تحکیم کی تجویز - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تحکیم کی تجویز

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

لیلۃ الہریر کے بعد دونوں لشکر جس سنگین ترین صورت حال سے دوچار ہو گئے تھے اس کے بعد مزید لڑائی کا کوئی احتمال باقی نہیں بچا تھا۔ اس رات کندہ کے زعیم اشعث بن قیس نے اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: مسلمانو! گزشتہ رات تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے تم بخوبی آگاہ ہو اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس دن عربوں کی کتنی بڑی تعداد موت کے گھاٹ اتر گئی۔ اللہ کی قسم! میں نے اپنی اس طویل عمر کے دوران اس قسم کے حالات کا مشاہدہ کبھی نہیں کیا۔ میری یہ بات توجہ سے سن لیں کہ اگر ہم ایک دوسرے سے پھر ٹکرائے تو اس میں عربوں کی تباہی بھی یقینی ہے اور حرمتوں کی پامالی بھی۔ خبردار! اللہ کی قسم! میں یہ بات جنگ سے گھبرا کر نہیں کر رہا۔ میں ایک بوڑھا آدمی ہوں۔ مجھے یہ ڈر کھائے جا رہا ہے کہ اگر کل ہم فنا ہو گئے تو ہماری عورتوں اور بچوں کا کیا بنے گا۔ یا اللہ تو جانتا ہے کہ میں نے ہمیشہ اپنی قوم اور اپنے اہل دین کے لیے سوچا اور میں نے اس حوالے سے کبھی کوئی کوتاہی نہیں کی۔

(وقعۃ صفین از متفری: صفحہ 479)

جب یہ خبر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ کہنے لگے: رب کعبہ کی قسم! اس نے درست کہا۔ اگر یہ خونریز جنگ جاری رہی تو مسلمانوں کی قوت تباہ ہو جائے گی تو رومی ہمارے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیں گے اور ایرانی عراقیوں کے اہل و عیال پر قبضہ جما لیں گے۔ ارباب دانش و بینش اور عاقبت اندیش لوگوں کو یہ صورت حال صاف نظر آ رہی ہے، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ نیزوں کے کناروں پر قرآن باندھ دو۔

(ایضاً: صفحہ 481، 484)

یہ عراقی روایت ہے۔ اس میں نہ تو عمرو بن العاصؓ کا ذکر ہے اور نہ کسی دھوکہ دہی یا حیلہ گری کا ہی۔ اصل بات یہ ہے کہ باہمی صلح و صفائی فریقین کی خواہش تھی۔ یہ چیز سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے لیے حیران کن نہیں ہے کہ وہ باہم متصادم امت کی بچی کھچی طاقت کو بچانے کے لیے کوئی دلیرانہ اقدام کریں۔ یہ بات امت کے ان دشمنوں کے لیے پریشان کن ہے جنہوں نے اس فتنہ کی آگ بھڑکائی اور پھر ہمارے لیے اپنے پیچھے ایسی گمراہ کن روایات کے پلندے چھوڑ گئے جو حق کو باطل اور فضل و شرف کو جرم، سازش اور حیلہ گری میں تبدیل کر دیتی ہیں۔

(الدولۃ الاسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 316)

ان اعدائے امت نے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی جانب ایسے جھوٹے اقوال منسوب کر دئیے جو صحیح روایات سے یکسر متعارض ہیں۔ مثلاً ان کا یہ قول کہ شامی سپاہ کی طرف سے نیزوں پر قرآن بلند کرنا محض دھوکہ اور فریب ہے۔

(الکامل: جلد 2 صفحہ 386)

اسی طرح قرآن بلند کرنے کے بارے میں ان کا یہ قول کہ یہ سب کچھ بدکار عورت کے بیٹے کے مشورہ سے ہوا۔

(ایضاً: جلد 5 صفحہ 662، 663)

ان اعدائے امت اور اعداء اسلام نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے خلاف اس قدر جھوٹا پروپیگنڈہ کیا کہ آپ تاریخ کی جو کتاب بھی اٹھائیں گے اس میں ان کی تنقیص ضرور نظر آئے گی اور انہیں دھوکہ باز اور مکار کے القاب سے نوازا گیا ہو گا، اور یہ سب کچھ ان روایات کی وجہ سے ہے جنہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں نے وضع کیا اور ابن اثیر، طبری و دیگر نے انہیں اپنی کتابوں میں نقل کر دیا اور پھر اسی بیماری میں عصر حاضر کے اکثر مؤرخین بھی مبتلا ہوگئے۔ مثلاً حسن ابراہیم حسن تاریخ الاسلام میں، محمد خضری بک تاریخ الدولۃ الامویۃ میں اور عبدالوہاب نجار تاریخ الخلفاء الراشدون میں اور کتنے ہی ایسے دیگر مؤرخین جنہوں نے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے میں اپنا سا کردار ادا کیا۔

ابن مخنف کی روایت یہ تصور کراتی ہے کہ جب اہل شام نے تحکیم قرآن کی تجویز پیش کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پہلے تو اسے مسترد کر دیا اور پھر بعد ازاں اسے ان قراء کے دباؤ کے تحت قبول کر لیا جو آگے چل کر خوارج کے نام سے معروف ہوئے۔

(الکامل: جلد 5 صفحہ 662، 663)

یہ روایت اس امر کی متقاضی ہے کہ معاذ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو برا بھلا کہا۔ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ امت کے سادات اور پھر خاص طور سے ان کے رئیس اور امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کسی کو گالی دیں۔ اس روایت کے غیر معتبر ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس کا ایک راوی ابو مخنف رافضی ہے اور یہ ایسی روایت ہے جو ایک پاکیزہ بحث میں قدم نہیں جما سکتی اور نہ یہ اس روایت کے سامنے ہی ٹھہر سکتی ہے جسے امام احمد بن حنبلؒ حبیب بن ابو ثابت کے طریق سے روایت کرتے ہیں، حبیب کا بیان ہے کہ ابو وائل (حضرت علی کے طرف دار) کے پاس آیا تو اس نے بتایا کہ ہم جنگ صفین میں شامل تھے جب اہل شام کے ساتھ جنگ کا محاذ گرم ہو گیا تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: علی رضی اللہ عنہ کے پاس قرآن بھیجیں اور انہیں کتاب اللہ کی طرف بلائیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس سے انکار نہیں کریں گے۔ ایک آدمی قرآن لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ فیصلہ کرے گی:

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يُدۡعَوۡنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ وَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 23)

ترجمہ: کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا تھا کہ انہیں اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اس کے باوجود ان میں سے ایک گروہ منہ موڑ کر انحراف کرجاتا ہے۔

صفحہ 1 از 2