امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک
علی محمد الصلابیجنگ صفین کے قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک پر مبنی رویہ فریقین کے نزدیک ایک بدیہی امر تھا۔ اسلام نے قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے معاملہ کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کی عزت کرنے اور گنجائش کے مطابق انہیں اچھے طریقے سے اچھا کھانا کھلانے کی ترغیب دی ہے، یہ کریمانہ رویہ تو غیر مسلم قیدیوں کے ساتھ مطلوب ہے اور اگر وہ مسلمان ہوں تو یقیناً ان کا اکرام کرنا اور ان کے ساتھ احسان کرنا بطریقِ اولیٰ ہو گا۔ مگر چونکہ اس جنگ میں قیدی کو اپنی جماعت کی قوت کے طور سے دیکھا جاتا تھا۔
(قتال اہل البغی من الحاوی الکبیر: صفحہ 133 ،134)
لہٰذا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے اسے قید میں رکھا جاتا اگر وہ آپ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لیتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور اگر اس سے انکار کرتا تو اس سے اس کا اسلحہ اور سواری لے لی جاتی، اور یہ چیزیں اسے قیدی بنانے والے کو دے دی جاتیں اور اس سے یہ حلف لیا جاتا کہ وہ آئندہ ہمارے خلاف جنگ نہیں کرے گا، ایک روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ اسے چار درہم عطا فرماتے۔
(خلافۃ علی بن ابو طالب: عبدالحمید: صفحہ 243)
خلیفہ راشد کا مقصد اس سے بالکل واضح تھا اور وہ تھا باغی گروہ کے پلڑے کو کمزور کرنا۔ جنگ صفین کے موقع پر ایک قیدی کو لایا گیا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا: مجھے باندھ کر قتل نہ کرنا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تجھے اس طرح قتل نہیں کروں گا، مجھے اللہ رب العالمین سے خوف آتا ہے۔ پھر آپ نے اسے رہا کرتے ہوئے فرمایا: کیا تجھ سے کسی خیر کی امید کی جا سکتی ہے۔
(کتاب الام از امام شافعی: جلد 4 صفحہ 224، 256)
مذکورہ صدر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جنگی قیدیوں کے ساتھ معاملہ اس طرح سے تھا:
قیدی کی عزت کرنا اور اس پر احسان کرنا۔
اسے بیعت کرنے اور اطاعت امیر کے دائرہ میں داخل ہونے کی دعوت دینا اور یہ دعوت قبول کرنے کی صورت میں اسے چھوڑ دینا۔
بیعت سے انکار کی صورت میں اس کے ہتھیاروں پر قبضہ کر لینا اور آئندہ جنگ نہ کرنے کے حلف پر اسے آزاد کر دینا۔
اور اگر وہ جنگ کرنے پر مصر رہے تو دوران قید اس کی نگہداشت کرنا اور اسے باندھ کر قتل نہ کرنا۔
(خلافۃ علی بن ابو طالب: عبدالحمید: صفحہ 243)
ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پندرہ قیدی پیش کیے گئے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ زخمی تھے۔ اگر ان میں سے کوئی مر جاتا تو آپ اسے غسل دیتے، کفن پہناتے اور اس کی نماز جنازہ پڑھتے۔
(تاریخ دمشق: تحقیق المنجد: جلد 1 صفحہ 331. خلافۃ علی بن ابو طالب: صفحہ 243)
محب الدین خطیب اس جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس کے باوجود یہ شامی جنگ انسانی تاریخ کی وہ پہلی جنگ ہے جس میں دونوں متحارب گروہوں نے ان اعلیٰ اخلاقی قدروں کی پاس داری کی جن پر عمل درآمد کرنے کے لیے مغربی دانشور متمنی رہے ہیں چاہے ایسا اکیسویں صدی میں ہی ہو پائے۔ اسلام میں بیشتر جنگی قوانین کی تدوین اسی جنگ کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکی اور اللہ کا ہر امر مبنی برحکمت ہوا کرتا ہے۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 168، 169)
ابن عدیم فرماتے ہیں: یہ باغیوں کے لیے احکامات ہیں۔ اس لیے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں: اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ رویہ ہمارے سامنے نہ آتا تو کسی کو مسلمانوں کی جنگوں میں سیرت و کردار کا علم نہ ہوتا۔
(بغیۃ الطالب فی تاریخ حلب: جلد 1 صفحہ 309۔ خلافۃ علی: صفحہ 245)