امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مقتولین کی خبرگیری اور ان کے بارے میں جذبہ رحم
علی محمد الصلابیامیر المؤمنین علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ جنگی کارروائیوں کے اختتام پر مقتولین کی خبر گیری کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے، ایک چشم دید گواہ کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہباء خچر پر سوار مقتولین کے درمیان گھوم رہے ہیں،
(مصنف ابن ابی شیبہ)
اس دوران اشتر بھی آپ کے ساتھ تھا، آپ کا گزر ایک ایسے مقتول پر ہوا جس کا شمار شام کے مشہور قاضیوں اور عبادت گزاروں میں ہوتا تھا، اسے دیکھ کر اشتر یا عدی بن حاتم کہنے لگا: امیر المؤمنین: کیا حابس (حابس بن سعد طائی، مخضرم، مقتول صفین) بھی ان کے ساتھ مارا گیا؟ اللہ کی قسم! اس کے بارے میں میرا تجربہ یہ ہے کہ یہ شخص مومن تھا۔ یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آج یہ واقعی مومن ہے۔ غالباً یہ مقتول شخص وہی قاضی تھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا امیر المؤمنین! میں نے ایک پریشان کن خواب دیکھا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کون سا خواب؟ وہ کہنے لگا: میں نے خواب میں دیکھا کہ سورج اور چاند باہم لڑ رہے ہیں اور آدھے ستارے سورج کے ساتھ ہیں اور آدھے چاند کے ساتھ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تو کس کے ساتھ تھا؟ اس نے کہا: میں چاند کے ساتھ تھا۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَجَعَلۡنَا الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ اٰيَتَيۡنِ فَمَحَوۡنَاۤ اٰيَةَ الَّيۡلِ وَجَعَلۡنَاۤ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبۡصِرَةً۞ (سورۃ الإسراء آیت 12)
ترجمہ:’’اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، پھر ہم نے رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا۔‘‘
تو یہاں سے چلا جا اور آئندہ کے لیے میرا کوئی کام نہ کرنا۔ راوی کہتا ہے: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ یہ شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کے ساتھ شامل ہو کر جنگ صفین میں مارا گیا۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: جلد 11 صفحہ 74 منقطع سند کے ساتھ)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کے مقتولوں کے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگے: اللہ تعالیٰ تم سب کی مغفرت فرمائے، اللہ تم سب کی مغفرت فرمائے۔
(خلافۃ علی بن ابو طالب: صفحہ 259)
یزید بن اصم کہتے ہیں: فریقین میں صلح طے پا جانے کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے مقتولین کے پاس آئے اور کہنے لگے: یہ سب لوگ جنتی ہیں، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقتولین کے پاس جا کر کہنے لگے: یہ بھی جنتی ہیں؛ یہ ذمہ داری مجھ پر اور معاویہ رضی اللہ عنہ پر عائد ہوتی ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: جلد 15 صفحہ 303۔ حسن سند کے ساتھ)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان مقتولین کے بارے میں فرمایا کرتے تھے: یہ سب مومن ہیں۔
(تاریخ دمشق: صفحہ 329، 331 ۔ خلافۃ علی رضی اللہ عنہ: صفحہ 251)
آپ جنگ جمل میں کام آنے والوں کے بارے میں بھی یہی کچھ فرمایا کرتے تھے۔
(خلافۃ علی بن ابی طالب، عبدالحمید: 251، تنزیہ لخال المؤمنین صفحہ 169)