سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کیوں نہ کی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار کاتبان وحی اور قائدین صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے آپ سب سے بڑھ کر حلم و حوصلہ کے مالک تھے۔ دریں حالات یہ کیسے سمجھ لیا جائے کہ وہ ایک ناپائیدار حکومت کے لیے شرعی خلیفہ کے ساتھ جنگ کرتے رہے اور مسلمانوں کے خون بہاتے رہے؟ جبکہ ان کا اپنا یہ فرمان ہے: ’’اللہ کی قسم! اگر مجھے اللہ اور غیر اللہ میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جائے تو میں اللہ کا ہی انتخاب کروں گا۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 151 )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ اے اللہ! انھیں ہادی اور مہدی بنا دیجیے اور ان کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔‘‘

(صحیح سنن ترمذی: رقم الحدیث: 3018، جلد 3 صفحہ 236).

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ’’یا اللہ! انھیں (معاویہ رضی اللہ عنہ ) کتاب کی تعلیم دیجیے اور انھیں عذاب سے محفوظ رکھنا۔‘

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 319 اس کی سند حسن ہے)

جہاں تک شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کے مؤقف میں غلطی کا تعلق ہے تو اس کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنے کو ردّ کر دیا، خون کا مطالبہ کرنے والے کے لیے اس کا خود فیصلہ کرنا درست نہیں ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ پہلے حاکم کی اطاعت قبول کرے اور پھر اپنا دعویٰ حاکم کے سامنے پیش کرے اور اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 151)

ائمہ فتویٰ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی شخص کے لیے بھی سلطان سے ہٹ کر ازخود کسی سے قصاص لینا اور اپنا حق وصول کرنا جائز نہیں ہے، وہ اس کے لیے سلطان سے رجوع کرے یا اس کے مقرر کردہ کسی صاحب اختیار شخص سے۔ اس لیے کہ ازخود کارروائی کرنے سے فتنہ کھڑا ہو گا اور انتشار پیدا ہو گا۔

(تفسیر قرطبی: جلد 2 صفحہ 256)

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کیا اور انہوں نے ظن غالب کی رو سے یہ سمجھا کہ حق ان کے ساتھ ہے، انہوں نے اہل شام کو اکٹھا کیا اور انہیں یاد دلایا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عم زاد ہونے کے ناطے ان کے ولی ہیں اور یہ کہ سیدنا عثمانؓ کو ازراہ ظلم قتل کیا گیا ہے اور انہوں نے لوگوں کے سامنے اس آیت کی تلاوت کی:

وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِىۡ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالۡحَـقِّ‌ وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ‌ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 33)

ترجمہ: اور جس جان کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے، اسے قتل نہ کرو، الا یہ کہ تمہیں (شرعاً) اس کا حق پہنچتا ہو۔ اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہوجائے تو ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقیناً وہ اس لائق ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔

اور پھر فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تم شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں مجھے مشورہ دو، اس پر تمام کے تمام اہل شام اٹھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے اس کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کی اور ان سے یہ عہد کیا کہ وہ ان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے اپنی جانیں اور اموال قربان کر دیں گے۔

(صفین از ابن مزاحم: صفحہ 32، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 152)

اگر ہم طلحہ، زبیر اور معاویہ رضی اللہ عنہم کے مابین موازنہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے مقابلہ میں چار وجوہ سے درست مؤقف کے زیادہ قریب تھے:

1۔ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا اعتراف کیا اور ان سے بیعت کر لی، جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی فضیلت کا تو اعتراف کیا مگر ان سے بیعت نہیں کی۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 129، فتح الباری: جلد 13 صفحہ 92)

2۔ اسلام اور مسلمانوں میں ان کا مقام و مرتبہ اور ان دونوں کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام قبول کرنا، جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہر دو اعتبار سے ان سے کم ہیں۔

(طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کا شمار ان دس خوش قسمت لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جنت کی بشارت دی گئی تھی)

3۔ ان کا ارادہ صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کرنے والوں کو قتل کرنے تک محدود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جنگ جمل کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے جنگ کرنے کا ارادہ نہ کیا۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 113، تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 475)

جبکہ جنگ صفین میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرنے پر مصر رہے۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 612، 615)

4۔ انہوں نے سیدنا علیؓ کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا تھا کہ وہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے میں سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء نے انھیں اس کا موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 139، البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 259)

ہم ان کے ساتھ پانچویں وجہ کا اضافہ کرتے ہوئے یہ کہنا چاہیں گے کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مؤقف کی صحت کا یقین تھا اور اسی لیے انہوں نے ان کی اطاعت بھی قبول کر لی۔ جنگ کے شعلے بھڑکانے والے شورش پسند اور سبائی گروہ کے لوگ تھے۔


صفحہ 3 از 3