[لفظ مشبہہ سے متعلق گفتگو]
امام ابنِ تیمیہؒ[لفظ مشبہہ سے متعلق گفتگو]جہاں تک مشبہہ [1][1] یقول التہانوِی فِی کشّافِ اصطِلاحاتِ الفنون: المشبِہۃ علی صِیغۃِ اسمِ الفاعِلِ مِن التشبِیہِ، و ہو یطلق علی فِرقۃ مِن ِکبارِ الفِرقِ الإِسلامِیۃِ شبہوا اللّٰہ تعالیٰ بِالمخلوقاتِ ومثلوہ بِالحادِثاتِ، ولِأجلِ ذلِک جعلناہم فِرقۃ واحِدۃ قائِلۃ بِالتشبِیہِ وِإنِ اختلفوا فِی طرِیقِہِ. وانظر عنِ المشبِہِ أیضا ما ورد فِی الملل والنحل 1؍95 ؛دائِرۃ المعارِفِ الِسلامِیِ، مادۃ:التشبِیہِ ؛ وانظر أیضا ما سبق 2؍102.۔ کے لفظ کا تعلق ہے اس میں شبہ نہیں کہ تمام اہل سنت والجماعت اہل حدیث ؛ امام مالک ؛ امام شافعی ؛ امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل [ رحمہم اللہ ]اور دیگر حضرات ذات باری کو مخلوقات کی مماثلث سے منزہ قرار دینے میں یک زبان ہیں ۔اور مشبہہ کی مذمت پر بھی یک زبان ہیں جو صفات باری کو صفات مخلوق کے مماثل قرار دیتے ہیں ۔اور وہ بالاتفاق یہ کہتے ہیں : بیشک اللہ تعالیٰ کی ذات و سفات اور افعال میں کوئی بھی اس کے مثل نہیں ہوسکتا۔