Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوران جنگ طرفین کا قابل قدر رویہ

  علی محمد الصلابی

جنگ صفین مسلمانوں میں ایک عجیب و غریب واقعہ کی حیثیت رکھتی ہے، یہ واقعہ اس حد تک انوکھا ہے کہ اس کا قاری جو کچھ پڑھتا ہے اس کی تصدیق نہیں کر سکتا اور طرفین کے رویے کے سامنے سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ ہر فریق جنگ کے دوران اپنے موقف کی صحت پر مکمل یقین رکھتے ہوئے تلوار لہرائے کھڑا ہے، یہ معرکہ ایسا نہیں تھا جسے قیادت کی طرف سے لشکر پر مسلط کر دیا گیا ہو اور وہ اس سے کسی حد تک بھی مطمئن نہ ہو، بلکہ یہ اپنے اسباب، طریقہ کار اور نتائج کے اعتبار سے بڑا انوکھا اور یکتا معرکہ تھا، اس میں شریک ہونے والے دینی اعتبار سے ایک دوسرے کے بھائی تھے، وہ پانی کے گھاٹ پر ایک ساتھ جاتے اور سب مل کر پانی پیتے اور اگر اسی دوران رش زیادہ ہو جاتا تو وہ پھر بھی ایک ساتھ پانی پیتے اور ایک دوسرے کو کوئی تکلیف نہ دیتے

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 610۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 41۔ مرویات ابی مخنف: صفحہ 396)

اور پھر جب جنگ کا سلسلہ موقوف کر دیا جاتا تو وہ بھائیوں کی طرح ایک ساتھ رہتے سہتے۔ اس جنگ میں شریک ایک شخص کا بیان ہے: جب ہم لڑائی موقوف کر دیتے تو ایک دوسرے کے کیمپ میں چلے جاتے اور باہم باتیں کرتے

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 270۔ دراسات فی عہد النبوۃ: 423)

اور وہ سب ایک ہی قبیلہ کے لوگ تھے اور ہر ایک کا اپنا اپنا اجتہاد تھا، ایک ہی قبیلہ کے لوگ طرفین میں منقسم ہو کر تباہ کن لڑائی کرتے، ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو حق پر خیال کرتا اور اپنے اندر اس کے لیے لڑنے کی پوری پوری استعداد رکھتا۔ دو آدمی باہم لڑتے رہتے یہی پھر جب لڑتے لڑتے تھک جاتے تو تھوڑی دیر بیٹھ کر آرام کر لیتے اور اسی دوران جی بھر کر باتیں بھی کر لیتے اور پھر دوبارہ اٹھ کر لڑنا شروع کر دیتے۔

(تاریخ طبری نقلًا عن دراسات فی عہد النبوۃ: 424) 

حالانکہ وہ ایک ہی دین کے پیروکار تھے اور وہ انہیں اپنی جانوں سے کہیں بڑھ کر محبوب تھا، پھر جب نماز کا وقت ہوتا تو وہ اس کی ادائیگی کے لیے جنگ کو موقوف کر دیتے۔

(تاریخ طبری نقلًا عن دراسات فی عہد النبوۃ: 424) 

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ دونوں طرف کے لوگوں نے ادا کی۔

(تاریخ دمشق: جلد 8 صفحہ 233۔ دراسات فی عہد النبوۃ: 434)

اس جنگ میں شریک ہونے والے ایک دوسرے شخص کا بیان ہے کہ ہم صفین میں خیمہ زن ہوئے تو کئی دن لڑتے رہے جس کے نتیجہ میں بہت سارے لوگ مارے گئے، اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ مقتولین کو دفن کر لیں تو انہوں نے ان کی اس بات کو تسلیم کر لیا، اور پھر انہوں نے باہم گھل مل کر لاشوں کی تجہیز وتکفین اور تدفین کا فریضہ سرانجام دیا۔

اسی دوران وہ برائی سے اجتناب کی بھی سختی سے تاکید کرتے رہے۔ صفین کے مقام پر اہل عراق اور اہل شام سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں پر مشتمل ایک جماعت بھی موجود تھی جو قراء کے لقب سے مشہور تھی، وہ نہ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابو طالب کے ساتھ تھے اور نہ سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہی۔ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: ہم نکلیں گے تو تمہارے ساتھ مگر تمہارے لشکر میں شامل نہیں ہوں گے۔ ہم الگ رہ کر تمہارے اور اہل شام کے معاملات کا جائزہ لیتے رہیں گے۔ اگر فریقین میں سے کسی نے کوئی ناجائز کام کیا یا اس سے کسی زیادتی کا صدور ہوا تو ہم اس کے خلاف جائیں گے، جس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خوشی کا اظہار کیا۔ یہ دینی سوجھ بوجھ اور دانست کے علم کا نتیجہ ہے اور اسے پسند نہ کرنے والا ظالم اور خائن ہے۔(صفین: صفحہ 115۔ دراسات فی عہد النبوۃ: 424)