فتنہ خلق قرآن اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا دور ابتلاء:حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو امام اہل سنت اور امام الصابرین قرار دینے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ کسی مسئلہ میں باقی ائمہ سے منفرد تھے یا آپ نے بذات خود کوئی قول گھڑ لیا تھا ۔بخلاف ازیں اس کی وجہ یہ تھی کہ سنت آپ سے پہلے موجود تھی اور لوگ اس سے آشنا چلے آتے تھے۔ آپ نے صرف یہ کیا کہ سنت کی نشرو اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، ترک سنت پر مجبور کیا گیا تو اس ابتلاء میں صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھا۔ باقی ائمہ دور ابتلاء سے قبل وفات پا چکے تھے۔ جب تیسری صدی ہجری کے اوائل میں خلیفہ مامون اوراسکے بھائی معتصم اور واثق باﷲ کے عہد خلافت میں صفات الٰہی کا انکار کرنے والے جہمیہ نے انکار صفات کا بیڑا اٹھایا.... جسے متاخرین شیعہ نے بھی تسلیم کر لیا تھا.... بہت سے امراء و حکام بھی اس ضمن میں جہمیہ کے ہم نوا بن گئے، تو اہل سنت نے اس نظریہ کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ارباب اقتدار نے بعض علماء کو قتل کی دھمکی دی۔ بعض کو قید و بند کی صعوبتوں میں ڈالا اور ہرطرح سے ڈرایا دھمکایا اور لالچ دلا کر اس نظریہ سے باز رکھنا چاہا۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنے عقیدہ پر ڈٹے رہے جس کے نتیجہ میں انہیں عرصہ دراز تک محبوس رکھا گیا۔آخر مناظرہ کی ٹھانی اور اس مقصد کیلئے معتزلی علماء کو بلایا مگر سب نے منہ کی کھائی۔ امام اہل سنت کے سامنے لاجواب ہوگئے اور آپ کو دلائل کے ساتھ قائل نہ کر سکے۔ دوسری جانب امام موصوف نے ان کی ایک ایک غلطی کی قلعی کھول کر رکھ دی، اور ان کے دلائل کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھیر دیں ۔ مخالفین نے مناظرہ کے لیے بصرہ اور دیگر اسلامی بلاد و امصار کے بڑے بڑے ماہرین علم الکلام کو بلایا تھا‘ جن میں حسین نجار کے تلمیذ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ برغوث کا نام اور اس کے ہمنواء خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔[1][1] فالأشعرِی یذکر آراہ المقالاتِ 1؍316) ومِنہا نہ ان یزعم ن الأشیاء المتولِد فِعل اللہ تعالیٰ بِِإیجابِ الطبعِ، ونہ ان یقول فِی التوحِیدِ بِقولِ المعتزِلِ ِلا فِی بابِ الِرادِ والجودِ، ونہ ان یخالِفہم فِی القدرِ ویقول بِالِرجاِ، ونہ ان یقول ِن اللہ تعالیٰ لم یزل متلِما بِمعن نہ لم یزل غیر عاجِز عنِ اللامِ ولِن لام اللہِ محدث ومخلوق. وانظر عن آرائِہِ ومذہبِہِ یضا: المقالاتِ 2؍198، 207 ۔ 208 ; الملل والنحل 1؍81 ۔ 82 ; الفرق بین الفِرقِ، ص 126 ۔ 127 ; التبصِیر فِی الدِینِ ص 62 ; الفِصل لِابنِ حزم 3؍33 ; الِانتِصار لِلخیاطِ، ص 98 ; دائِرۃ المعارِفِ الإِسلامِیِ مادۃ البرغوثِیِ المنی والمل لِابنِ المرتض1948.۔یہ مناظرہ صرف فرقہ معتزلہ ہی کے خلاف نہ تھا، بلکہ جہمیہ کے سب فرقے مثلاً معتزلہ، نجاریہ، ضراریہ اور اسی طرح مرجیۂ کے سب فرقے امام کے خلاف امنڈ آئے تھے۔ جہمیہ و معتزلہ کے مابین نسبت یہ ہے کہ ہر جہمی کا معتزلی ہونا ضروری نہیں ، اور ہر معتزلی، جہمی ضرور ہوتا ہے۔ البتہ جہم کا قدم نفی صفات میں معتزلہ سے آگے ہے اس لیے کہ وہ اسماء و صفات الٰہی دونوں کی نفی کرتا ہے۔ بخلاف ازیں معتزلہ صرف صفات کے منکر ہیں ۔ بشر مریسی کبار جہمیہ میں سے تھا اور مرجیہ کا ہم نوا تھا، وہ معتزلی نہ تھا۔ [حامی سنت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مبتلائے مصائب ہونے کی وجہ سے مذکورۃالصدرمسائل میں بڑے زور کے معرکے بپا ہونے لگے۔ انہی حوادث میں مبتلا ہونے کی بنا پر امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے اتباع کرام بارگاہ ربانی میں بڑے اونچے مرتبہ پر فائز ہوئے]۔اور جب خلیفہ معتصم کے سامنے ان لوگوں کا معاملہ ظاہر ہوا اور اس نے ان لوگوں پر سے اس سزا کو ختم کر دینا چاہا، حتیٰ کہ ابن ابی داؤد[1] [1] یہ ابو عبداللہ احمد بن ابی داؤد بن جریر بن مالک الایادی قاضی ہے۔ ۱۶۰ھ میں پیدا ہوا۔ ان کا والد انہیں بچپن میں ہی قنسرین سے دمشق لے آیا۔ وہاں واصل بن عطاء کے ساتھی ہیاج بن علاسلمی کی صحبت میں رہے اور اعتزال کو اختیار کر لیا۔ مامون، معتصم اور واثق سے جڑا رہا۔ ان کا مقرب تھا۔ یہی وہ شخص تھا جس نے خلیفہ کو اس بات پت تیار کیا تھا کہ وہ لوگوں کو قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ اپنانے پر تیار کرے اور جو نہ مانے اسے سزا دے۔ ابو عبداللہ نے ۲۴۰ھ میں بغداد میں مفلوج ہو کر وفات پائی تھی۔ دیکھیں : وفیات الاعیان: ۱؍ ۶۳ ۔ ۷۵۔ نے اسے پرزور مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تو نے انہیں سزا نہ دی توخلافت کی ناموس جاتی رہے گی ۔ چنانچہ خلیفہ نے امام احمد رحمہ اللہ کو سزا دی جس پر خاص اور عام سب میں بے حد رسوائی ہوئی۔ جس پر بالآخر خلیفہ نے ان لوگوں کو چھوڑ دیا۔ پھر یہ امور مسائلِ صفات میں اور اس بارے نصوص و دلائل اور مشبّہ و نفاۃ دونوں جانب کے فرقوں کے پیش کردہ شبہات کی بابت بحث و تمحیص کا سبب بن گئے، اور لوگوں نے اس بارے متعدد کتب بھی لکھیں ۔امام احمد وغیرہ علمائے سنت و حدیث نے ہمیشہ سے روافض، خوارج، قددیہ، جہمیہ، مرجئہ وغیرہ گمراہ فرقوں سے لوگوں کو آگاہ کیے رکھا ہے۔ البتہ آزمائش کی وجہ سے بے حد کلام ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس امام کے رتبے کو بلند کیا اور نصوص و آثار پر اپنی وسعت معلومات، دسترس اور گرفت کی وجہ سے اور ان کے مخفی اسرار کو آشکارا کرنے کی وجہ سے آئمہ سنت کے امام اور علم کی ایک نشانی ٹھہرے۔ نا اس لیے کہ انہوں نے کوئی نئی بات کی یا کسی بدعت کی نیو ڈالی تھی۔اس لیے مغرب کے بعض شیوخ کہتے ہیں : مذہب تو امام احمد اور امام شافعی ہے۔ لیکن غلبہ امام احمد کو ملا۔ یعنی اصول میں تو سب آئمہ کا مذہب ایک ہے۔ البتہ امام احمد اور ان کے اصحاب کی تخصیص یہ ہے کہ انہوں نے امامت اور اعتزال کے مسائل میں گفتگو کی تھی۔ اسی طرح انہوں نے حروریہ کے ساتھ بھی متعدد مسائل میں کلام کیا تھا۔ بلکہ موصوف نے ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں بھی بھرپور کلام کیا اور یہود و نصاریٰ پر زبردست ردّکیا۔ اور بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی خبروں کی تصدیق اور آپ کے اوامر کی تعمیل لازم ہے، اور یہ تعمیل سب بندوں کو شامل ہے۔ چنانچہ امام احمد رحمہ اللہ سب سے زیادہ سعادت مند، اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ طاقت گزار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ تابع فرمان تھے۔