معرکہ جمل کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنا
علی محمد الصلابیامیر المؤمنین علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ 36 ھ میں بائیس رجب کو سوموار کے دن کوفہ میں داخل ہوئے تو ان سے کہا گیا کہ آپؓ قصر ابیض میں قیام فرمائیں، مگر آپؓ نے یہ کہتے ہوئے اس سے انکار کر دیا کہ چونکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے تھے، لہٰذا میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں، چنانچہ آپ ایک کھلی جگہ سواری سے اترے اور مسجد میں دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ انہیں خیر کی ترغیب دلائی اور شر سے منع فرمایا۔ انہوں نے اس خطبہ کے دوران اہل کوفہ کی مدح و ستائش کی۔ پھر سیدنا علی المرتضیٰؓ نے والی ہمدان جریر بن عبداللہؓ اور آذر بیجان کے نائب والی اشعث بن قیسؓ کو حکم دیا کہ وہ وہاں موجود لوگوں سے ان کے لیے بیعت لیں اور پھر ان کے پاس حاضر ہوں، چنانچہ انہوں نے آپؓ کے حکم کی تعمیل کی۔ جب آپ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنی بیعت کی دعوت دینے کے لیے انہیں پیغام بھیجنے کا ارادہ کیا تو جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: امیر المؤمنین! ان کے پاس میں جاؤں گا اس لیے کہ ہمارے درمیان دوستی کا رشتہ ہے، ان سے آپ کے لیے بیعت میں لوں گا۔ یہ سن کر اشتر کہنے لگا: امیر المؤمنین! انہیں مت بھیجیں، مجھے ڈر ہے کہ ان کے ساتھ ان کی ذاتی خواہش بھی ہو گی۔ مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی بات کو رد کرتے ہوئے حضرت جریرؓ کو حضرت معاویہؓ کے پاس بھیجا اور ان کو سیدنا امیر معاویہؓ کے نام ایک خط دیا جس میں انہیں بتایا گیا تھا کہ انصار و مہاجرین کا ان کی بیعت پر اتفاق ہو چکا ہے اس خط میں انہیں واقعہ جمل میں ہونے والے واقعات سے بھی آگاہ کیا گیا تھا اور دوسرے لوگوں کی طرح انہیں بھی اپنی بیعت کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ جب جریر بن عبداللہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپ نے انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خط دیا۔ خط پڑھنے کے بعد انہوں نے عمرو بن العاصؓ اور اہل شام کے سرکردہ لوگوں کو اپنے پاس بلایا اور ان سے مشاورت کی مگر انہوں نے اس وقت تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا جب تک قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے قصاص میں قتل نہیں کر دیا جاتا یا انہیں ان کے حوالے نہیں کر دیا جاتا اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر وہ ان سے جنگ کریں گے اور ان سے بیعت نہیں کریں گے، چاہے اس کی پاداش میں ان سب کو قتل ہی کیوں نہ کر دیا جائے۔ جریر، سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہیں شامی رؤساء کی باتوں سے مطلع کیا۔ اس پر اشتر کہنے لگا: امیر المؤمنین! کیا میں نے آپ کو حضرت جریر رضی اللہ عنہ کو وہاں بھیجنے سے منع نہیں کیا تھا؟ اگر آپؓ اس کی جگہ مجھے بھیجتے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جو بھی دروازہ کھولتے میں اسے بند کر دیتا۔ اس پر جریرؓ نے ان سے کہا: اگر وہاں تو ہوتا تو وہ تجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے بدلے میں قتل کر ڈالتے۔ الغرض جریر رضی اللہ عنہ ناراض ہو کر وہاں سے اٹھے اور قرقیسیاء کے مقام پر جا کر قیام پذیر ہو گئے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک خط کے ذریعے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی پوری تفصیل سے آگاہ کر دیا جس کے جواب میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک خط کے ذریعے اپنے پاس آنے کا حکم دیا اور وہ وہاں چلے گئے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 265)
یوں اشتر نے جلیل القدر صحابی جریر بن عبداللہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دور کر دیا جو قرقیسیاء اور دوسرے علاقوں کے والی اور اپنے قبیلہ کے سردار تھے۔ یہ وہی جریر بن عبداللہ بجلی ہیں جنہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب بھی دیکھا مسکرا دئیے۔ انہی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’تمہارے پاس اس دروازے سے وہ شخص آئے گا جس کا شمار یمن کے بہترین لوگوں میں ہوتا ہے جس کے چہرے پر فرشتے کا لمس ہو گا۔‘‘
(صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2475)