سیدنا علی رضی اللہ عنہ شام سے جنگ کرنے کی تیاری کرتے ہیں
علی محمد الصلابیامیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام تحریر کردہ اپنے خطوط کا جواب وصول کرنے کے بعد اہل شام کے ساتھ جنگ کرنے کا عزم کر لیا۔ انہوں نے مصر میں قیس بن سعدؓ، کوفہ میں ابو موسیٰ اشعریؓ اور بصرہ میں عثمان بن حنیفؓ کو خطوط لکھے کہ وہ لوگوں کو شامیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے تیار کریں۔ سیدنا علیؓ نے خود بھی لوگوں سے مخاطب ہو کر انہیں جنگ کی ترغیب دلائی اور پھر اس کی تیاری کا ارادہ کر لیا۔ شہر پر قثم بن عباس کو اپنا نائب مقرر فرما کر خود یہ ارادہ لے کر شہر سے نکل کھڑے ہوئے کہ مجھے اپنے اطاعت گزاروں کو ساتھ لے کر اپنے نافرمانوں کے ساتھ لڑنا ہے۔ مگر قثم نے ان کے حکم سے انحراف کیا اور دوسرے لوگوں کے ساتھ سیدنا علیؓ سے بیعت نہ کی۔ اس دوران ان کے صاحبزادے حضرت حسین رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ابا جان! یہ کام چھوڑیں اس کی وجہ سے مسلمانوں کی خون ریزی ہو گی مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی بات کو قبول نہ کیا اور اپنے ارادے پر ڈٹے رہے۔ سیدنا علیؓ نے لشکر کو ترتیب دیا۔ پرچم محمد بن حنفیہؓ کو دیا، ابن عباسؓ کو میمنہ پر اور عمر بن ابوسلمہؓ کو میسرہ پر مقرر کیا۔ ایک دوسری روایت کی رو سے میسرہ پر عمرو بن سفیان بن عبدالاسد کو اور اس کے مقدمہ پر ابوعبیدہ بن جراحؓ کے بھتیجے لیلیٰ بن عمرو بن جراحؓ کو مقرر کیا اور مدینہ پر قثم بن عباسؓ کو اپنا نائب بنایا۔ اب صرف یہی کام باقی رہ گیا تھا کہ آپ مدینہ سے نکل کر شام کے لیے روانہ ہو جائیں کہ اس دوران کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو گئی جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس سے روک دیا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 240، 241)
مزید تفصیل کے لیے میری کتاب سیرۃ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ملاحظہ فرمائیں۔
(علی بن ابی طالب از صلابی: جلد 1 صفحہ 498، 624)