شاہ روم کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا موقف
علی محمد الصلابیسیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہ روم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زیر تصرف بعض اراضی پر قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اس کے لیے وہ ایک بڑا لشکر لے کر بعض بلاد اسلامیہ کے قریب آن پہنچا۔ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس کے نام یہ خط لکھا: اے ملعون! اللہ کی قسم! اگر تو اپنے اس پروگرام سے باز نہ آیا اور یہاں سے واپس نہ گیا تو میں اور میرے عم زاد مل کر تجھے تیرے تمام شہروں سے نکال باہر کریں گے اور زمین کو اس کی وسعت کے باوجود تجھ پر تنگ کر دیں گے، شاہ روم نے جب یہ خط پڑھا تو وہ ان کی ہیبت سے ڈر کر واپس ہٹ گیا اور پھر ان کے ساتھ صلح کی درخواست کرنے لگا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 18 صفحہ 122)
یہ اثر اس بات پر دلالت کرتا ہے اگر شام میں دولتِ اسلامیہ کا امن خطرات سے دوچار ہوتا ہے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اختلاف لمحہ بھر کے لیے بھی نہیں رہتا اور اگر رومیوں کو اس بات کا علم نہ ہوتا کہ ان کے مخالفین کے یہ اختلافات نسیانِ مطلق کے قابل ہیں، تو وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس دھمکی کو سنجیدگی سے نہ لیتے اور نہ وہ آگے بڑھنے سے ہی باز آتے۔
(الدور السیاسی لصفوۃ فی صدر الاسلام: صفحہ 221)