اگر فرض کیا کہ حنبلیہ میں یا اہل سنت کی دوسری جماعتوں میں باطل اقوال والے بھی ہیں تو ان کے باطل اقوال کی وجہ سے اہل سنت والجماعت کا مذہب باطل نہ ہوگا۔ بلکہ وہ باطل قول اسی پر رد ہوگا، اور سنت کی دلائل کے ساتھ مدد کی جائے گی۔روافض نے اپنی ڈفلی الگ سے بجانا شروع کی، ہر زاویہ نگاہ کے مسلمانوں کو تنقید شدید کا نشانہ بنایا اور کہنے لگے کہ وہ اصول و فروع دونوں کو ترک کر چکے ہیں ۔اور صرف شیعہ ہی ایک ایسا فرقہ ہے جو جرح و قدح سے بالا ہے۔ حالانکہ کرۂ ارضی کے تمام سلیم العقل مسلمان اس امر میں اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ اہل قبلہ کے تمام فرقوں میں شیعہ کا گروہ جہالت و ضلالت اور کذب و بدعت میں سب پر فوقیت رکھتا ہے۔ یہ گروہ ہر شر سے قریب تر اور ہر خیر سے بعید تر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ نے جب مختلف فرقوں کے عقائد و افکار پر : ’’ مقالات الاسلامیین‘‘ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی تو سب سے پہلے شیعہ کے عقائد کا ذکر کیا اور اسے اہل سنت والحدیث کے افکار و آراء پر ختم کیا ۔اور ساتھ ہی یہ بھی تحریر کیا کہ وہ خود بھی اہل سنت ومحدثین کے عقائد رکھتے ہیں اور اسی مسلک پر گامزن ہیں۔مذکورۃ الصدربیانات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ شیعہ مصنف کا اہل الآثار [1][1] اہل الآثار وہ ہیں جو خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول احادیث و آثار کی پیروی کرتے ہیں ، اس لیے کہ آپ نیکی کی تعلیم دینے اوراﷲ کی طرف سے ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث کیے گئے تھے۔ اہل الاثبات وہ ہیں جو اﷲ و رسول کے ثابت کردہ غیبی امور کا اثبات کرتے ہیں ، صفات الٰہی بھی غیبی امور میں سے ہیں ، اور وہ ان پر ﴿لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ﴾ کی شرط کے مطابق ایمان رکھتے ہیں ، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ صفات کی تاویل کرتے ہیں نہ ان میں تبدیلی کا ارتکاب کرتے ہیں ، اس لیے کہ مخلوقات میں غیبی امور کا علم رکھنے والا اﷲ و رسول سے زیادہ اور کوئی نہیں ۔ والاثبات کو مشبہہ کے نام سے موسوم کرنا بعینہ اسی طرح ہے جیسے شیعہ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی خلافت کے قائل کو اس لیے ناصبی کہتے ہیں کہ ان کی رائے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا عقیدہ اسی صورت میں درست تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ جب خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم سے براء ت کے اظہار کیا جائے۔ حالانکہ ناصبی دراصل وہ ہے جو اہل بیت سے بغض و عناد رکھتا ہو۔ اور ان لوگوں سے براء ت اختیار کی جائے گی، اور جو بھی ان سے بری نہ ہوگا اسے ناصبی کہیں گے۔ چاسی طرح مشبہہ وہ ہیں جو صفات الٰہی کو بندوں کی صفات کی طرح خیال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ جب ان لوگوں نے یہ عقیدہ اپنا لیا کہ دو قدم متماثل ہوتے ہیں اور دو جسم متماثل ہوتے ہیں ۔ وغیرہ تو وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو ثابت ماننے والوں کو مشبّہ کہنے لگے۔ سو اس قول کے قائل کو کہا جائے گا کہ: اگر تو ناصبیت اور تشبیہ سے تیری مراد حضرت علی اور اہلِ بیت کا بغض ہے اور رب تعالیٰ کی صفات کو بندے کی صفات جیسا قرار دینا ہے۔ تب بھی اہل سنت واجماعت نہ تو ناصبی ہیں اور نہ مشبّہ ہیں ، اور اگر اس سے تیری مراد یہ ہے کہ خلفاء سے محبت رکھتے ہیں اور رب تعالیٰ کی صفات کا اثبات کرتے ہیں تب پھر تو ان کا جو چاہے نام رکھ لے۔ یہ تو بس کچھ نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو کوئی سند نہیں اتاری۔ مدح و ذم اسماء سے متعلق جب ہوتے ہی جب ان کی شرح میں کوئی اصل ہو۔ جیسے مومن اور کافر، فاجر اور فاسق اور جاہل اور عالم کے الفاظ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ جو کسی کی مدح یا مذمت کرنا چاہتا ہے، اس پر لازم ہے کہ ممدوح و مذموم کا ان اسماء و القاب میں داخل ہونا ثابت کرے جن پر مدح و ذم کا انحصار ہے۔ جب وہ اسم و لقب ہی شرعاً ثابت نہ ہو اور ممدوح و مذموم کا اس میں داخل ہونا بھی متنازع ہو تو مدح و ذم دونوں باطل ٹھہرے۔ اور یہ ایسا کلام ہے جس پر صرف وہی انسان اعتماد کرسکتا ہے جس کو یہ پتہ نہ ہو وہ کیا کہہ رہا ہے۔ [ کیونکہ اس نام والوں میں کتاب و سنت کی رو سے متعدد مذموم باتیں داخل ہو جاتی ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر جھوٹ بولنا، رسول اللہ تعالیٰ کے لائے ہوئے حق کو جھٹلانا، اولیاء اللہ تعالیٰ سے عداوت رکھنا، اور یہود و نصاریٰ اور مشرکین سے دوستی رکھنا وغیرہ]۔اور یہ ممکن ہی نہیں کہ اہل سنت والجماعت کو کتاب و سنت کی رو سے کوئی مذموم لفظ شامل ہو۔ جیسے ان رافضہ کو شامل ہے۔ البتہ بعض کی بابت مذموم لفظ آتا بھی ہے۔ لیکن اس سے سب اہل سنت کی مذمت لازم نہیں آتی۔ جیسے مسلمانوں میں سے کوئی اگر قابلِ مذمت کوئی کام کرے تو اس سے پورے اسلام کی اور واجباتِ اسلام پر قائم مسلمانوں کی مذمت لازم نہیں آتی۔ [1][1] اہل بیت کے ساتھ عظیم ترین بغض یہ ہے کہ ان پر جھوٹ کا طوفان باندھا جائے اور دین میں ایک ایسے فرقہ کی طرح ڈالی جائے جو ان کے جد امجد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے ٹکراتا ہو۔ اور پھر اس سے بڑھ کر ظلم و بہتان اور کیا ہوگا کہ امت محمدی کے ان چیدہ و برگزیدہ اصحاب کو مورد طعن بنایا جائے، جوحضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھائی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک عزت و وقعت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اہل بیت کے ساتھ یہی وہ بدترین بغض ہے شیعہ جس کا عرصہ دراز سے ارتکاب کرتے چلے آرہے ہیں ۔ اور جو نہی زمانہ گزرتا ہے، ان کا یہ بغض بڑھتا ہی جاتا ہے۔ جیساکہ آپ اس کتاب میں آگے چل کر ملاحظہ فرمائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ نہج البلاغۃ کے اوراق مذمت صحابہ رضی اللہ عنہم سے پر ہیں اور کوئی شیعہ عالم ایسا نہیں جس نے صحابہ کی مذمت نہ کی ہو اور ان سے براء ت کا اظہار نہ کیا ہو۔یہ امر پیش نظر رہے کہ کتاب و سنت میں ناصبہ، حشویہ، مشبہہ اور رافضہ کے الفاظ مذکور نہیں جب ہم رافضہ کا لفظ بولتے ہیں تو ہماری مراد اس سے شیعہ فرقہ کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ان کے سب فرقے اس میں داخل ہیں گویا رافضہ کا لفظ جہلاء اور محروم صدق و یقین لوگوں کے لیے علم و لقب کی حیثیت رکھتا ہے۔چوتھی وجہ: یہ کہا جائیگا: یہ قول کہ اللہ تعالیٰ جسم ہے یا نہیں ، اس بات میں اہل کلام و نظر نے اختلاف کیا ہے اور یہ بات مسائلِ عقلیہ میں سے ہے، اور لوگوں کے اس بارے تین اقوال ہیں ، جیسا کہ گزرا: (۱) نفی اور اثبات کا (۲) توقف کا (۳) تفصیل کا، اور یہی وہ درست قول ہے جس پر اسلاف اور آئمہ قائم ہیں ۔