Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پانی کے لیے لڑائی

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا لشکر صفین پہنچا تو وہاں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا لشکر پہلے سے خیمہ زن تھا۔ جب انہیں لشکر کے لیے کافی اور مناسب کھلی جگہ نہ ملی تو انہیں قدرے دشوار جگہ پر خیمہ زن ہونا پڑا اس لیے کہ یہ زمین زیادہ تر پتھریلی اور ٹیلوں والی تھی۔

(صفین از نصر بن مزاحم: صفحہ 160، 161)

اس دوران عراقی لشکر کو اچانک یہ اطلاع ملی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان تک پانی کی ترسیل روک دی ہے۔ اس پر بعض لوگ گھبراہٹ کے عالم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے اس بارے میں شکایت کی۔ سیدنا علیؓ نے اشعث بن قیسؓ کی طرف پیغام بھیجا تو وہ دو سو کی نفری لے کر لشکر سے باہر نکلے اور پھر فریقین کے درمیان پہلی جنگ چھڑی جس میں اشعث کامیاب ہوا اور اس نے پانی پر قبضہ جما لیا۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 294، حسن سند کے ساتھ)

مگر دوسری روایت میں اس واقعہ کا سرے سے ہی انکار کیا گیا ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ اشعث بن قیس، معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگا: معاویہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تم یہی سمجھو گے کہ تم نے اہل عراق کو قتل کر دیا۔ مگر ان وفود اور بچوں کا کون ذمہ دار ہے؟ اللہ تو فرماتا ہے:

وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌۞ (سورۃ الحجرات آیت 9)

ترجمہ: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ 

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: ہمارے اور پانی کے درمیان راستہ کھول دو۔ اس پر انہوں نے ابو الاعور سے فرمایا: ہمارے بھائیوں اور پانی کے درمیان راستہ کھول دو۔

(خلافۃ علی بن ابی طالب از عبدالحمید: صفحہ 197، 198۔ تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 614، البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 266)

فریقین میں پہلے دن لڑائی پانی کے لیے ہوئی اور یہ ماہ ذوالحجہ کے آغاز کی بات ہے۔ جس سے مسلمانوں کی دو جماعتوں پر برائی کا دروازہ کھل گیا۔ اس پورے مہینے کے دوران فریقین میں مسلسل جنگ جاری رہی۔ لڑائی کی صورت یہ تھی کہ طرفین میں سے ایک ایک سردار اپنی اپنی محدود جماعت لے کر نکلتا۔ یہ دونوں جماعتیں کبھی صبح کے وقت اور کبھی شام کے وقت دن میں ایک بار اور کبھی دو بار لڑتیں اور دوسرا لشکر انہیں خاموشی سے دیکھتا رہتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر سے جو امراء زیادہ تر میدان میں اترتے، وہ تھے: اشتر، حجر بن عدی، شبت بن ربعی، خالد بن معتمر اور معقل بن یسار ریاحی۔ جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر سے زیادہ تر یہ لوگ نکلتے: حبیب بن مسلمہ، عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید، عبیداللہ بن عمر بن خطاب، ابو الاعور سلمی اور شرحبی بن السمط۔ طرفین نے ہلاکت اور یکسر تباہی کے خوف سے پورے لشکر کے ساتھ جنگ کرنے سے اجتناب کیا علاوہ ازیں انہیں یہ امید بھی تھی کہ شاید طرفین میں صلح ہو جائے جس سے انسانی جانوں اور خون کو بچایا جا سکے۔