Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صفین کی طرف روانگی

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو عراقی لشکر کی صفین کی طرف پیش قدمی کا علم ہوا تو انہوں نے شام کے سرکردہ لوگوں پر مشتمل اپنے مشیروں کو جمع کیا اور ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: سیدنا علی عراقیوں کے ساتھ تمہارا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس پر ذو الکلاع حمیری کہنے لگا: آپ حکم کریں ہم آپ کے ہر حکم کی تعمیل کریں گے۔

(الاصابۃ: جلد 1 صفحہ 480، خلافۃ علی بن ابی طالب از عبدالحمید: 192)

قبل ازیں اہل شام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لینے اور اس کے لیے جنگ کرنے پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر چکے تھے۔ 

(انساب الاشراف: جلد 2 صفحہ 52 )

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ لشکر کو جنگ کی ترغیب دلانے کے لیے گویا ہوئے: اہل عراق نے اپنی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ اپنی طاقت کو کمزور کر دیا اور تلواروں کو دندانے ڈال دیے ہیں۔ مزید برآں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مخالف اہل بصرہ نے انہیں شکست سے دوچار کر کے اسے برباد کر دیا ہے اور جمل کے دن ان کے سردار تباہی سے دوچار ہو چکے ہیں۔ اب سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک چھوٹی سی جماعت لے کر تمہاری طرف بڑھ رہے ہیں اور ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو تمہارے خلیفہ کے قاتل ہیں۔ اپنے حقوق ضائع کرنے اور اپنے خون باطل کرنے سے اللہ سے ڈرو۔

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 601، منقطع سند کے ساتھ.)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ ان کی تعداد کتنی تھی؟ اس بارے روایات مختلف ہیں اور ان تمام کی اسانید منقطع ہیں اور یہ وہی روایات ہیں جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی تعداد بتائی گئی ہے۔ ان میں سے کسی روایت میں ایک لاکھ بیس ہزار کی تعداد بتائی گئی ہے کسی میں ستر ہزار کی اور کسی میں اس سے بھی بہت زیادہ۔ مگر اقرب الی الصواب بات یہ ہے کہ یہ لشکر ستر ہزار کی نفری پر مشتمل تھا۔

(خلافۃ علی بن ابی طالب از عبدالحمید: صفحہ 194)

اگرچہ اس روایت کی سند بھی منقطع ہے، مگر اس کا راوی صفوان بن عمرو سکسکی حمصی ہے جس کا تعلق اہل شام سے ہے اور جو 72ھ میں پیدا ہوا اور وہ ثقہ ہے اور جیسا کہ اس کے حالات زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے

(سیر اعلام النبلاء: جلد 6 صفحہ 380 )

اس نے جنگ صفین میں شامل ہونے والے بہت سے لوگوں کا زمانہ پایا اور اس تک کی سند صحیح ہے۔

(خلافۃ علی بن ابی طالب از عبدالحمید: صفحہ 194)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کے قائدین کی ترتیب اس طرح سے تھی: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اہل شام کے تمام شہسواروں کے سردار تھے۔ ضحاک بن قیس پیدل لوگوں کے، ذوالکلاع حمیری میمنۃ الجیش کے، حبیب بن مسلم میسرۃ الجیش کے اور ابو الاعور السلمی مقدمۃ الجیش کے قائد تھے۔ یہ بڑے قائدین تھے جبکہ ہر قائد کے ماتحت کئی کئی قائد تھے جنہیں قبائل کے لحاظ سے تقسیم کیا گیا تھا۔ لشکر معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ ترتیب صفین کی طرف روانگی کے دوران تھی مگر جنگ کے دوران حسب ضرورت قائدین کو تبدیل کیا جاتا رہا۔ غالباً اسی وجہ سے بعض مصادر میں قائدین کے ناموں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

(امتداد العرب فی صدر الاسلام از صالح العلی خلافۃ علی: صفحہ 194)