اسی لیے جب ابو عیسیٰ برغوث نے امام احمدرحمہ اللہ کے ساتھ اپنے مناظرے میں انہیں یہ کہا اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ جب تم قرآن کو غیر مخلوق کہو گے تو اللہ تعالیٰ کا جسم ہونا لازم آئے گا۔ کیونکہ قرآن صفت اور عرض ہے اور وہ فعل کے ساتھ ہی قائم ہوگا، اور صفات، اعراض اور افعالی، اجسام کے ساتھ ہی قائم ہوتے ہیں ۔ امام احمد رحمہ اللہ نے اس بات کا یہ جواب دیا کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ احد وصمد ہے۔ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ اولاد، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے، اور اس کلام سے کلام والے کا مقصود معلوم نہیں ہوتا، اور ہم اسے مطلق نہیں کہتے۔ نہ نفی میں اور نہ اثبات میں ۔ رہا شریعت کی جہت سے تو اللہ، رسول اور ائمہ اسلاف نے یہ کلام نہیں کیا، نہ نفی میں اور نہ اثبات میں ۔ چنانچہ نہ تو انہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسم ہے اور نہ یہ کہا ہے کہ وہ جسم نہیں ہے۔لہٰذا جب کہنے والے نے حدوثِ اجسام سے حدوثِ عالم کا قول کیا اور اس کلام میں داخل ہو گیا تو اسلاف نے کلام اور اہلِ کلام کی مذمت بیان کی۔ حتیٰ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے تو یہ تک کہہ دیا کہ جس نے دین کو کلام کے ذریعے حاصل کیا وہ زندیق ہو جائے گا۔ [1][1] یہ عبارت علامہ ہروی اصفاوی کی کتاب ذم الکلام میں وارد ہے۔ جسے سیوطی نے ان سے ’’صون المنطق والکلام عن فن المنطق والکلام، ص: ۶‘‘ میں نقل کیا ہے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ اہلِ کلام کے بارے میں میرا حکم یہ ہے کہ انہیں کوڑے اور جوتے مارے جائیں ، اور انہوں نے گلی محلوں میں رسواء کیا جائے۔ایک قول یہ ہے کہ یہ کتاب و سنت کو چھوڑ کر کلام کی طرف متوجہ ہونے والوں کی سزا ہے۔ [2] [2] تلبیس ابلیس لابن الجوزی، ص: ۸۲ ۔ ۸۳۔امام شافعی فرماتے ہیں : مجھے اہلِ کلام کی ایسی ایسی باتوں کا علم ہوا ہے میرا نہیں گمان کہ کوئی مسلمان ان باتوں کا قائل ہو، اور بندے کا شرک کے سوا رب تعالیٰ کی جملہ نافرمانیوں میں مبتلا ہونا اس کے کلام میں مبتلا ہونے سے پھر بہتر ہے۔[3][3] جامع بیان العلم وفضلہ: ۲؍ ۹۵۔ لابن عبدالبر۔ان لوگوں کی مذمت میں متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ جیسے ابو عبدالرحمن السلمی [4] [4] یہ ابو عبدالرحمن محمد بن حسین بن محمد السلمی النیشاپوری ہیں ۔ نے اور شیخ الاسلام انصاری[5][5] یہ ابو اسماعیل عبداللہ بن محمد بن علی الہروی انصاری ہیں ۔ وغیرہ نے کتابیں لکھی ہیں ۔ رہا عقل کی جہت سے تو یہ ایک مجمل لفظ ہے جس میں اس کی نفی کرنے والے ایسے معانی کو داخل ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرنا واجب ہوتا ہے، اور اس کے اثبات کرنے میں اس میں ایسے معانی کو داخل کرتے ہیں جن سے رب تعالیٰ کی ذات بری ہے تو جب اس لفظ سے متکلم کی مراد ہی معلوم نہیں تو یہ اس کی نفی ہوگی اور نہ اثبات، اور جب اس کی مراد کی تفسیر کی جائے گی تو شرع کے موافق حق کو تو قبول کیا جائے گا، البتہ باطل تعبیر کو رد کر دیا جائے گا۔
فتنہ خلق قرآن اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا دور ابتلاء:
امام ابنِ تیمیہؒصفحہ 1 از 2
صفحہ 1 از 2