سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کیوں نہ کی
علی محمد الصلابیسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کیوں نہ کی؟
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ادوار خلافت میں شام کے والی تھے۔ مگر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے عہدے سے معزول کرنے اور ان کی جگہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو شام کا والی مقرر کرنا چاہا، مگر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے معذرت کر لی، چنانچہ انہوں نے اس کی جگہ سہل بن حنیفؓ کو شام بھیج دیا مگر ابھی وہ مشارف شام وادی القریٰ بھی نہیں پہنچے تھے کہ انہیں مدینہ واپس لوٹنا پڑا۔ اس جگہ حبیب بن مسلمہ فہری کی قیادت میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے شہسواروں نے ان کا راستہ روک کر ان سے کہا کہ اگر تمہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھیجا ہے تو ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اگر کسی اور نے بھیجا ہے تو آپ یہیں سے واپس لوٹ جائیں۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 466)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام نے سیدنا علیؓ کی بیعت سے انکار کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پہلے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کا قصاص لے لیں پھر ہم ان کی بیعت کر لیں گے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 129)
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم اس شخص سے بیعت نہیں کریں گے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو پناہ دے گا۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 162)
پھر وہ اپنے آپ کو بھی قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے خطرے میں محسوس کرتے تھے جو کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔ دریں حالات انہوں نے سمجھا کہ ان پر قصاص سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنا واجب نہیں ہے اور یہ کہ اگر اس وجہ سے ان کے ساتھ لڑائی کی گئی تو وہ مظلوم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا: مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ازراہ ظلم قتل کیا گیا اور ان کے قاتل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہیں اور چونکہ ان کے پاس قوت ہے، لہٰذا غالب بھی وہی رہیں گے، لہٰذا اگر ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لیں تو وہ ہم پر ظلم ڈھائیں گے اور ہم پر زیادتی کریں گے اور اس طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خون رائیگاں جائے گا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یہ سمجھتے تھے کہ عثمان کی مدد کرنا اور ان کے قاتلوں سے بدلہ لینا ان کی ذمہ داری ہے اور میں ان کے خون کا ولی ہوں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 33)
ترجمہ: اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہوجائے تو ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقیناً وہ اس لائق ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔
چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان سے ہم کلام ہوئے اور انہیں بتایا کہ انہیں بے وقوف منافقین نے ازراہ ظلم قتل کر ڈالا ہے، انہوں نے محترم خون کی ناقدری کرتے ہوئے اسے حرمت والے شہر اور حرمت والے مہینے میں بہا دیا۔ یہ سن کر لوگ بھڑک اٹھے اور اس کام سے بڑی نفرت کا اظہار کیا اور آوازیں بلند ہو گئیں۔ ان میں کچھ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک شخص مرہ بن کعبؓ اٹھا اور کہنے لگا: اگر وہ حدیث نہ ہوتی جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو میں بات نہ کرتا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی فتنوں اور ان کے قریب آنے کا ذکر کیا، اس دوران کپڑے سے چہرہ چھپائے ایک آدمی گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس وقت یہ شخص ہدایت پر ہو گا۔‘‘ میں اٹھ کر اس کے پاس گیا تو پتا چلا کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے آپ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: یہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں‘‘۔
(صحیح سنن ابن ماجۃ: جلد 1 صفحہ 240)
کتب حدیث میں ایک اور حدیث بھی وارد ہے جس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے بدلہ لینے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہمت بندھائی اور انہوں نے اپنے مقصد کے حصول کا مصمم ارادہ کر لیا۔ وہ حدیث یہ ہے کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیج؛ اور آخری بات یہ ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ضرب لگاتے ہوئے فرمایا: عثمان! اللہ تعالیٰ آپ کو قمیص پہنائے گا اگر منافق تم سے وہ قمیص اتارنے کا مطالبہ کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ آپ مجھ سے آملیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ میں نے کہا: ام المؤمنین! اب تک یہ حدیث کہاں رہی؟ انہوں نے فرمایا: و اللہ میں اسے بھول گئی تھی، میں اسے یاد نہ رکھ سکی، میں نے اس حدیث کی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خبر دی تو انہوں نے اسے پسند نہ کیا یہاں تک کہ انہوں نے ام المؤمنین کو خط لکھا کہ مجھے یہ حدیث لکھ بھیجیں، چنانچہ انہوں نے یہ حدیث انہیں لکھ کر بھیج دی۔
(مسند احمد: رقم الحدیث: 24045 ۔ حدیث صحیح ہے)
قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ کے حکم کے نفاذ کی شدید خواہش وہ رئیسی سبب تھا جس کی وجہ سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اہل شام نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کی، ان کی رائے میں قصاص کا حکم بیعت پر مقدم تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو تو شام کی ولایت سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی چہ جائے کہ انہیں خلافت میں دلچسپی ہو۔ انہیں اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ یہ معاملہ اہل شوریٰ کے چھ لوگوں کے سپرد ہے اور یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مجھ سے افضل اور اس کے زیادہ حق دار ہیں۔
(خلافۃ علی بن ابی طالب از عبدالحمید: صفحہ 112)
