لیلۃ الہریر اور جمعہ کا دن
علی محمد الصلابیاس رات اتنا زور کا رن پڑا کہ گزشتہ دنوں میں اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہے۔ رات بھر جنگ ہوتی رہی جس کے نتیجہ میں نعشوں کے انبار لگ گئے اور خون کی ندیاں بہہ نکلیں۔ اس رات کے خونریز معرکہ میں شامی کمزور نظر آ رہے تھے۔ اس دوران خود امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے بھی زبردست قتال کیا اور موت پر بیعت کی۔
(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 402، خلافۃ علی: صفحہ 226)
مذکور ہے کہ اس دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کو مغرب کی نماز صلاۃ الخوف کے طور سے پڑھائی۔
(سنن الکبری از بیہقی: جلد 3 صفحہ 252)
امام شافعیؒ فرماتے ہیں: صحیح طور سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہریر کی رات صلاۃ الخوف پڑھائی۔
(ارواء الغلیل: جلد 3 صفحہ 42)
ایک چشم دید گواہ کا بیان ہے کہ ہم تین دن اور تین راتیں مسلسل جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ جب نیزے ٹوٹ گئے اور تیر ختم ہو گئے
(تلخیص الحبیر: جلد 2 صفحہ 74، خلافۃ علی بن ابی طالب: صفحہ 227)
تو ہم ہاتھوں سے لڑنے لگے اور چہروں پر مٹی اور پتھر پھینکنے لگے اور ایک دوسرے کو دانتوں سے کاٹنے لگے۔ جب دو آدمی باہم لڑتے لڑتے نڈھال ہو جاتے تو بیٹھ کر آرام کرنے لگتے اور اس کے بعد پھر ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہو جاتے۔ ان کی یہی صورت رہی یہاں تک کہ لوگوں نے جمعہ کے دن کی صبح کی اور صبح کی نماز اشاروں سے ادا کی حتیٰ کہ دن روشن ہو گیا اور عراقیوں کو شامیوں پر برتری حاصل ہونے لگی۔
(شذرات الذہب: جلد 1 صفحہ 45، وقعۃ صفین: 369 البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 283)