تحکیم کی تجویز - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تحکیم کی تجویز

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ تسلیم ہے، میں اس کا زیادہ حق دار ہوں۔ اس پر وہ قراء جو بعد میں خوارج کے نام سے مشہور ہوئے اپنے کندھوں پر تلواریں رکھ کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: امیر المؤمنین! کیا ہم ان لوگوں کے پاس نہ جائیں تاکہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے؟ اس پر سہل بن حنیف انصاریؓ اٹھے اور کہنے لگے: لوگو! اپنے آپ کو ہی الزام دو۔ ہم حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اگر ہم لڑائی کو بہتر خیال کرتے تو ضرور لڑتے، وہ اس صلح کی بات کر رہے تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی، پھر انہوں نے صلح حدیبیہ کے دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے صلح کی مخالفت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ فتح کے نزول کے بارے میں بتایا، اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یقیناً یہ فتح ہے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اس قضیہ کو قبول کیا، آپ واپس مڑے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 8 صفحہ 336، مسند احمد مع الفتح الربانی: جلد 8 صفحہ 483)

سہل بن حنیفؓ نے ان لوگوں کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا جو بھائیوں کے مابین جنگ جاری رکھنے کے داعی تھے۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! اپنے دین کے بارے میں اپنی رائے کو ہی موردِ الزام ٹھہراؤ۔

(بخاری: رقم: 4189)

انہوں نے لوگوں کے سامنے اس بات کو واضح کیا کہ بات چیت اور صلح سے انحراف کا کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں اس لیے کہ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ فتنہ ہے۔ جس کے انجام کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا۔ سہل نے کہا: ہم نے جب بھی کسی ڈر کے وقت تلواریں اپنے کندھوں پر رکھیں تو اس کا نتیجہ وہ نکلا جسے ہم اچھا خیال کرتے تھے مگر اس جنگ کا یہ حال ہے کہ ہم فساد کے ایک سوراخ کو بند کرتے ہیں تو دوسرا کھل جاتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمیں اس سے کس طرح نمٹنا ہے۔

(ایضاً: رقم: 4189 )

ان صحیح روایات میں فتنہ کے علم برداروں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے والوں کی تردید ہے جو جھوٹی اخبار و روایات وضع کر کے اور از خود اشعار گھڑ کے انہیں ان بلند پایہ صحابہ و تابعین کی طرف منسوب کر دیتے ہیں جو جنگ صفین میں شامل رہے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کیے بغیر کتاب اللہ کو حکم تسلیم کرنے کی دعوت اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ان سے بیعت کیے بغیر اسے قبول کر لینا جنگ صفین کے احداث و واقعات کا رخ موڑنے میں ایک اہم قدم ثابت ہوا، اس لیے کہ جس جنگ نے بہت سارے مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اس نے اس امر پر اتفاق کی صورت پیدا کر دی کہ جنگ کو روک کر مسلمانوں کے خون بچانا ایک ایسی ضرورت ہے جس سے امت کی شان و شوکت کا تحفظ اور دشمن کے سامنے اس کی قوت کی حفاظت ہے۔ جو کہ اس کی زندگی اور ذمہ دارانہ رویے کی دلیل ہے۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 38)

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کو موقوف کرنے کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے تحکیم کو پسند کیا اور اسے فتح قرار دیتے ہوئے کوفہ واپس لوٹ گئے،

(ایضاً رقم: 2916)

اور اختلافِ امت کے خاتمہ اور اس میں اتحاد و یگانگت کے لیے تحکیم سے کئی امیدیں وابستہ کر لیں۔

طرفین کی طرف سے تحکیم کے تصور تک رسائی میں چند عوامل نے بنیادی کردار ادا کیا جن میں سے چند حسب ذیل ہیں:

الف: یہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں ٹکراؤ رکوانے اور ان کے خون بچانے کی ان اجتماعی اور انفرادی کوششوں میں سے آخری کوشش تھی جن کا آغاز، جنگ جمل کے فوراً بعد سے ہی ہو گیا تھا مگر ان میں ابھی تک کامیابی حاصل نہ ہو سکی تھی۔ اس سلسلہ کی آخری کوشش گھمسان کی جنگ کے دوران سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا وہ خط تھا جو انہوں نے جنگ بند کرنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نام لکھا اور جس میں کہا گیا تھا کہ اگر فریقین کو علم ہوتا کہ جنگ ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کرے گی تو ہم اپنے ہی خلاف اس جرم کا ارتکاب نہ کرتے۔ اگر ہماری عقل و شعور پر پردے پڑ چکے ہیں تو جو کچھ ہو چکا اس پر ہم ندامت کا اظہار تو کر سکتے ہیں اور جس قدر عقل بچ گئی ہے اس کی اصلاح تو کر سکتے ہیں۔

(الاخبار الطوال: دنیوری: صفحہ 187۔ دراسات فی عہد النبوۃ: صفحہ 432)

ب: مقتولین کی لاشوں کا گرنا، بکثرت خون بہانا اور تباہی سے دوچار ہونے کا خوف، دریں حالات جنگ بند کرنے کا مطالبہ سب کے دلوں کی آواز تھی۔

ج: عرصہ دراز تک جاری رہنے والے قتل و قتال سے لوگ اکتا گئے تھے اور وہ صلح کی آواز سننے کے لیے بڑی بے تابی سے منتظر تھے۔ حتیٰ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی غالب اکثریت بار بار کہا کرتی تھی، ہمیں جنگ کھا گئی۔ اب ہماری بقاء صرف صلح کرنے میں ہے۔

(صفین: صفحہ 482، 485، دراسات فی عہد النبوۃ: صفحہ 433)

مذکورہ بالا امور اس بیمار رویے کی تردید کرتے ہیں کہ قرآن بلند کرنا سیدنا عمرو بن العاصؓ کا دھوکہ تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن بلند کرنے کی فکر کوئی نئی بات نہیں تھی اور نہ ہی یہ عمرو بن العاص کی اختراع تھی۔ بلکہ قبل ازیں جنگ جمل کے موقع پر یہ کام بصرہ کے قاضی کعب بن سور کر چکے تھے۔ جنہیں اس وجہ سے تیر مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

د: صلح و اصلاح کی داعی اس وحی الہٰی کی آواز پر لبیک کہنا:

فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ

ترجمہ: ’’اگر تم کسی چیز میں اختلاف پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔‘‘

اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے تحکیم کی تجویز پیش کی گئی تو انہوں نے فرمایا: ’’ہاں میں اس کا زیادہ حق دار ہوں، ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ہے۔‘‘



صفحہ 2 از 2