ابو مسلم خولانیؒ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ علی رضی اللہ عنہ سے تنازع کرتے ہیں، کیا آپ ان سے افضل ہیں؟ انہوں نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے افضل ہیں اور مجھ سے زیادہ خلافت کے حق دار ہیں، لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ازراہ ظلم قتل کیا گیا، میں ان کا عم زاد ہوں، اور ان کے خون کا مطالبہ کرتا ہوں، ان کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ اگر وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو میرے حوالے کر دیں تو میں ان سے بیعت کر لوں گا۔ وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے اس بارے میں بات کی مگر انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے نہ کیا۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 140)، اس کے راوی ثقہ ہیں اور اس کی سند جید ہے)
اور یہ جو لوگوں میں ہمیشہ سے مشہور چلا آ رہا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں اختلاف کا سبب یہ تھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت کے خواہش مند تھے اور ان کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کرنا اور ان کی بیعت سے انکار کرنا ہی ان کی شام کی ولایت سے معزولی کا سبب تھا، تو یہ روایات صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہیں۔ کتاب ’’الامارۃ و السیاسۃ‘‘ ابن قتیبہ دنیوری کی طرف منسوب ضرور ہے، مگر یہ کتاب ان کی نہیں ہے اس کتاب کا مولف ذو انفاس رافضی ہے اس میں مندرج ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت کا دعویٰ کیا اور اس کی بنیاد اس روایت پر رکھی گئی کہ ابن الکواء نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’معاویہ اسلام سے منحرف ہیں، ان کا باپ گروہوں کا سردار تھا اور انھوں نے مشورہ کے بغیر خلافت کا دعویٰ کر دیا۔۔۔
(الامامۃ و السیاسۃ: جلد 1 صفحہ 113)
یہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا نہیں بلکہ روافض کا کلام ہے۔ ہم آئندہ چل کر کتاب ’’الامارۃ و السیاسۃ‘‘ کے بارے میں تفصیلی گفتگو کریں گے اور اس کے کذب کی وضاحت کرتے ہوئے ان شاء اللہ یہ بھی بتائیں گے کہ اس نے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے لیے کیا کردار ادا کیا۔
تاریخ و ادب کی کتابیں اس قسم کی ضعیف اور موضوع روایات سے بھری پڑی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلافت و امارت اور سرداری کے لیے اختلاف کیا۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 3 صفحہ 145)
جبکہ صحیح بات یہ ہے ان دونوں میں اختلاف اس بارے میں تھا کہ کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کے قصاص لینے سے پہلے واجب ہے یا اس کے بعد۔۔۔ اس کا حصول خلافت و امارت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے شامی رفقاء کا کہنا تھا کہ پہلے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لیا جائے اس کے بعد ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کریں گے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 129، فتح الباری: جلد 13 صفحہ 92)
قاضی ابن العربی فرماتے ہیں: ’’اہل شام اور اہل عراق میں لڑائی کا سبب دونوں گروہوں کے مؤقف میں اختلاف تھا۔‘‘
عراقی اس امر کے داعی تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کی جائے اور ان کی امامت پر اتفاق کیا جائے جبکہ شامی اس بات کے داعی تھے کہ پہلے قاتلین عثمان کو ہمارے حوالہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم قاتلوں کو پناہ دینے والے سے بیعت نہیں کریں گے۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 162)
امام الحرمین فرماتے ہیں: ’’اگرچہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قتال کیا مگر انہوں نے ان کی امامت سے انکار نہیں کیا اور نہ کبھی اپنے لیے اس کا دعویٰ کیا۔ وہ صرف خلیفہ مظلوم کے قاتلوں کو طلب کر رہے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ میرا مؤقف صحیح ہے جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ غلطی پر ہیں۔‘‘
(لمع الادلۃ فی عقائد اہل السنۃ و الجماعۃ: صفحہ 115)
حضرت ہیثمیؒ فرماتے ہیں: ’’اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان لڑی گئی جنگوں کا سبب یہ نہیں تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلافت کے بارے میں کوئی تنازع ہے۔ اس لیے کہ اس بات پر اجماع ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلافت کے زیادہ حق دار تھے۔ یہ فتنہ خلافت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے بھڑکا تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عم زاد تھے اور اس حوالے سے وہ ان کے خون کا مطالبہ کر رہے تھے مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کر دیا۔‘‘
(الصواعق المحرقۃ: جلد 2 صفحہ 622)
ایسی روایات بکثرت موجود ہیں اور وہ اس امر کا اشارہ کرتی ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ لے کر اٹھے تھے اور انہوں نے اس بات کی صراحت کر دی تھی کہ اگر خلیفہ مظلوم کے قاتلوں پر شرعی حد قائم کر دی جائے تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت قبول کر لیں گے اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر شرعی حد قائم کرنے کا موقع مل جاتا تو وہ پھر کیا کرتے؟ اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے اور ان سے بیعت کر لیتے اور ان کے ساتھ وہ تمام لوگ بھی ان سے بیعت کر لیتے جو ان کے ساتھ خلیفہ مظلوم کے قاتلوں پر شرعی حد کے نفاذ کی بنیاد پر لڑ رہے تھے۔ لیکن اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے دل میں کوئی ایسی بات چھپائے ہوئے تھے جس کا انہوں نے اظہار نہیں کیا تھا تو وہ اپنے اس مقصد میں ناکام رہتے اور اپنی خواہشات کی تسکین نہ کر پاتے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 150)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار کاتبان وحی اور قائدین صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے آپ سب سے بڑھ کر حلم و حوصلہ کے مالک تھے۔ دریں حالات یہ کیسے سمجھ لیا جائے کہ وہ ایک ناپائیدار حکومت کے لیے شرعی خلیفہ کے ساتھ جنگ کرتے رہے اور مسلمانوں کے خون بہاتے رہے؟ جبکہ ان کا اپنا یہ فرمان ہے: ’’اللہ کی قسم! اگر مجھے اللہ اور غیر اللہ میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جائے تو میں اللہ کا ہی انتخاب کروں گا۔‘‘
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 151 )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ اے اللہ! انھیں ہادی اور مہدی بنا دیجیے اور ان کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔‘‘
(صحیح سنن ترمذی: رقم الحدیث: 3018، جلد 3 صفحہ 236).
