Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے خط کا جواب دیتے ہیں

  علی محمد الصلابی

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت سے خطوط لکھے مگر انہوں نے کسی بھی خط کا جواب نہ دیا، آخرکار انہوں نے ایک آدمی کے ہاتھ ایک مکتوب بھیجا، جب وہ آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے دریافت کیا: تیرے پیچھے کیا کچھ ہے؟ اس نے جواب دیا: میں تمہارے پاس ان لوگوں کے پاس سے آیا ہوں جو صرف قصاص چاہتے ہیں اور وہ سب کے سب بدلہ لینے پر تلے ہوئے ہیں۔ میں نے وہاں ستر ہزار ایسے شیوخ کو چھوڑا ہے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی قمیص پر رو رہے ہیں اور قمیص دمشق کے منبر پر رکھی ہے۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میرے اللہ! میں تیرے حضور عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا قاصد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا، اسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کرنے والوں نے قتل کرنے کا ارادہ کیا مگر وہ ان سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 240 )