صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس بارے میں اختلاف تھا کہ قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص کس طرح لیا جائے
علی محمد الصلابیاولاً: صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس بارے میں اختلاف تھا کہ قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص کس طرح لیا جائے
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور طلحہ و زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف کا یہ سبب ہرگز نہیں تھا کہ ان لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر کوئی اعتراض تھا، ان لوگوں کا اس بات پہ اجماع تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلافت و ولایت کے زیاد حق دار ہیں۔ ابن حزم رقمطراز ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نہ تو کبھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا انکار کیا اور نہ خلافت کے لیے ان کے استحقاق کا ہی۔ مگر ان کے اجتہاد نے انہیں اس نتیجہ پر پہنچایا کہ قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینا بیعت پر مقدم ہے اور یہ کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کرنے کا زیادہ حقدار ہوں۔
(الفصل فی الملل و الاہواء و النحل: جلد 4 صفحہ 160)
ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: ’’سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت کا دعویٰ نہ کیا، اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی تو کسی سے اپنی خلافت کے لیے بیعت نہیں لی۔ انہوں نے نہ تو خلیفہ کے طور پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی اور نہ خلافت کا حقدار ہونے کا دعویٰ کیا۔ سب لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلافت کا حقدار سمجھتے تھے حتیٰ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی اس کا اقرار کرتے تھے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کا آغاز کبھی نہیں کیا اور نہ وہ اسے صحیح ہی خیال کرتے تھے۔‘‘
(مجموع فتاویٰ: جلد 35۔صفحہ 72)
اختلاف کا یہ سبب سیدنا علیؓ کی خلافت کے لیے باعث عیب نہیں تھا۔ ان کا اختلاف خلافت کے مسئلہ میں نہیں تھا بلکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے کے قضیہ میں تھا اور اس طریقہ میں تھا جس کے ساتھ اس قضیہ کو نمٹایا جا سکے۔ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اصولی طور سے قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے کے حق میں تھے مگر ان کی یہ رائے تھی کہ جب تک صورت حال میں استحکام نہیں آتا اسے اس وقت تک مؤخر کر دیا جائے اور صائب بات بھی یہی تھی۔
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 158)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان جنگوں کا سبب مسائل کا الجھاؤ تھا اور اس الجھاؤ میں شدت کی وجہ سے ان کے اجتہاد میں اختلاف واقع ہوا جس کی وجہ سے وہ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروہ کے اجتہاد نے ان پر یہ بات عیاں کی کہ حق اس طرف ہے اور ان کا مخالف گروہ باغی ہے، لہٰذا ان کی مدد کرنا ضروری ہے، لہٰذا انہوں نے اپنے اعتقاد کی رو سے باغی گروہ سے جنگ کی اور امام عدل کی مدد کرنے میں کوئی تاخیر روا نہ رکھی۔ جبکہ اس کے برعکس دوسرے گروہ کی اجتہادی کاوشوں نے ان پر یہ امر منکشف کیا کہ حق دوسری طرف ہے، لہٰذا ان کی مدد کرنا اور اس پر زیادتی کرنے والے گروہ سے جنگ ہم پر واجب ہے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جبکہ تیسرے گروہ کے سامنے یہ قضیہ الجھا رہا اور وہ اس بارے حیران ہو کر رہ گئے اور دونوں گروہوں سے کسی ایک گروہ کی ترجیح ان پر ظاہر نہ ہوئی، لہٰذا وہ غیر جانبدار ہو کر بیٹھ رہے اور ان کے حق میں یہ غیر جانبداری ہی واجب تھی اس لیے کہ کسی بھی مسلمان کے خلاف لڑائی کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک یہ ظاہر نہ ہو جائے کہ وہ اسی کا مستحق ہے۔ اگر ان لوگوں کے نزدیک کسی ایک فریق کا رجحان ظاہر ہو جاتا اور انہیں یہ علم ہو جاتا کہ حق اس کے ساتھ ہے تو ان کے لیے اس پر زیادتی کرنے والوں سے لڑائی کر کے اس کی مدد کرنے سے ہاتھ کھینچ لینا جائز نہ ہوتا۔‘‘
(صحیح مسلم: شرح نووی: جلد 15 صفحہ 149)