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ’’یا اللہ! انھیں (معاویہ رضی اللہ عنہ ) کتاب کی تعلیم دیجیے اور انھیں عذاب سے محفوظ رکھنا۔‘
(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 319 اس کی سند حسن ہے)
جہاں تک شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کے مؤقف میں غلطی کا تعلق ہے تو اس کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنے کو ردّ کر دیا، خون کا مطالبہ کرنے والے کے لیے اس کا خود فیصلہ کرنا درست نہیں ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ پہلے حاکم کی اطاعت قبول کرے اور پھر اپنا دعویٰ حاکم کے سامنے پیش کرے اور اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 151)
ائمہ فتویٰ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی شخص کے لیے بھی سلطان سے ہٹ کر ازخود کسی سے قصاص لینا اور اپنا حق وصول کرنا جائز نہیں ہے، وہ اس کے لیے سلطان سے رجوع کرے یا اس کے مقرر کردہ کسی صاحب اختیار شخص سے۔ اس لیے کہ ازخود کارروائی کرنے سے فتنہ کھڑا ہو گا اور انتشار پیدا ہو گا۔
(تفسیر قرطبی: جلد 2 صفحہ 256)
یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کیا اور انہوں نے ظن غالب کی رو سے یہ سمجھا کہ حق ان کے ساتھ ہے، انہوں نے اہل شام کو اکٹھا کیا اور انہیں یاد دلایا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عم زاد ہونے کے ناطے ان کے ولی ہیں اور یہ کہ سیدنا عثمانؓ کو ازراہ ظلم قتل کیا گیا ہے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے اس آیت کی تلاوت کی:
وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِىۡ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالۡحَـقِّ وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 33)
ترجمہ: اور جس جان کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے، اسے قتل نہ کرو، الا یہ کہ تمہیں (شرعاً) اس کا حق پہنچتا ہو۔ اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہوجائے تو ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقیناً وہ اس لائق ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔
اور پھر فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تم شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں مجھے مشورہ دو، اس پر تمام کے تمام اہل شام اٹھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے اس کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کی اور ان سے یہ عہد کیا کہ وہ ان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے اپنی جانیں اور اموال قربان کر دیں گے۔
(صفین از ابن مزاحم: صفحہ 32، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 152)
اگر ہم طلحہ، زبیر اور معاویہ رضی اللہ عنہم کے مابین موازنہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے مقابلہ میں چار وجوہ سے درست مؤقف کے زیادہ قریب تھے:
1۔ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا اعتراف کیا اور ان سے بیعت کر لی، جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی فضیلت کا تو اعتراف کیا مگر ان سے بیعت نہیں کی۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 129، فتح الباری: جلد 13 صفحہ 92)
2۔ اسلام اور مسلمانوں میں ان کا مقام و مرتبہ اور ان دونوں کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام قبول کرنا، جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہر دو اعتبار سے ان سے کم ہیں۔
(طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کا شمار ان دس خوش قسمت لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جنت کی بشارت دی گئی تھی)
3۔ ان کا ارادہ صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کرنے والوں کو قتل کرنے تک محدود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جنگ جمل کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے جنگ کرنے کا ارادہ نہ کیا۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 113، تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 475)
جبکہ جنگ صفین میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرنے پر مصر رہے۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 612، 615)
4۔ انہوں نے سیدنا علیؓ کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا تھا کہ وہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے میں سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء نے انھیں اس کا موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 139، البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 259)
ہم ان کے ساتھ پانچویں وجہ کا اضافہ کرتے ہوئے یہ کہنا چاہیں گے کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مؤقف کی صحت کا یقین تھا اور اسی لیے انہوں نے ان کی اطاعت بھی قبول کر لی۔ جنگ کے شعلے بھڑکانے والے شورش پسند اور سبائی گروہ کے لوگ تھے۔