عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا قاتل کون ہے
علی محمد الصلابیابو العادیہ جہنی اپنی طرف سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے جنگ صفین کے موقع پر دونوں گروہوں کی صفوں کے درمیان ایک آدمی کی سرین پر نیزہ مارا تو وہ لڑکھڑا کر گر پڑا اور اس کے سر سے خود گر گئی پھر میں نے اس پر تلوار کا وار کیا تو پتا چلا کہ یہ تو عمار کا سر ہے پھر اسے قتل کر ڈالا۔ جہنی نے پانی مانگا تو اسے شیشے کے برتن میں پانی دیا گیا مگر اس نے اس برتن میں پانی پینے سے انکار کر دیا پھر اسے پیالے میں پانی ڈال کر دیا گیا تو اس نے پی لیا۔ یہ منظر دیکھ کر ایک آدمی نے کہا: اسے دیکھو کہ یہ شیشے کے برتن میں تو پانی پینے سے پرہیز کرتا ہے مگر اس نے عمار کو قتل کرنے سے پرہیز نہیں کیا۔
(الطبقات الکبری: جلد 3 صفحہ 260، 261)
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: عمار کا قاتل اور ان کے جسم سے ہتھیار اتارنے والا جہنمی ہے۔‘‘
(السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 5 صفحہ 18، 19 )
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما صفین کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے اور انہیں اہل شام سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے قتل کیا ان کے قاتل کا نام ابو الغادیہ تھا، ایک (شاذ) قول کی رو سے وہ صحابی تھا۔‘‘
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 6 صفحہ 220)
ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ان جنگوں میں شریک صحابہ کرامؓ کے بارے میں یہ گمان رکھنا چاہیے کہ وہ تاویل کنندہ تھے اور غلطی کرنے والے مجتہد کے لیے اکہرا اجر ہے۔ جب یہ اصول عام لوگوں کے لیے ثابت ہے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے بطریق اولیٰ ثابت ہے۔‘‘
(الاصابۃ: جلد 7 صفحہ 260)
امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’رافضیوں کے نزدیک ابن ملجم آخرت میں ساری مخلوق سے زیادہ بدنصیب ہو گا۔ جبکہ اہل سنت اس کے لیے جہنم کی امید کرتے اور اسی امر کو جائز بتاتے ہیں کہ اگر اللہ چاہے تو اس سے درگزر کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے ان کا عقیدہ خوارج اور رافضیوں جیسا نہیں ہے اور اس کا حکم عثمان رضی اللہ عنہ، زبیر رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ، خارجہ رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں والا ہے۔ ہم ان سب سے برأت کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ کے لیے ان سے بغض رکھتے ہیں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔‘
(تاریخ الاسلام: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 654)
ابن حجر رحمہ اللہ کے اس قول کے بارے میں شیخ البانی فرماتے ہیں: ’’ان کا یہ قول مبنی برحق ہے مگر امت کے ہر فرد پر اس کا اطلاق مشکل ہے، اس لیے کہ اس طرح قاعدہ مذکورہ اس حدیث کے مناقض ہو گا: ’’عمار کا قاتل اور ان کے جسم سے ساز و سامان اتارنے والا جہنمی ہے۔‘‘
(السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 5 صفحہ 18، 19)
اس لیے کہ یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ عمار کے قاتل ابو غادیہ کو اجر و ثواب سے نوازا جائے گا، کیونکہ اس نے سیدغ عمار رضی اللہ عنہ کو اجتہاد کرتے ہوئے قتل کیا تھا اور یہ اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’عمار کا قاتل جہنمی ہے۔‘‘
(ایضاً: جلد 5 صفحہ 18، 19 )
دریں حالات یہ کہنا صائب ہو گا کہ یہ قاعدہ صحیح ہے الا یہ کہ کوئی قطعی دلیل اس کے خلاف پر دلالت کرے تو وہ صورت اس سے مستثنیٰ ہو گی جیسا کہ اس جگہ ہے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ اس قاعدہ کی رو سے صحیح حدیث کو مسترد کر دیا جائے۔
(السلسلۃ الصحیحۃ: جلد 5 صفحہ 19 )
ابو الغادیہ جہنی کے حالاتِ زندگی میں ابن عبدالبرؒ فرماتے ہیں: اس کے نام میں اختلاف ہے، ایک قول کی رو سے اس کا نام یسار بن سعید ہے، دوسرے قول کی رو سے یسار بن ازہر اور تیسرے قول کی رو سے اس کا نام اسلم ہے، وہ شام میں سکونت پذیر تھا، واسط میں بھی رہائش پذیر رہا، اس نے بچپن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا، اس سے اسی کا یہ قول مروی ہے کہ میں نے بچپن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا یہ فرمان سنا تھا: ((لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ))
(مسند احمد: جلد 4 صفحہ 76۔ اس کی سند حسن ہے)
’’میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔‘‘
یہ شخص سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محب تھا اور وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا قاتل ہے، وہ ان کے قتل کا واقعہ بے دھڑک بیان کیا کرتا تھا، اہل علم کے نزدیک اس کا یہ واقعہ بڑا تعجب خیز ہے۔
(الاستیعاب: رقم: 3089)