سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کیوں نہ کی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

ابو مسلم خولانیؒ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ علی رضی اللہ عنہ سے تنازع کرتے ہیں، کیا آپ ان سے افضل ہیں؟ انہوں نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے افضل ہیں اور مجھ سے زیادہ خلافت کے حق دار ہیں، لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ازراہ ظلم قتل کیا گیا، میں ان کا عم زاد ہوں، اور ان کے خون کا مطالبہ کرتا ہوں، ان کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ اگر وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو میرے حوالے کر دیں تو میں ان سے بیعت کر لوں گا۔ وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے اس بارے میں بات کی مگر انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے نہ کیا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 140)، اس کے راوی ثقہ ہیں اور اس کی سند جید ہے)

اور یہ جو لوگوں میں ہمیشہ سے مشہور چلا آ رہا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں اختلاف کا سبب یہ تھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت کے خواہش مند تھے اور ان کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کرنا اور ان کی بیعت سے انکار کرنا ہی ان کی شام کی ولایت سے معزولی کا سبب تھا، تو یہ روایات صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہیں۔ کتاب ’’الامارۃ و السیاسۃ‘‘ ابن قتیبہ دنیوری کی طرف منسوب ضرور ہے، مگر یہ کتاب ان کی نہیں ہے اس کتاب کا مولف ذو انفاس رافضی ہے اس میں مندرج ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت کا دعویٰ کیا اور اس کی بنیاد اس روایت پر رکھی گئی کہ ابن الکواء نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’معاویہ اسلام سے منحرف ہیں، ان کا باپ گروہوں کا سردار تھا اور انھوں نے مشورہ کے بغیر خلافت کا دعویٰ کر دیا۔۔۔

(الامامۃ و السیاسۃ: جلد 1 صفحہ 113)

یہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا نہیں بلکہ روافض کا کلام ہے۔ ہم آئندہ چل کر کتاب ’’الامارۃ و السیاسۃ‘‘ کے بارے میں تفصیلی گفتگو کریں گے اور اس کے کذب کی وضاحت کرتے ہوئے ان شاء اللہ یہ بھی بتائیں گے کہ اس نے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے لیے کیا کردار ادا کیا۔ 

تاریخ و ادب کی کتابیں اس قسم کی ضعیف اور موضوع روایات سے بھری پڑی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلافت و امارت اور سرداری کے لیے اختلاف کیا۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 3 صفحہ 145)

جبکہ صحیح بات یہ ہے ان دونوں میں اختلاف اس بارے میں تھا کہ کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کے قصاص لینے سے پہلے واجب ہے یا اس کے بعد۔۔۔ اس کا حصول خلافت و امارت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے شامی رفقاء کا کہنا تھا کہ پہلے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لیا جائے اس کے بعد ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کریں گے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 129، فتح الباری: جلد 13 صفحہ 92)

قاضی ابن العربی فرماتے ہیں: ’’اہل شام اور اہل عراق میں لڑائی کا سبب دونوں گروہوں کے مؤقف میں اختلاف تھا۔‘‘

عراقی اس امر کے داعی تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کی جائے اور ان کی امامت پر اتفاق کیا جائے جبکہ شامی اس بات کے داعی تھے کہ پہلے قاتلین عثمان کو ہمارے حوالہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم قاتلوں کو پناہ دینے والے سے بیعت نہیں کریں گے۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 162)

امام الحرمین فرماتے ہیں: ’’اگرچہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قتال کیا مگر انہوں نے ان کی امامت سے انکار نہیں کیا اور نہ کبھی اپنے لیے اس کا دعویٰ کیا۔ وہ صرف خلیفہ مظلوم کے قاتلوں کو طلب کر رہے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ میرا مؤقف صحیح ہے جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ غلطی پر ہیں۔‘‘

(لمع الادلۃ فی عقائد اہل السنۃ و الجماعۃ: صفحہ 115)

حضرت ہیثمیؒ فرماتے ہیں: ’’اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان لڑی گئی جنگوں کا سبب یہ نہیں تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلافت کے بارے میں کوئی تنازع ہے۔ اس لیے کہ اس بات پر اجماع ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلافت کے زیادہ حق دار تھے۔ یہ فتنہ خلافت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے بھڑکا تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عم زاد تھے اور اس حوالے سے وہ ان کے خون کا مطالبہ کر رہے تھے مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کر دیا۔‘‘

(الصواعق المحرقۃ: جلد 2 صفحہ 622)

ایسی روایات بکثرت موجود ہیں اور وہ اس امر کا اشارہ کرتی ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ لے کر اٹھے تھے اور انہوں نے اس بات کی صراحت کر دی تھی کہ اگر خلیفہ مظلوم کے قاتلوں پر شرعی حد قائم کر دی جائے تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت قبول کر لیں گے اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر شرعی حد قائم کرنے کا موقع مل جاتا تو وہ پھر کیا کرتے؟ اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے اور ان سے بیعت کر لیتے اور ان کے ساتھ وہ تمام لوگ بھی ان سے بیعت کر لیتے جو ان کے ساتھ خلیفہ مظلوم کے قاتلوں پر شرعی حد کے نفاذ کی بنیاد پر لڑ رہے تھے۔ لیکن اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے دل میں کوئی ایسی بات چھپائے ہوئے تھے جس کا انہوں نے اظہار نہیں کیا تھا تو وہ اپنے اس مقصد میں ناکام رہتے اور اپنی خواہشات کی تسکین نہ کر پاتے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 150)

صفحہ 2 از 3