فریقین میں صلح کی کوششیں
علی محمد الصلابیماہ ذوالحجہ کے بعد جب محرم کا مہینہ شروع ہوا تو طرفین نے لڑائی بند کر کے ایک دوسرے کے ساتھ خط و کتابت کے ذریعہ سے یا براہ راست بات چیت کے ذریعہ سے صلح کی کوششیں جاری رکھیں تاکہ مسلمانوں کی جانوں کو ضیاع سے بچایا جا سکے۔ اگرچہ ماہ محرم کے دوران کے مراسلات کے بارے میں معلومات ضعیف الاسناد اور مشہور روایات (تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 613، خلافۃ علی بن ابی طالب: صفحہ 119)
کے ذریعہ سے ہمارے سامنے آئی ہیں مگر ان کا ضعف ان کے عدم وجود پر دلالت نہیں کرتا۔ سب سے پہلے سلسلہ خط و کتابت امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے شروع کیا گیا۔ انہوں نے بشیر بن عمرو انصاری، سعید بن قیس ہمدانی اور شبت بن ربعی تمیمی کو معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور انہیں امیرالمؤمنین علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنے اور ان کی اطاعت قبول کرنے کی دعوت دی مگر انہوں نے حسب سابق اپنا یہ مطالبہ دہرایا کہ وہ پہلے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے حوالے کریں یا وہ خود ان سے قصاص لیں اس کے بعد وہ ان سے بیعت کر لیں گے جبکہ اس بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مؤقف ہمارے سامنے ہے۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 613، خلافۃ علی بن ابی طالب: 199)
فریقین کے قراء و علماء کی بھی بہت ساری تعداد صفین کے ایک کونے میں خیمہ زن تھی انہوں نے بھی طرفین میں مصالحت کی بڑی کوششیں کیں مگر ان کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا اس لیے کہ ہر فریق اپنے موقف پر ڈٹا ہوا تھا۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 614)
اس دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ابودرداء اور ابو امامہ رضی اللہ عنہما نے بھی ان لوگوں میں صلح کروانے کے لیے بڑی تگ و دو کی مگر وہ بھی اپنے مقصد میں ناکام رہے، لہٰذا وہ فریقین سے الگ ہو گئے اور پھر ان کے کسی معاملہ میں کوئی کردار ادا نہ کیا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 270 )
اسی طرح کبار تابعینؒ میں سے ایک شخص مسروق بن اجدرع تشریف لائے اور لوگوں کو باہمی رنجشیں دور کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! خاموش ہو جاؤ مجھے یہ بتاؤ اگر کوئی آواز دینے والا تمہیں آسمان سے آواز دے تو تم اسے ضرور سنو گے اور اس کی بات پر غور بھی کرو گے۔ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تمہیں اس سے منع کرتا ہے۔ کیا تم اس کی بات تسلیم کرو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم جبریل یہ پیغام لے کر ہمیشہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتے رہے:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمۡ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡـفُسَكُمۡ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا ۞( سورۃ النساء آیت 29)
ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، الا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضا مندی سے وجود میں آئی ہو (تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔
انہوں نے یہ کہا اور پھر اپنی راہ لی۔
(طبقات ابن سعد: جلد 6 صفحہ 78، القراء دورہم فی الحیات العامۃ فی صدر الاسلام و الخلافۃ الامویۃ، از ہادی حسین حمود)
ابو مخنف اور نصر بن مزاحم کی روایت میں طرفین کے درمیان سلسلہ خط و کتابت کے حوالے سے جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں ان پر نقد و تبصرہ کرتے ہوئے ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل سیر نے طرفین میں مذاکرات پر مشتمل جو طویل گفتگو نقل کی ہے تو میرے نزدیک اس کی صحت مشکوک ہے۔ اس حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے باپ کی تنقیص پر مشتمل گفتگو اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر غیر مناسب تبصرہ میرے نزدیک صحیح نہیں ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 269)
شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مؤقف بالکل واضح تھا، جسے میں نے اپنی اس کتاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی سیرت پر مشتمل اپنی دوسری کتاب میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