سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کیوں نہ کی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

 سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کیوں نہ کی؟

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ادوار خلافت میں شام کے والی تھے۔ مگر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے عہدے سے معزول کرنے اور ان کی جگہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو شام کا والی مقرر کرنا چاہا، مگر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے معذرت کر لی، چنانچہ انہوں نے اس کی جگہ سہل بن حنیفؓ کو شام بھیج دیا مگر ابھی وہ مشارف شام وادی القریٰ بھی نہیں پہنچے تھے کہ انہیں مدینہ واپس لوٹنا پڑا۔ اس جگہ حبیب بن مسلمہ فہری کی قیادت میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے شہسواروں نے ان کا راستہ روک کر ان سے کہا کہ اگر تمہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھیجا ہے تو ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اگر کسی اور نے بھیجا ہے تو آپ یہیں سے واپس لوٹ جائیں۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 466)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام نے سیدنا علیؓ کی بیعت سے انکار کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پہلے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کا قصاص لے لیں پھر ہم ان کی بیعت کر لیں گے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 129)

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم اس شخص سے بیعت نہیں کریں گے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو پناہ دے گا۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 162)

پھر وہ اپنے آپ کو بھی قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے خطرے میں محسوس کرتے تھے جو کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔ دریں حالات انہوں نے سمجھا کہ ان پر قصاص سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنا واجب نہیں ہے اور یہ کہ اگر اس وجہ سے ان کے ساتھ لڑائی کی گئی تو وہ مظلوم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا: مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ازراہ ظلم قتل کیا گیا اور ان کے قاتل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہیں اور چونکہ ان کے پاس قوت ہے، لہٰذا غالب بھی وہی رہیں گے، لہٰذا اگر ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لیں تو وہ ہم پر ظلم ڈھائیں گے اور ہم پر زیادتی کریں گے اور اس طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خون رائیگاں جائے گا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یہ سمجھتے تھے کہ عثمان کی مدد کرنا اور ان کے قاتلوں سے بدلہ لینا ان کی ذمہ داری ہے اور میں ان کے خون کا ولی ہوں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ‌ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 33)

ترجمہ: اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہوجائے تو ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقیناً وہ اس لائق ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔

چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان سے ہم کلام ہوئے اور انہیں بتایا کہ انہیں بے وقوف منافقین نے ازراہ ظلم قتل کر ڈالا ہے، انہوں نے محترم خون کی ناقدری کرتے ہوئے اسے حرمت والے شہر اور حرمت والے مہینے میں بہا دیا۔ یہ سن کر لوگ بھڑک اٹھے اور اس کام سے بڑی نفرت کا اظہار کیا اور آوازیں بلند ہو گئیں۔ ان میں کچھ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک شخص مرہ بن کعبؓ اٹھا اور کہنے لگا: اگر وہ حدیث نہ ہوتی جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو میں بات نہ کرتا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی فتنوں اور ان کے قریب آنے کا ذکر کیا، اس دوران کپڑے سے چہرہ چھپائے ایک آدمی گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس وقت یہ شخص ہدایت پر ہو گا۔‘‘ میں اٹھ کر اس کے پاس گیا تو پتا چلا کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے آپ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: یہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں‘‘۔

(صحیح سنن ابن ماجۃ: جلد 1 صفحہ 240)

کتب حدیث میں ایک اور حدیث بھی وارد ہے جس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے بدلہ لینے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہمت بندھائی اور انہوں نے اپنے مقصد کے حصول کا مصمم ارادہ کر لیا۔ وہ حدیث یہ ہے کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیج؛ اور آخری بات یہ ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ضرب لگاتے ہوئے فرمایا: عثمان! اللہ تعالیٰ آپ کو قمیص پہنائے گا اگر منافق تم سے وہ قمیص اتارنے کا مطالبہ کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ آپ مجھ سے آملیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ میں نے کہا: ام المؤمنین! اب تک یہ حدیث کہاں رہی؟ انہوں نے فرمایا: و اللہ میں اسے بھول گئی تھی، میں اسے یاد نہ رکھ سکی، میں نے اس حدیث کی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خبر دی تو انہوں نے اسے پسند نہ کیا یہاں تک کہ انہوں نے ام المؤمنین کو خط لکھا کہ مجھے یہ حدیث لکھ بھیجیں، چنانچہ انہوں نے یہ حدیث انہیں لکھ کر بھیج دی۔

(مسند احمد: رقم الحدیث: 24045 ۔ حدیث صحیح ہے)

قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ کے حکم کے نفاذ کی شدید خواہش وہ رئیسی سبب تھا جس کی وجہ سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اہل شام نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کی، ان کی رائے میں قصاص کا حکم بیعت پر مقدم تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو تو شام کی ولایت سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی چہ جائے کہ انہیں خلافت میں دلچسپی ہو۔ انہیں اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ یہ معاملہ اہل شوریٰ کے چھ لوگوں کے سپرد ہے اور یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مجھ سے افضل اور اس کے زیادہ حق دار ہیں۔

(خلافۃ علی بن ابی طالب از عبدالحمید: صفحہ 112)

صفحہ 1 از 3