Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امیر المؤمنین علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے عہد میں

  علی محمد الصلابی

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ادوار اور خلافت میں شام کے حکمران رہے مگر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالا تو انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے عہدے سے الگ کرنے کا ارادہ کیا۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ شورش پسندوں نے اس کے لیے ان پر دباؤ ڈالا تھا اور خصوصاً ایسے حالات میں کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت سے بخوبی آگاہ تھے۔ میں نے یہ مؤقف اس لیے اختیار کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے قبل سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ نیز اس لیے بھی کہ اس کے بعد ان لوگوں نے مصر سے قیس بن سعد کی معزولی کے لیے بھی ان پر دباؤ ڈالا اور جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے اور جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مصر ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جگہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو والی شام مقرر کرنا چاہا مگر انہوں نے اس سے انکار کر دیا اور اس بنا پر معذرت کی کہ میرے اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان قرابت اور معاہرت کا رشتہ ہے۔

(المصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 7 صفحہ 472۔ اس کی سند صحیح ہے)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی اس معذرت کو قبول کرتے ہوئے انہیں شام جانے کے لیے مجبور نہ کیا۔ جن روایات میں یہ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے شام کی ولایت کا منصب سنبھالنے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دینے سے انکار کی وجہ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر سختی کی، تو ان میں قطعاً کوئی صداقت نہیں ہے۔

(استشہاد عثمان و وقعۃ الجمل: صفحہ 160)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کا یہ بیان مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: ابو عبدالرحمٰن! اہل شام میں تمہاری بات مانی جاتی ہے، لہٰذا آپ شام کے لیے روانہ ہو جائیں میں نے آپ کو شام کا امیر مقرر کیا ہے۔ اس پر میں نے کہا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی قرابت داری اور ان سے اپنی قرابت کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ مجھ سے درگزر فرمائیں۔ مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کر دیا۔ میں نے اس بارے میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذریعہ استعمال کیا تو انہوں نے پھر بھی انکار کر دیا، اس پر میں راتوں رات مکہ کے لیے روانہ ہو گیا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 224۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔)

یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کی تھی اور یہ کہ وہ ان کی اطاعت میں داخل تھے، اس لیے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس شخص کو منصب ولایت تفویض کریں جس نے ان سے بیعت ہی نہ کی ہو۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے موت کے وقت فرمایا: مجھے اس چیز کا ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل ہو کر باغی گروہ کے ساتھ جنگ کیوں نہ کی۔

(الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 6 صفحہ 326، بر حاشیہ کتاب الاصابۃ)

یہ روایت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کر رکھی تھی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس بات پر اپنی ندامت کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر باغی گروہ کے ساتھ جنگ نہ کی۔ یاد رہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو فتنہ کے دوران غیر جانبدار رہے اور کسی ایک گروہ کے ساتھ مل کر دوسرے گروہ سے لڑائی نہ کی۔ اگر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت نہ کی ہوتی تو وہ اس بات پر ندامت کا اظہار کرتے اور اس کی صراحت بھی کرتے، اس لیے کہ امیر کی بیعت کرنا شرعاً واجب ہے اور ایسا نہ کرنے والے کو وعید سنائی گئی ہے۔ خود انہیں سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں امیر کی بیعت نہ ہوئی تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘

(مسلم: کتاب الامارۃ: رقم الحدیث: 1851)

یہ معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل رہ کر جنگ کرنے سے مختلف ہے، اس لیے کہ اس بارے صحابہ میں اختلاف رہا ہے اور ان میں کچھ اس جنگ سے بالکل الگ تھلگ رہے تھے، دریں حالات یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس مختلف فیہ جنگ میں شریک نہ ہونے پر تو نادم ہوں مگر ترک بیعت پر نادم نہ ہوں جبکہ اس بارے بڑی سخت وعید بھی وارد ہو۔ اس سے ان بعض مؤرخین کے اس قول کا بطلان ہوتا ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی، انہوں نے ان سے صرف بیعت ہی نہیں کی تھی بلکہ ان کا شمار ان کے مقرب لوگوں میں ہوتا تھا جنہیں وہ منصب ولایت تفویض کرنے اور ان سے تعاون حاصل کرنے کے خواہش مند تھے۔ آپ جانتے تھے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما میرے سچے دوست اور خیرخواہ ہیں۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 507)

جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے شام کی ولایت قبول کرنے سے معذرت کر لی تو امیرالمؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ سہیل بن حنیفؓ کو شام کا والی بنا کر بھیجا اور ابھی وہ مشارف شام تک بھی نہیں پہنچے تھے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے شہسواروں نے انہیں پکڑ لیا اور پھر کہا کہ اگر تمہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھیجا ہے تو ہم تم کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اگر کسی اور نے بھیجا ہے تو پھر یہیں سے واپس لوٹ جائیں

(تہذیب تاریخ دمشق: جلد 4 صفحہ 39، خلافۃ علی رضی اللہ عنہ از عبدالحمید: صفحہ 110)

اور اس کی وجہ یہ تھی کہ بلادِ شام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت پر بڑے غضبناک تھے۔