معرکہ صفین 37 ھ قبل از معرکہ کے واقعات
علی محمد الصلابیثانیاً
1۔ ام حبیبہ بنت ابوسفیان، نعمان بن بشیر کو عثمان رضی اللہ عنہم کی قمیص دے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اوراہل شام کے پاس بھیجتی ہیں:
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا نے ان کے اہل خانہ کو پیغام بھیجا کہ میرے پاس عثمان رضی اللہ عنہ کے وہ کپڑے بھیجیں جن میں انہیں شہید کیا گیا تھا۔ اس پر انہوں نے ان کی طرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی قمیص بھیج دی جو خون میں لت پت تھی اور اس کے ساتھ ان کی داڑھی سے نوچے گئے بالوں کا گچھا بھی بھجوا دیا۔ پھر انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انھیں شام میں معاویہ کے پاس بھجوا دیا۔ وہ قمیص اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا خط لے کر شام روانہ ہو گئے۔
(تاریخ الاسلام فی عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 539)
دوسری روایت میں ہے: حضرت نعمان بن بشیرؓ روانہ ہوئے تو ان کے پاس خون سے تر سیدنا عثمانؓ کی قمیص اور حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا کی انگلیاں تھیں جو اس وقت کٹ گئی تھیں جب وہ اپنے ہاتھ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 539)
نائلہ بنت فرافصہ کلبیہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور یہ شام سے تعلق رکھتی تھیں۔
(تاریخ الدعوۃ الاسلامیۃ از محمد جمیل: صفحہ 398)
جب نعمان رضی اللہ عنہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام پہنچے تو انہوں نے وہ قمیص لوگوں کو دکھانے کے لیے منبر پر رکھ دی اور نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں قمیص کی آستین کے ساتھ لٹکا دیں جسے کبھی اوپر اٹھایا جاتا اور کبھی نیچے کیا جاتا، جسے دیکھ کر لوگ رو رہے تھے اور ایک دوسرے کو ان کا بدلہ لینے پر اُبھار رہے تھے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 539 اس کی سند ضعیف ہے)
شرحبیل بن سمط کندی آیا اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہمارے خلیفہ تھے اگر آپ ان کے خون کا بدلہ لے سکتے ہیں تو ٹھیک ورنہ ہم سے الگ ہو جائیں۔
(الانساب: جلد 4 صفحہ 418، تاریخ الدعوۃ الاسلامیۃ: صفحہ 398)
اس دوران شام کے مردوں نے قسمیں اٹھائیں کہ وہ جب تک قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل نہ کر لیں اس وقت تک نہ اپنی بیویوں کے پاس جائیں گے اور نہ بستروں پر سوئیں گے۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 600)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی یہی چاہتے تھے۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اہل شام کے سامنے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کی بڑی بھیانک تصویر پیش کی: ’’خلیفۃ المسلمین کی شہادت گاہ ہے، حرمت مدینہ کو پامال کرتے ہوئے شورش پسندوں کی تلواریں انہیں کاٹ رہی ہیں۔ بیت المال کو لوٹا جا رہا ہے اور نائلہ کی انگلیاں کٹی پڑی ہیں۔‘‘ اس سے لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھے، دلوں کو ٹھیس پہنچی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام سے ان کے ساتھیوں کا اصرار تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص لیا جائے اور بیعت سے پہلے قاتلین عثمان کو ان کے حوالے کیا جائے۔ کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ کینہ پرور سازشی اور کمینے لوگوں کی طرف سے امیر المؤمنین اور سید المسلمین کو بڑی بے دردی اور سنگدلی کے ساتھ شہید کر دیا جائے اور عالم اسلامی ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس بھیانک جرم کا ارتکاب کرنے والوں سے قصاص کا مطالبہ نہ کرے۔
(معاویۃ بن ابی سفیان از غضبان: صفحہ 178، 183)