جنگ صفین میں مقتولین کی تعداد
علی محمد الصلابیاس جنگ میں مقتولین کی تعداد کے بارے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں، ابن ابی خیثمہ ذکر کرتے ہیں ان کی تعداد ستر ہزار تھی، ان میں پچیس ہزار اہل عراق سے اور پینتالیس ہزار شام سے تھے۔
(الانباء للقضاعی: صفحہ 59۔ نقلًا عن خلافۃ علی رضی اللہ عنہ : صفحہ 245)
جبکہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی تعداد ستر ہزار یا اس سے بھی زائد تھی۔
(الصواعق المرسلۃ: جلد 1 صفحہ 377، بدون سند:
تحقیق محمد دخیل اللہ)
ہمارے نزدیک یہ شماریات غیر حقیقی بلکہ محض خیالی ہیں۔ اس لیے کہ حقیقی اور عام جنگ محض تین دن جاری رہی اور اسی دوران بھی جمعہ کی رات کے علاوہ رات کے وقت اسے موقوف کر دیا جاتا، اس اعتبار سے جنگ کا دورانیہ صرف تیس گھنٹے تھا۔
(الدولۃ الامویۃ: صفحہ 360، 362)
یہ جنگ جس قدر بھی شدید تھی جنگ قادسیہ سے زیادہ شدید نہ تھی جس میں شہداء کی کل تعداد ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد نہیں تھی۔
(تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 388)
علاوہ ازیں مقتولین کی اس بھاری تعداد پر مشتمل روایات کو عقل بھی قبول کرنے سے قاصر ہے۔