سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت اور مسلمانوں پر اس کے اثرات
علی محمد الصلابیآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا: ((تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ)) ’’تمہیں باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ اس حدیث کا شمار صحیح اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ احادیث میں ہوتا ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت کا جنگ صفین پر بڑا گہرا اثر ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے مینارۂ نور تھے، وہ جہاں بھی جاتے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اتباع کرتے، خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں شامل تھے اور انہوں نے اپنا اسلحہ سمیٹ رکھا تھا، پھر جب انہوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو شہید ہوتے دیکھا تو اپنی تلوار سونت کر اہل شام سے لڑنے لگے، اور یہ اس لیے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے بارے میں سن رکھا تھا: ’’انہیں باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘
(مسلم: رقم: 2916)
پھر وہ مسلسل جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
(خلافۃ علی رضی اللہ عنہ: صفحہ 211)
حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے کیمپ پر بھی شدید اثرات مرتب ہوئے۔ ابو عبدالرحمٰن اسلمی اہل شام کے کیمپ میں داخل ہوئے تو انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ، ان کے بیٹے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ابو اعور سلمی کو گھاٹ پر پانی پیتے دیکھا، یہ پانی کا ایک ہی گھاٹ تھا جس سے فریقین پانی پیا کرتے تھے، اس وقت وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے گفتگو کر رہے تھے کہ اس دوران عبداللہ بن عمرو اپنے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: ’’ہم نے اس شخص کو قتل کر ڈالا، حالانکہ ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’اسے باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ اس پر عمرو رضی اللہ عنہ، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: ’’ہم نے جس آدمی کو قتل کیا ہے اس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ کچھ فرمایا تھا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: خاموش ہو جائیں، آپ میں ابھی تک پختگی نہیں آئی، اسے ہم نے نہیں بلکہ ان لوگوں نے قتل کیا ہے جو اسے یہاں لے کر آئے ہیں۔
(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 206۔ اس کی سند حسن ہے)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ تاویل اہل شام میں اس طرح پھیل گئی جس طرح خشک گھاس میں آگ پھیل جاتی ہے۔ ایک صحیح روایت میں وارد ہے کہ عمرو بن حزم، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: ’’عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا: ’’اسے باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ یہ سن کر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ گھبراہٹ کے عالم میں سیدنا معاویہؓ کے پاس گئے، انہوں نے ان سے گھبراہٹ کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا: ’’عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’تو پھر کیا ہوا؟‘‘ عمرو نے کہا: ’’میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ ان سے فرما رہے تھے: ’’تمہیں باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ’’تم ابھی تک ناپختہ ہو، کیا انہیں ہم نے قتل کیا ہے؟ انہیں علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے قتل کیا ہے، انہیں وہ لوگ لے کر آئے اور پھر ہمارے نیزوں کے آگے پھینک دیا۔ یا کہا: ہماری تلواروں کے آگے پھینک دیا۔
(مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 240۔ صحیح سند کے ساتھ)
ایک دوسری صحیح روایت ہی میں مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس دو آدمی آئے وہ دونوں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے اور ان میں سے ہر ایک انہیں قتل کرنے کا دعویٰ کر رہا تھا، یہ جھگڑا سن کر عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ’’اسے باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: پھر تم ہمارے ساتھ کیوں ہو؟ انہوں نے کہا: میرے باپ نے میری شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تک تمھارا باپ زندہ رہے ان کی اطاعت کرنا اور ان کی حکم عدولی نہ کرنا۔‘‘ اس لیے میں تمہارے ساتھ تو ہوں مگر میں لڑائی نہیں کرتا۔
(مسند احمد: جلد 11 صفحہ 138، 139 احمد شاکر فرماتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے)
مذکورہ صدر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ فقیہ صحابی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ حق بات کہنے اور خیر خواہی کرنے کے حریص تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ معاویہ اور ان کا لشکر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو قتل کرنے کی وجہ سے باغی گروہ قرار پاتا ہے تو انہوں نے مختلف مواقع پر بار بار اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث کی وجہ سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت نے اہل شام کو بڑا متاثر کیا، مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کی غیر مناسب تاویل کی، ان کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ عمار کے قاتل وہ لوگ ہیں جو انہیں میدانِ جنگ میں لے کر آئے ہیں۔
(خلافۃ علی بن ابی طالب: عبدالحمید صفحہ 325)
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت کا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پر بھی خاصا اثر رہا، بلکہ ان کی شہادت کی وجہ سے ہی وہ جنگ بند کرانے کے لیے کوششیں کرنے لگ گئے تھے۔
(معاویۃ بن ابی سفیان: الغضبان: صفحہ 215)
اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ کاش میں آج سے بیس سال پہلے مر گیا ہوتا۔
(انساب الاشراف: جلد 1 صفحہ 170۔ عمرو العاص، الغضبان: صفحہ 603)
صحیح بخاری میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما دو دو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان سے مٹی جھاڑنے لگے، اور فرمایا: ’’عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی، عمار انہیں جنت کی طرف بلائیں گے اور وہ انہیں جہنم کی طرف۔‘‘ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
(بخاری: رقم الحدیث: 447)
امام ابن عبدالبرؒ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث تواتر کے ساتھ ثابت ہے: ’’عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ یہ اخبار بالغیب کے قبیل سے ہے اور اس کا شمار صحیح ترین احادیث میں ہوتا ہے۔
(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1140)
اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: اس باب میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے احادیث مروی ہیں، پس یہ متواتر حدیث ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 421)
اس حدیث کو علماء نے کیسے سمجھا!
