فتنہ خلق قرآن اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا دور…

فتنہ خلق قرآن اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا دور ابتلاء:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2
اور ایسے لفظ کا جو شرع میں نہیں آیا۔ مخاطب کو اس کی لغت میں سمجھانے کے لیے تکلم کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ جبکہ اس کا معنی ظاہر اور صحیح ہو۔ کیونکہ تفہیم کی غرض سے قرآن و حدیث کا دوسری زبانوں میں ترجمہ کرنا جائز ہے۔ اور بہت سے لوگ ایسی متعین عبارات کے عادی ہوتے ہیں کہ اگر انہیں ان عبارات سے مخاطب نہ کیا جائے تو نہ تو وہ سمجھتے ہیں اور نہ ان کے سامنے ان عبارات کا صحت و فساد ظاہر ہوتا ہے، اور بسا اوقات مخاطب بات کو سمجھتا بھی نہیں ۔فلسفہ و کلام میں لگنے والے اکثر لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ جب ان کے سامنے نصوص شرعیہ صحیحہ کے معانی کو ذکر کیا جاتا ہے تو وہ ان کو قبول نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے گمان میں وہ معانی ان کی عبارات میں نہیں ہوتے۔ لیکن جب انہی معانی کو ان کی لغت میں ترجمہ کر کے ذکر کیا جائے تو وہ مان لیتے ہیں ۔ جیسے ترکی، بربری، رومی، فارسی کہ جب ان سے قرآن کے ذریعے خطاب کیا جاتا ہے اور اس کی تفسیر بیان کی جاتی ہے تو اس کو نہیں سمجھتے۔ لیکن ان کی زبان میں ترجمہ کیے جانے پر خوب سمجھ لتے ہیں ، اور خوب مردود اور فرحاں ہوتے ہیں اور اپنے باطل اقوال سے رجوع کر لیتے ہیں ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے سب سے اکمل، سب سے عمدہ اور سب سے صحیح ہوتے ہیں ۔ البتہ اس کے لیے دونوں طرف کی کامل معرفت ضروری ہے۔ جیسے ایک ذہین ترجمان وہ دونوں لغتوں کا ماہر ہوتا ہے۔اور یہ امامی اس باب میں اپنے آئمہ جیسے ہشام بن حکم وغیرہ سے مناظرہ کرتا ہے اور وہ کسی بھی طرح انہیں لا جواب نہیں کر پاتا۔ جیسا کہ وہ کسی بھی طرح خوارج کو لا جواب نہیں کر پاتا۔ اگرچہ ان خوارج اور مجسمہ کے اقوال باطل ہی ہوں کہ جن کو صرف اہلِ سنت ہی باطل قرار دے سکتے ہیں ۔ہم اس کی ایک مثال ذکر کرتے ہیں : اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس دنیا میں رب تعالیٰ کی رؤیت ممکن نہیں ۔ البتہ آخرت میں ممکن ہے۔ البتہ اختلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت بادی تعالیٰ میں ہے۔ البتہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس دنیا میں کوئی مطلق رب تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا۔ایک جماعت کا یہ قول ہے کہ رب تعالیٰ کی دنیا میں رؤیت ممکن ہے۔ اہلِ سنت کتاب و سنت سے اس کا رد کرتے ہیں ۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں رب تعالیٰ کو نہ دیکھ سکے۔ تو جو موسیٰ علیہ السلام سے کم درجہ کا ہے وہ بدرجہ اولیٰ نہ دیکھ سکے گا۔ اسی طرح اہلِ سنت کی ایک دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی ہے:’’جان لو کہ تم میں سے کوئی اپنے رب کو نہ دیکھ سکے گا، یہاں تک کہ اس کی موت آ جائے گی۔‘‘(صحیح مسلم) یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ [ اور اس پر مفصل کلام بھی گزر چکا ہے]۔
