریہ وغیرہ۔ دوسرے کی مثال میں کہا جاتا ہے: رافضہ، شیعہ، قدریہ، مرجئہ اور خوارج وغیرہ۔[1][1] [[شیعہ مصنف کو چاہیے تھا کہ وہ اس قول کے قائل کا نام ذکر کرتا، ورنہ دروغ گوئی ہر کسی کے لیے ممکن ہے۔ تم نے حشویہ کا ذکر کیا ہے مگر کسی متعین شخص کا نام نہیں لیا، نہ جانے وہ کون ہیں ؟ اور اگر حشویہ سے تم اہل حدیث مراد لیتے ہو تو وہ خالص سنت کے پیرو ہیں ، اور ان میں ایک شخص بھی تمہاری ذکر کردہ بات کا معتقد نہیں ]]۔ خلاصہ کلام! ’’اس بات میں بھی تمہاری کذب بیانی الم نشرح ہوئی اور دوسرے اقوال میں بھی۔‘‘


صفحہ 2 از 2