الف: ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس حدیث سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور عمار رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور نواصب کے اس دعویٰ کی تردید ہو رہی ہے کہ ان جنگوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف صحیح نہیں تھا۔
(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 646)
مزید فرماتے ہیں: حدیث ’’عمار کو باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان جنگوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف درست تھا اس لیے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے قتل کیا تھا۔
(فتح الباری: جلد ض13 صفحہ 92 )
ب: امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جنگ صفین کے دن عمار جہاں بھی جاتے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے پیچھے جاتے اس لیے کہ انہیں معلوم تھا کہ وہ عادل جماعت کے ساتھ ہیں۔
(تہذیب الاسماء و اللغات: جلد 2 صفحہ 38)
ج: ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اس کے رفقاء کے مقابلہ میں حق سے زیادہ قریب تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھی ان پر زیادتی کر رہے تھے، جیسا کہ صحیح مسلم میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’تمہیں باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 6 صفحہ 220)
آپ مزید فرماتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی شہادت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوئی اور انہیں اہل شام نے قتل کیا۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا راز کھل گیا کہ انہیں باغی جماعت قتل کرے گی اور اس سے یہ بھی عیاں ہو گیا کہ سیدنا علیؓ حق پر تھے اور سیدنا امیر معاویہؓ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف) بغاوت کرنے والے تھے، اس حدیث میں نبوت کے کتنے ہی دلائل موجود ہیں۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 277 )
د: امام ذہبی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
اہل شام مؤمنوں کا ایک گروہ تھا جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی، اور یہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ثابت ہوتا ہے: ’’تمہیں باغی جماعت قتل کرے گی۔‘‘
(سیر اعلام النبلاء: جلد 8 صفحہ 209)
ھ: قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ارشاد باری تعالیٰ: ﴿وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا ﴾ (سورۃ الحجرات آیت 9)
ترجمہ: اگر اہل ایمان کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں۔
مسلمانوں کے قتال میں اصل اور متاولین کے ساتھ جنگ کی دلیل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اسی پر اعتماد کیا اور اس امت کے سرکردہ لوگوں نے اسی کی پناہ لی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بھی یہی مراد ہے: ’’عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘
(احکام القرآن: جلد 4 صفحہ 1717)
و: ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ سیدنا علیؓ کی امامت و خلافت کے صحیح ہونے اور ان کی اطاعت کے وجوب کی دلیل ہے اور یہ کہ ان کی اطاعت کی دعوت دینے والا جنت کی دعوت دینے والا اور ان کے ساتھ جنگ کی دعوت دینے والا جہنم کی دعوت دینے والا ہے اگرچہ وہ تاویل کنندہ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کرنا جائز نہیں تھا، اسی بنا پر ان کے خلاف جنگ کرنے والا گناہ گار ہے، اگرچہ وہ تاویل کنندہ ہو یا بلاتاویل بغاوت کرنے والا ہو۔ یہ ہمارے اصحاب کے دو اقوال میں سے زیادہ صحیح قول ہے اور یہی ان ائمہ فقہاء کا مذہب ہے جنہوں نے اس سے تاویل کنندہ باغیوں کے ساتھ جنگ کرنے کا استدلال کیا ہے۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 437)
مزید فرماتے ہیں: اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے مدمقابل لوگوں سے زیادہ حق کے قریب تھے، اور اگرچہ سیدنا عمارؓ کو باغی گروہ نے ہی قتل کیا تھا۔ جیسا کہ اس بارے میں نصوص وارد ہیں۔ مگر ہم پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ ہم ان سب چیزوں پر ایمان لائیں جو اللہ کی طرف سے آتی ہیں اور سارے حق کا اقرار کریں، نہ تو ہماری کوئی ذاتی خواہشات ہوں اور نہ ہم علم کے بغیر کوئی بات کریں، کچھ حق کو تسلیم کرنے اور کچھ کے انکار سے تفرقہ اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔
(ایضاً: جلد 4 صفحہ 449، 450)
ز: شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘ سیدنا عمار بن یاسرؓ کو جنگ صفین میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے قتل کیا تھا۔ اس بنا پر اگرچہ وہ لوگ بغاوت کرنے والے تھے مگر تھے اجتہاد کرنے والے، انہوں نے یہ سمجھا کہ ہماری طرف سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کرنا صائب ہے۔
(فتاویٰ و مقالات متنوعۃ: جلد 6 صفحہ 87)
ح: سعید حوّا لکھتے ہیں:
عمار کو قتل کیے جانے کے بعد جس کے بارے میں نصوص وارد ہیں کہ انھیں باغی گروہ قتل کرے گا- سرکشی کرنے والے عناصر پر یہ بات واضح ہو گئی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں اور ان کے ساتھ مل کر قتال کرنا واجب ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی جنگ میں شریک نہ ہونے پر بھی اس لیے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ انہوں نے واجب کا ترک کیا، اور وہ واجب تھا ان لوگوں کے خلاف امام حق علی رضی اللہ عنہ کی نصرت و معاونت کرنا۔ جنہوں نے بدون حق ان کے خلاف خروج کیا۔ جب کہ فقہاء کا یونہی فتویٰ ہے۔
(الاساس فی السنۃ: جلد 4 صفحہ 1710)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کی تردید کہ: ’’اسے اس نے قتل کیا جو اسے لے کر آیا‘‘:
(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 206)
زیادہ تر صحابہؓ و تابعینؒ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’تجھے باغی گروہ قتل کرے گا‘‘ (مسلم: رقم: 2916) سے یہی سمجھا کہ اس سے مقصود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا لشکر ہے۔ اگرچہ وہ اپنے اجتہاد میں معذور تھے، ان کا قصد و ارادہ حق کا حصول تھا مگر وہ اسے حاصل نہ کر سکے۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جماعت حق کے زیادہ قریب تھی۔
(معاویۃ بن ابی سفیان: صفحہ 214،210)
اگرچہ ائمہ کرام کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ تاویل پسند نہیں آئی مگر انہوں نے انہیں ان کے اجتہاد میں معذور سمجھا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’وہ انہیں جنت کی طرف بلا رہا ہو گا اور وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے‘‘
(بخاری: رقم: 447)
کی شرح میں فرماتے ہیں: اگر یہ کہا جائے کہ عمار رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں قتل ہوئے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اور جن لوگوں نے انہیں قتل کیا وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ان کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت بھی تھی، تو ان کے لیے جہنم کی دعوت دینا کس طرح جائز قرار پائے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انہیں اس امر کا یقین تھا کہ وہ جنت کے داعی ہیں اور اس کے لیے انہوں نے اجتہاد کیا، لہٰذا وہ اپنے یقین پر عمل کرنے کی وجہ سے قابل ملامت نہیں ٹھہریں گے، جنت کی طرف بلانے کا مطلب حصول جنت کے سبب کی طرف بلانا ہے اور وہ امام کی اطاعت سے عبارت ہے، اسی طرح وہ اس تاویل کے لیے بھی معذور ہوں گے جن کا ان کے سامنے ظہور ہوا۔
(فتح الباری: جلد 6 صفحہ 645)
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
امام ابو المعالی کتاب الارشاد میں رقمطراز ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ امام برحق تھے اور ان کے ساتھ جنگ کرنے والے بغاوت کرنے والے۔ ان کے ساتھ حسن ظن اس بات کا متقاضی ہے کہ ان کی غلطی کے باوجود ان کے بارے میں یہ یقین رکھا جائے کہ وہ خیر کے متلاشی تھے۔
(التذکرۃ: جلد 2 صفحہ 222)
مزید فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات کا جواب یہ دیا تھا کہ اگر ہم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے تو پھر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کیا تھا اس لیے کہ احد کے میدان جنگ میں انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ حقیقی جواب نہیں بلکہ الزامی جواب تھا اور یہ ایسی حجت تھی جس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ یہ امام ابو الخطاب ابن دحیہ کا قول ہے۔
(التذکرۃ: جلد 2 صفحہ 223)
مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معاویہ کا یہ قول کہ ’’عمار کا قاتل وہ ہے جو انہیں ہماری تلواروں کے سامنے لے کر آیا۔‘‘ بہت دور کی تاویل ہے اس لیے کہ اگر یہ بات ہو تو جہاد فی سبیل اللہ کے دوران جام شہادت نوش کرنے والوں کا قاتل لشکر کا کمانڈر قرار پائے گا اس لیے کہ دشمن کی تلواروں کے سامنے انہیں وہ لے کر آیا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 6 صفحہ 221)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جہاں تک مجھے معلوم ہے ائمہ اربعہ کے پیروکاروں اور ان جیسے دیگر اہل سنت میں سے یہ کسی کا بھی قول نہیں ہے، یہ بہت سارے مروانی اور ان کے ہم نوا لوگوں کا قول ہے۔‘‘
(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 406)
ابن قیم اس تاویل کی تعلیق میں فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے لیے اس ارشاد کہ ’’تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘
(مسلم: رقم: 2916)
تو اہل شام نے اس کی جو یہ تاویل کی کہ ’’اسے ہم نے قتل نہیں کیا بلکہ اس کے قاتل وہ ہیں جنہوں نے اسے لا کر ہمارے نیزوں کے سامنے پھینک دیا۔‘‘ تو ان کی یہ تاویل سراسر باطل ہے جو اس لفظ کے ظاہر کے بھی خلاف ہے اور اس کی حقیقت کے بھی، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا قاتل وہی ہے جس نے انہیں قتل کیا نہ کہ وہ جو اُن سے مدد کا خواستگار ہوا۔
(الصواعق المرسلۃ: جلد 1 صفحہ 184، 185)