اسی طرح اہلِ سنت نے دلائلِ عقلیہ سے بھی اس کا رد کیا ہے۔ جیسے یہ بات کہ اس دنیا میں یہ آنکھیں رب تعالیٰ کو دیکھنے سے عاجز ہیں ۔اب ان لوگوں کی اہلِ سنت پر نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ شرعی۔ مثلاً ان کا رؤیت بادی کی نفی میں یہ کہنا کہ اگر یہ ممکن ہوتا تو کسی جہت میں ہوتا، اور جہت جسم کو لازم ہے، اور یہ دوسرے کہتے ہیں کہ دنیا میں رؤیت ممکن ہے۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ رؤیت ایک جہت میں ہوگی اور اسی بناء پر اللہ تعالیٰ ایک جسم ہے۔اور یہ لوگ جہت اور جسم کی نفی میں کوئی دلیل پکڑتے ہیں تو پکڑتے ہیں کہ اس کے ساتھ صفات قائم نہیں ہیں ، اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ صفات قائم ہیں ، اور اگر یہ ان کے ساتھ استدلال پکڑیں تو ان کی دلیل کا منتہی یہ ہو کہ صفات یہ اعراض ہیں ، اور جس کے ساتھ اعراض قائم ہوں وہ حادث ہوتا ہے، اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ اعراض قائم ہیں اور ان کے نزدیک اعراض بھی قدیم ہیں ۔اور اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ: جسم حرکت یا سکون سے خالی نہیں ہوتا، اور جو ان دونوں سے خالی نہ ہو وہ حادث ہوا کرتا ہے۔ کیونکہ حوادث کا کوئی اول نہیں ہوتا۔ یہ ہے معتزلہ اور ان کے متبعین شیعہ کے دلائل کا منتہی۔انہیں دوسرے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ: ہم اس بات کو تسلیم ہی نہیں کرتے کہ جسم کو وجودی حرکت یا سکون لازم ہے۔ بلکہ جسم کا حرکت سے خالی ہونا ممکن ہے کیونکہ سکون مطلق عدم حرکت کا نام ہے، اور حرکت کا نہ ہونا، اس سے ہوتا ہے جس کی شان یہ ہو کہ وہ حرکت کو قبول کرتا ہے۔ لہٰذا ایسے قدیم اور ساکن جسم کا ثابت ہونا ممکن ہے جو متحرک نہ ہو۔یہ انہیں یہ کہتے ہیں : ہم یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ حوادث کا اول متمنع ہے، اور ان لوگوں کے ان کے مبنی بر نفی دلائل پر بڑے طعن کیے ہیں ۔ حتیٰ کہ حاذق متاخرین جیسے رازی، آمدی اور ابو الثناء الارموی [1] [1] یہ ابو الثناء سراج الدین محمود بن ابی بکر احمد الارموی ہے۔ انہوں نے اصولِ فقہ میں ’’التحصیل‘‘ جو مختصر المحصول ہے۔ اصولِ دین میں اللباب اور منطق میں اصول الدین والبیان والمطالع لکھی۔ انہوں نے رافعی کی کتاب ’’الوجیز‘‘ کی بھی شرح لکھی۔ موصوف شافعی المذہب تھے۔ ۶۸۲ھ میں وفات پائی۔ دیکھیں : طبقات الشافعیۃ: ۸؍ ۳۷۱۔وغیرہ نے ان سب میں طعن کیا ہے، اور رازی نے متعدد مواقع پر اس پر طعن کیا ہے۔ اگرچہ رازی نے اسی پر متعدد مواقع پر اعتماد کیا ہے، اور آمدی نے لوگوں کے طرق پر طعن کیا ہے سوائے اس طریق کے جو انہیں پسند ہے۔ جو دوسروں سے بھی زیادہ ضعیف طریق ہے جس میں دوسروں نے بھی طعن کیا ہے۔ سو یہ دو ایسے عقلی مقام ہیں جن میں ان لوگوں نے اپنے شیوخ پر طعن کیا ہے۔ لیکن اس میں یہ اپنے متقدمین شیوخ پر غالب نہیں آ سکے۔ تو جب یہ دنیا میں رؤیت بادی کی نفی صرف اسی طریق سے ہی کر سکے ہیں ، تو اب ان کے پاس صرف ان لوگوں کے لیے حجت باقی رہی ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ: رب تعالیٰ کی رؤیت اور مصافحہ ممکن ہے اور اس کے علاوہ بھی ان کے اور متعدد نہایت شنیع اقوال ہیں جو اہلِ سنت والجماعت کے ہاں نہایت برے ہیں ، اور اہلِ سنت والحدیث میں سے کوئی ان کا قائل نہیں ہے۔ اور اس کا بیان یہ ہے :پانچویں وجہ:.... یہ کہا جائے کہ: یہ چند لوگوں کا قول ہے اور وہ بھی شیعہ کے معدودے چند لوگ ہیں ان میں سے بعض غالی شیعہ اور کچھ غالی صوفی ہیں ، اور ان میں سے ایک داؤد جواربی ہے۔ [1][1] ابن حجر ’’لسان المیزان: ۲؍ ۴۲۷‘‘ میں لکھتے ہیں : یہ روافض کا سرخیل تھا، اور جہمیہ میں تجسیم کا سرغنہ تھا۔ اس کے اور بھی متعدد گمراہانہ عقائد تھے۔ جیسے یہ کہ معبود کے تمام اعضاء ہوتے ہیں ۔ حتیٰ کہ شرمگاہ اور داڑھی بھی ہوتی ہے۔ ابن اثیر نے اللباب: ۲؍ ۲۹۱۔ میں یہ عبارت نقل کی ہے۔  اشعری ’’المقالات‘‘ ہی کہتے ہیں : داؤد الجواربی اور مقاتل بن سلیمان کا قول ہے: ’’اللہ ایک جسم ہے اور اس کے ہاتھ پیر وغیرہ اعضاء بھی ہیں جو صورتِ انسانی پر ہیں ۔ اس کے بال، خون، گوشت اور ہڈی بھی ہے۔ زبان، سر اور دو آنکھیں بھی ہیں ، اور اس سب کے باوجود نہ کوئی اس کے مشابہ ہے اور نہ یہ کسی کے مشابہ ہے۔ داؤد الجواربی سے بیان کیا جاتا ہے کہ وہ یہ کہا کرتا تھا: رب تعالیٰ منہ سے لے کر سینے تک خالی ہے اور باقی کا حصہ ٹھوس ہے۔ہشام بن سالم جوالیقی[2] [2] جوالیقی شیعہ کا مشہور امام ہے اور ان کے یہاں اسے قطب کا مقام حاصل ہے، قبل ازیں اس کے حالات زندگی تفصیلاً مذکور ہوچکے ہیں ۔  کہتا ہے:’’اﷲ تعالیٰ انسانی شکل و صورت رکھتا ہے، مگر وہ گوشت پوست کا بنا ہوا نہیں ، وہ ایک درخشندہ نور ہے، اس کے حواس خمسہ ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں ، بنا بریں اس کی سمع اور ہے اور بصر اور، وہ ہاتھ، پاؤں ، آنکھ ، منہ ، ناک اور سیاہ بال رکھتا ہے۔‘‘[ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ]:میں کہتا ہوں کہ: داؤد جواربی کے منکر اقوال پر اہلِ سنت نے شدید انکار کیا ہے ۔ البتہ مقاتل کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ ’’ امام اشعری نے یہ اقوال معتزلہ کی تصانیف سے اخذ کیے ہیں ۔[3] [3] امام اشعری کا ماخذ فرقہ جات کے بارے میں ابو عیسیٰ ورّاق شیعہ عالم کی تحریر کردہ ایک کتاب ہے، ورّاق کا ترجمہ قبل ازیں لکھا جا چکا ہے، شیعہ کے یہاں مقاتل بن سلیمان جیسے بزرگوں پر افترا پر دازی کچھ بھی محل تعجب نہیں ، بلکہ وہ اسے عبادت شمار کرتے ہیں ۔  اس لیے ان میں مقاتل بن سلیمان کے اصلی نظریات کی ترجمانی نہیں کی گئی، بلکہ انہیں بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔ ورنہ مقاتل سے ایسے افکار و آراء کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ [4] [4] مستجی نے اس پر یہ حاشیہ رقم کیا ہے: میں کہتا ہوں : خطیب نے اپنی اسناد کے ساتھ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ دونوں شخص جھم بن صفوان اور مقاتل بن سلیمان خبیث تھے۔ جھم نے تنزیہ میں افراط کیا۔ اس نے رب تعالیٰ کو معانی کی قبیل سے نکال کر تعطیل کے زمرے میں ڈال دیا، اور مقاتل نے تشبیہ میں افراط سے کام لیا۔ حتیٰ کہ رب تعالیٰ کے لیے گوشت خون، بال اور ہڈی تک کو ثابت کر دیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ مقاتل کے بارے میں فرماتے ہیں ، ’’ جو شخص علم تفسیر کا طالب ہو وہ مقاتل کا بستہ فراک ہو کر رہے اور جو فقہ حاصل کرنا چاہتا ہے ، وہ امام ابو حنیفہ کا دامن تھام لے۔‘‘[1][1] وفیات الاعیان: ۴؍ ۳۴۱۔ میں مقاتل کے ترجمہ میں لکھا ہے: ’’امام شافعی سے منقول ہے: سب لوگ تین کے محتاج ہیں : تفسیر میں مقاتل کے، شعر میں زہیر بن ابی سلمی کے، اور کلام میں ابو حنیفہ کے۔ اور مقاتل بن سلیمان اگرچہ حدیث میں حجت نہیں بخلاف مقاتل بن حیان کے کہ وہ ثقہ ہے۔ [2] [2] یہ خراسان کے عالم الحافظ ابو بسطام ہیں ۔ ابن سعد کہتے ہیں : یہ ابو معان مقاتل بن حیان البلخی الخزار ہیں ۔ ذہبی انہیں امام، صادق، عبادت گزار متبع سنت اور بڑا صاحبِ غیر کہتے ہیں ۔ ابو مسلم خراسانی کے خروج کے دور میں کابل چلے گئے اور بے شمار لوگوں کو مسلمان کیا۔ ابن معین اور ابو داؤد نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ دیکھیں : ’’تذکرۃ الحفاظ: ۱؍ ۱۷۴‘‘۔  لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کی تفسیر اور دوسرے علوم پر بے پناہ دسترس تھی۔ [3][3] یہ ابو الحسن بن مقاتل بن سلیمان بن شیرازدی، بلخی، خراسانی مروزی ہیں ۔ خاندان بلخ سے تھا جو بعد میں بصرہ منتقل ہو گیا تھا۔ بغداد جا کر حدیث بیان کی۔ ذہبی ابن حیان کے ترجمہ کے آخر میں لکھتے ہیں : (تذکرۃ الحفاظ: ۱؍ ۱۷) اور رہے مفسر مقاتل بن حیان تو انہوں نے ۱۵۰ھ میں بصرہ میں وفات پائی۔ دیکھیں : الجرح والتعدیل: ص: ۵۴۹۔ جیسا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہ اگرچہ لوگوں نے متعدد باتوں میں ان کی مخالفت کی۔ لیکن اس سب کے باوجود کسی کو بھی ان کے علم و فہم اور فقہ میں ادنیٰ سا بھی شک نہیں ۔ لوگوں نے امام موصوف کی برائی بیان کرنے کے لیے ان سے متعدد باتوں کو نقل کیا ہے۔ جو ان پر سراسر بہتان اور جھوٹ ہیں ۔ جیسے بری خنزیر وغیرہ کا مسئلہ۔ تو پھر اس باب میں مقاتل بن سلیمان سے ایسی باتوں کا منقول ہونا کیا بعید ہے۔ اس امامی نے مذکور نقل کو داؤد طائی [4][4] ابو سلیمان داؤد بن نصیر المتوفی ۱۶۰ھ داؤد طائی کے نام سے مشہور تھے، یہ بڑے فقیہ اور عابد شب زندہ دار تھے ذہبی ’’العبد: ۱؍ ۲۳۵‘‘ میں لکھتے ہیں : موصوف نے فقہ میں مہارت حاصل کی، پھر معتزلی ہو گئے۔ انہوں نے عبدالملک اور ایک جماعت سے حدیث روایت کی ہے۔ موصوف زہد و عبادت اور نیکی و خیر میں فقید المثال تھے۔ ذہبی نے سنِ وفات ۱۶۲ھ بتایا ہے۔ دیکھیں : طبقات ابن سعد: ۶؍ ۳۶۷۔ ، یہ امام ابو حنیفہ، ثوری، شریک اور ابن ابی لیلیٰ کے معاصر تھے اور ان سے استفادہ کر چکے تھے، داؤد طائی کے بارے میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ ’’اگر وہ زمانہ ماضی میں ہوتے تو اﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں ضرور ان کا ذکر فرماتے۔‘‘ شیعہ مصنف کی جہالت کا اندازہ لگائیے کہ داؤد طائی اور داؤد جواربی کے مابین فرق نہ کر سکا۔ سے نقل کیا ہے اور یا تو یہ اس کا جہل ہے یا پھر اس کا جہل ہے۔ جس سے اس امامی نے نقل کیا ہے۔ کیونکہ داؤد طائی تو امام ابو حنیفہ، ثوری، شریک اور ابن ابی لیلیٰ وغیرہ کے دور میں اہلِ کوفہ کے فقیہ اور عابدوز اہد تھے۔ موصوف فقہ حاصل کرنے کے بعد عبادت میں لگ گئے تھے۔ علماء کے ہاں ان کی سیرت اور ان کے احوال مشہور ہیں ۔ انہوں نے ایسی کوئی باطل بات نہیں کہی۔ یہ بات تو داؤد جواربی نے کہی ہے۔ شاید اسی امامی پر یا اس کے شیوخ کو داؤد طائی اور داؤد جواربی میں اشتباہ لگ گیا ہے۔ میرے سامنے موجود نسخہ میں یہ غلطی نہیں ہے۔ میرے خیال میں داؤد جواربی بصری اور ان طائی سے جو کوفی تھے متاخر تھے، اور ان کا قصہ معروف ہے.
