امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شام روانگی
علی محمد الصلابیامیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ شام کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہوئے تو اس کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کیا۔ اس لشکر کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات ہیں اور وہ سب کی سب ضعیف ہیں۔
(سیرۃ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب: جلد 2 صفحہ 630)
بجز ایک روایت کے جس کی سند حسن ہے۔ اس میں مذکور ہے کہ اس کی تعداد پچاس ہزار تھی۔
(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 193، حسن سند کے ساتھ)
یہ لشکر نخلہ (نخلہ، شام کی طرف سے کوفہ کے قریب ایک جگہ۔ معجم البلدان: جلد 5 صفحہ 268)
کے مقام پر جمع ہوا جو کہ اس وقت کوفہ سے دو میل کے فاصلہ پر تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس عراق کے مختلف صوبوں سے قبائل آنا شروع ہو گئے۔
(خلافۃ علی بن ابی طالب از عبدالحمید: صفحہ 188)
آپ اس بھاری بھر کم لشکر کے ساتھ مدائن کی طرف روانہ ہوئے اور اس میں موجود سارے جنگجو بھی اس میں شامل ہو گئے۔ آپ نے مدائن پر سعد بن مسعود ثقفی کو عامل مقرر کیا اور وہاں سے تین ہزار پر مشتمل ایک دستہ موصل روانہ کیا،
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 603 منقطع سند کے ساتھ)
اور خود دریائے فرات کے مشرقی کنارہ پر واقع جزیرہ کے رئیسی راستے پر چلتے ہوئے قرقیسیا (قرقیسیا، دریائے فرات میں گرنے کے مقام پر دریائے خابور پر واقع ایک شہر۔ معجم البلدان: جلد 4 صفحہ 328) کے قریب پہنچ گئے۔ اس دوران آپ کے پاس یہ خبریں آنا شروع ہو گئیں کہ ان سے ٹکراؤ کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ صفین کے مقام پر خیمہ زن ہو چکے ہیں۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی رقہ (رقہ، شام میں دریائے فرات پر واقع ایک مشہور شہر) کی طرف بڑھے، رقہ کے قریب سے دریائے فرات کو عبور کیا اور صفین کے مقام پر ڈیرے ڈال دیے۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 604)