اشعری کہتے ہیں : امت میں کچھ لوگ عبادتوں کا غلط انتساب کرتے ہیں ، اور ان کو اللہ تعالیٰ پر جائز سمجھتے ہیں ۔ یہ لوگ اجسام میں حلول کے قائل ہیں ۔ اس لیے کسی عمدہ شے کو دیکھ کر یہ کہہ اٹھتے ہیں کہ شاید یہ وہی ہو، اور ان میں سے کوئی یہ کہتا ہے کہ اس نے رب تعالیٰ کو اس دنیا میں اپنے اعمال کے بقدر دیکھا ہے۔ پس جس نے اپنا عمل اچھا دیکھا اس نے اپنے معبود کو اچھا دیکھا۔ان میں سے بعض کے نزدیک اس دنیا میں رب تعالیٰ سے معانقہ، مجالست اور ملامست جائز ہے، اور کوئی یہ کہتا ہے کہ رب تعالیٰ کا جسم، اعضاء اور ابعاض ہیں ۔ جیسے خون، گوشت وغیرہ جو انسانی صورت پر ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کے انسان کی طرح اعضاء و جوارح ہیں ۔ان صوفیہ میں ابو شعیب نامی ایک شخص تھا۔ جو یہ کہتا تھا کہ رب تعالیٰ اپنے اولیاء کی اطاعت گزاری سے خوش ہوتا ہے اور ان کی نافرمانی پر افسردہ اور غم زدہ ہو جاتا ہے۔ان میں ایک گروہ اس بات کا بھی قائل ہے کہ یہ عبادت انہیں ایسے مرتبہ تک لے جاتی ہے۔ جہاں جا کر عبادت معاف ہو جاتی ہے اور اب ان کے زنا وغیرہ جیسے محظورات جائز اور حلال ہو جاتے ہیں ، اور بعض یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عبادت کرتے کرتے اس حد تک جا پہنچے کہ انہوں نے اسی دنیا میں رب تعالیٰ کو دیکھا اور جنت کے پھل بھی کھائے اور حورین سے گلے بھی ملے، اور انہوں نے شیطان سے لڑائی بھی کی، اور بعض تو یہ تک سمجھتے ہیں کہ وہ عبادت کرتے کرتے انبیاء اور فرشتوں تک سے افضل ہو گئے ہیں ۔یہ سب باتیں اشعری نے نقل کی ہیں اور ان سے بھی زیادہ بھاری باتیں ذکر کی ہیں جو اس زمانہ سے پہلے لوگوں میں موجود تھیں ۔ اس زمانہ میں بعض لوگ خوبصورت اجسام میں رب تعالیٰ کے حلول کے قائل ہیں ۔ یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ بے ریش کو دیکھنے سے انہیں اپنے معبود کا یا اس کی صفات کا یا اس کے جمال کے مظاہر کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ پھر ان میں سے بعض تو بے ریش کو سجدہ تک کرتے ہیں ۔پھر ان میں سے بعض عمومی حلول اور اتحاد کے قائل ہیں ۔ البتہ وہ مظاہر جمال کی عبادت کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس میں اسے لذت ملتی ہے۔ یوں وہ اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔ فقر و تصوف کی طرف منسوب بے شمار لوگوں میں سے بات موجود رہے۔پھر بعض کا قول ہے کہ میں نے رب تعالیٰ کو مطلق دیکھا ہے۔ وہ کسی متعین حسین صورت کو ذکر نہیں کرتا۔ بلکہ یہ کہتا ہے کہ اس نے رب تعالیٰ کو مختلف صورتوں میں دیکھا ہے۔کوئی یہ کہتا ہے کہ رب تعالیٰ سبزہ پر چلتا ہے تو وہ اور زیادہ سرسبز ہو جاتا ہے۔ غرض اس باب میں بے شمار حکایات ہیں ۔ ان کو کہاں تک بیان کیجئے۔رہا اباحت اور محرمات کے حلال ہونے کاعقیدہ ؛ تو وہ ان عبادت اور علم میں کاملین میں بہ نسبت دیگرعقائد کے زیادہ ہے۔ کیونکہ یہ باطنی اسماعیلی قرامطی آئمہ، غیر اسماعیلی اور دیگر بے شمار فلسفیوں کا قول ہے۔ اسی لیے ان کے بارے میں یہ مثل مشہور ہے کہ ’’فلاں تو میرا خون یوں حلال سمجھتا ہے۔ جیسے یہ فلاسفہ محظورات شرعیہ کو حلال سمجھتے ہیں ، اور تصوف اور کلام کی طرف منسوب اکثر لوگوں کا یہ قول ہے، اسی طرح وہ لوگ جو اپنے آپ کو یا اپنے متبوع کو نبیوں سے افضل سمجھتے ہیں ، اسی طرح فلاسفہ، باطنیہ اور غالی صوفیہ میں یہ کلام سمجھتے ہیں ۔ اسے ایک دوسرے موقع پر مفصل ذکر کیا جا چکا ہے۔غرض یہ اقوال اہلِ سنت کے نزدیک سخت برے ہیں جو شیعہ میں پائے جاتے ہیں ۔اکثر عبادت گزار یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے رب تعالیٰ کو اس دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے ایک عبادت کی کثرت کی وجہ سے اپنے اندر وہ انوار دیکھتا ہے جو اس کی ظاہری حس سے پوشیدہ ہوتے ہیں ، اور وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے ان چیزوں کو اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھا ہے۔ حالانکہ وہ اس کے دل میں ایک خیال ہوتا ہے۔ پھر ان میں سے بعض ان نظر آنے والی صورتوں سے یوں خطاب کرتے ہیں ۔ جیسے وہ ان کا رب ہو، اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب خارج میں موجود ہے۔ حالانکہ وہ اس کے نفس میں ہوتا ہے۔ جیسے کوئی نیند میں حسب حال اپنے رب کو دیکھے۔ ایسی باتیں ہمارے زمانے میں اور پہلے زمانے میں بہت ہوئی ہیں ۔ ان لوگوں کو غلط فہمی یہ ہوتی ہے کہ وہ ان چیزوں کو خارج میں موجود سمجھتے ہیں ۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے سامنے شیطان متمثل؍ مجسم ہو کر آتا ہے اور وہ نور کو یا عرش کو یا عرش پر نور کو دیکھتے ہیں ، اور شیطان انہیں یہ کہتا ہے کہ میں تمہارا رب ہوں اور کسی کو یہ کہتا ہے کہ میں تمہارا نبی ہوں ۔ ایسا بہتوں کے ساتھ ہوا ہے۔ پھر ان میں سے بہت سے لوگوں کو خدا بن کر آواز میں سنائی دیتی ہیں ۔ حالانکہ وہ آواز جن کی ہوتی ہے۔ غرض یہ موقع اس بات کی تفصیل کا نہیں کہ وہ خارج کی آواز باطل ہوتی ہے، اور وہاں حق اور باطل میں کیونکر تمیز کی جائے۔بہت سے جاہل اہلِ حال یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ: انہوں نے اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کو عیاناً دیکھا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے چند قدم چل کر بھی دکھایا ہے۔ پھر یہ لوگ اس کے ساتھ کفر سے بھی بڑھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ مثلاً اگر فلاں شیخ نے مجھے روزی نہ دی تو مجھے یہ روزی چاہیے ہی نہیں ، اور یہ کہ اس کا شیخ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تک کا شیخ ہے۔ یہ سب غالی شیوخ کا اقوال ہیں ۔ البتہ اسماعیلیہ اور نصیریہ شیعہ میں اس سے بھی بڑھ کر غالبانہ اور کفریہ اقوال پائے جاتے ہیں ۔ ایسے اقوال ان گمراہ نام نہاد اہل سنت ہی بھی نہیں پائے جاتے۔ پھر بعض شیعہ دوسروں سے بھی زیادہ خبیث ہیں ۔پھر وحدۃ الوجود کے قائلین جیسے ابن عربی اور ابنِ سبعین [1][1] یہ ابو حفص عمر بن مرشد بن علی شرف الدین ابن الفارض ہے، جو الحموی الاصل ہے۔ جبکہ ولادت مصر میں ہے، اور سکونت اور وفات بھی مصر میں ہی ہوئی۔ سلطان العاشقین لقب تھا۔ سن ولادت ۵۷۶ھ اور سنِ وفات ۶۳۲ھ ہے۔ دیکھیں : وفیات الاعیان: ۳؍ ۱۲۶ ۔ ۱۲۷۔ وغیرہ کا یہ دعویٰ ہے کہ انہیں ہر وقت رب تعالیٰ کا مشاہدہ حاصل ہے۔ ان کے نزدیک دنیا و آخرت کا مشاہدہ ایک ہی ہے۔ کیونکہ اس کی مطلق ذات ساری کائنات میں جاری و ساری ہے۔اس قسم کی باتیں اور اقوال لوگوں میں موجود ہیں ۔ البتہ شیعہ کے اقوال زیادہ قبیح و شنیع ہیں ۔ جیسا کہ غالی نصیریہ وغیرہ کے اقوال ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نصیریہ وحدۃ الوجود کے قائلین کی بے حد تعظیم کرتے ہیں ، اور تلمسانی [1][1] یہ عفیف الدین سلیمان بن عبداللہ بن علی الکومی التلمسانی ہے جس کا ترجمہ گزر چکا ہے۔ وحدت کے قائلین کا شیخ تھا۔ جس نے النفری [2] [2] یہ ابو عبداللہ محمد بن عبدالجبار بن حسن النضری ہے۔ یہ النفر نامی شہر کی طرف منسوب ہو کر النفری کہلاتے ہیں جو کوفہ کا ایک پر گند ہے۔ شعرانی نے الطبقات الکبری: ۱؍ ۱۷۴ ۔ ۱۷۵۔ میں اس کا ترجمہ ذکر کیا ہے، اور کہا ہے کہ: موصوف کا قول کے طریق میں بڑا عالی کلام تھا۔ ’’المواقف‘‘ جیسی کتاب لکھی۔ جسے شیخ محی الدین ابن العربی نے ان سے نقل کیا ہے۔ ۳۵۴ھ میں وفات پائی۔ دیکھیں : المشتبہ للذہبی: ۲؍ ۶۶۴۔ عیسی الحلبی۔  کی ’’موافقت‘‘ کی شرح کی ہے، اور اس کے علاوہ بھی کتابیں لکھیں ۔ نصیریہ کی طرف مائل ہوئے تو ان کے لیے بھی ایک کتاب لکھی۔ اس لیے نصیریہ تلمسانی کی بے حد تعظیم کرتے ہیں ۔ مجھے نقیب الاشراف تلمسانی سے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے تلمسانی سے پوچھا کہ کیا آپ نصیری ہیں ؟ تو کہنے لگے کہ نصیری تو میرا ایک جز ہیں ۔ روافض کاعقیدہ : ’’رب تعالیٰ کی آنکھ دکھی اوروہ رویا بھی‘‘ پر تبصرہ:٭ رہا اس امامی کا یہ کہنا کہ: رب تعالیٰ کو آشوب چشم ہوا اور فرشتوں نے اس کی عیادت کی اور رب تعالیٰ طوفانِ نوح پر رویا وغیرہ۔ تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے اس قسم کے اقوال یہود سے نقل کیے ہیں ۔ جتنے مسلمانوں کو میں جانتا ہوں ، یہ ان میں سے کسی کا بھی قول نہیں ، اور اگر اہلِ قبلہ میں سے کسی نے یہ قول کیا بھی ہے تو قابلِ افکار نہیں ۔ (کوئی ایک آدھ ایسا گمراہ نکل بھی آتا ہے) کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :’’تم قدم بہ قدم اپنے سے پہلوں کی چال چلو گے۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں بھی داخل ہوئے تھے تو تم بھی اس میں داخل ہو کر رہو گے۔‘‘ [3][3] صحیح البخاری، کتاب الانبیاء باب ما ذکر عن بنی اسرائیل عن ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ عنہ مع اختلاف اللفظ: ۴؍ ۱۶۹۔لیکن چونکہ یہ روافض یہود کے مشابہ ہیں ۔ اس لیے ان میں ایسے لوگوں کا پایا جانا بہ نسبت اہلِ سنت کے زیادہ ظاہر ہے۔روافض کے عقیدہ: ’’عرش چہار جانب سے رب تعالیٰ سے انگشت بڑا ہے‘‘ پر تبصرہ:٭ رہا اس امامی کا یہ قول کہ عرش ہر جانب سے رب تعالیٰ سے چہار انگشت زیادہ بڑا ہے۔ تو میں نہ تو اس کے کسی قائل کو جانتا ہوں اور نہ ناقل کو۔ البتہ عبداللہ بن خلیفہ کی حدیث میں یہ ضروری مروی ہے کہ: عرش کی چار انگشت برابر جگہ بھی فالتو نہیں ۔ [1] [1] کتب رجال میں اس نام کے دو آدمی ملتے ہیں : (۱) عبداللہ بن خلیفہ طائی کوفی ہمدانی (دیکھیں : طبقات ابن سعد: ۶؍ ۱۲۱) اور (۲) عبداللہ بن خلیفہ یا خلیفہ بن عبداللہ (دیکھیں : تقریب التہذیب، ص: ۴۱۲) اب میں نہیں جانتا کہ یہاں دونوں میں سے کون مراد ہے۔  کہ یہ روایت نفی کے ساتھ بھی ہے اور اثبات کے ساتھ بھی۔ متعدد محدثین نے اس حدیث میں طعن کیا ہے۔ جیسے اسماعیلی، ابن جوزی، بعض نے اس حدیث کے شواہد ذکر کر کے اسے قوی بھی کیا ہے۔ اب نفی کے لفظ پر کوئی اشکال نہیں ۔ کیونکہ ایسا لفظ احادیث میں نفی کے عموم کے لیے آتا ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ: ’’آسمان میں چار انگشت برابر بھی جگہ نہیں مگر وہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام و قعود میں رکوع و سجدہ میں ہے۔‘‘ [2][2] الدر المنثور للسیوطی: ۱؍ ۲۹۲ ۔ ۲۹۶۔  یعنی آسمان میں سرے سے کوئی جگہ خالی ہی نہیں ہے۔ اس معنی میں عربوں کا یہ قول ہے کہ: ’’آسمان میں ہتھیلی کے بقدر بھی بادل نہیں ۔‘‘ کیونکہ ہتھیلی کے ذریعے مساحت کی جاتی ہے۔ جیسا کہ گز کے ذریعے کی جاتی ہے، اور آدمی کے اعضاء میں مساحت کا سب سے چھوٹا عضو ہتھیلی ہے۔ لہٰذا یہ سب سے کم مقدار کے لیے مثل بن گئی۔پس جب یہ کہا جائے کہ عرش کی چار انگشت برابر جگہ بھی فاضل نہیں اور معنی یہ ہو کہ زائد اور فالتو نہیں ، تب پھر یہاں یہ بیان کرنا مقصود ہوگا کہ رب تعالیٰ عرش سے عظیم اور بڑا ہے۔اب یہ بات معلوم ہے کہ یہ حدیث قولِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو تو ہم پر اس میں سے کچھ واجب نہیں ، اور اگر یہ قولِ نبی ہو تو یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفی اور اثبات کو یکجا نہیں کیا۔ اگر تو یہاں نفی ہے تو اثبات نہیں ۔ اب جو لوگ یہاں اثبات کے قائل ہیں ۔ انہوں نے یہاں اپنے اصول کے مناسب کلام کیا ہے۔ اس کی تفصیل دوسرے مقام پر ہے۔یہ اور اس جیسی باتیں چاہے حق ہوں یا باطل، نہ تو اہلِ سنت کے مذہب میں قادح ہیں اور نہ مضر۔ کیونکہ اگر ان کو باطل مانیں تو یہ ان کا قول نہیں ہو سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ان میں سے کسی ایک فرقہ کا قول ہوگا جسے کچھ لوگوں نے روایت کر دیا ہوگا۔اور جو باطل ہوگا اسے جمہور نے رد کر دیا ہوگا۔ جیسا کہ وہ دیگر اقوال کو بھی رد کر دیا کرتے ہیں ۔ بہت سارے مسلمانوں نے باطل اقوال کیے ہیں ۔ لیکن یہ اقوال مسلمانوں کے دین کے حق میں مضر نہیں ۔ امامیہ کے متعدد ایسے منکر اقوال ہیں جن میں ایسی باتیں مذکور ہیں ۔ چاہے ان کو بعض اہلِ سنت نے بھی کہا ہو۔

صفحہ 2 از 2