Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ مذہب جھوٹ کا پلندہ:

  امام ابنِ تیمیہؒ

شیعہ مذہب جھوٹ کا پلندہ:اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ یہ مذکورہ حدیث کسی نے بھی بیان نہیں کی، نہ صحیح سند سے اور نہ ضعیف سند سے، اور نہ کسی محدث نے یہ روایت کیا ہے کہ رب تعالیٰ ہر شبِ جمعہ کو نزول فرماتا ہے اور نہ یہ کہ رب تعالیٰ ہر شبِ جمعہ کو زمین پر نزول فرماتا ہے۔ [1][1] علامی سیوطی (اللالیٔ المصنوعۃ: ۱؍ ۲۶ ۔ ۲۷) علامہ شوکانی (الفوائد المجموعہ، ص: ۴۴۶ ۔ ۴۴۷) اور ابن عراق الکنانی (تنزیہ الشریعۃ: ۱؍ ۱۳۸) نے ایک حدیث روایت کی ہے جس میں یہ ہے کہ: رب تعالیٰ ہر شبِ جمعہ کو دارِ دنیا کی طرف چھ لاکھ فرشتوں کے جلوسِ نزول فرماتا ہے اور نور کی کرسی پر بیٹھتا ہے.... الخ۔ شوکانی کہتے ہیں : یہ حدیث جوزفانی نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ لیکن کذب، موضوع، باطل اور شیوخ پر الزام ہے۔ اسے ابو السعادات احمد بن منصور بن حسن بن قاسم نے گھڑا ہے جو ابنِ جوزی کے بقول کذاب ہے۔ اس جیسی ایک اور باطل روایت بھی ہے جو سیوطی نے ’’ذیل الالیٔ المصنوعہ، ص: ۲‘‘ میں نقل کی ہے۔ بے شک ایسی روایات باطل ’’منکر‘‘ موضوع اور جھوٹ ہیں ۔  اور نہ یہ کہ رب تعالیٰ بے ریش کی شکل میں نزول فرماتا ہے۔[2] [2] علامہ سیوطی نے (اللالیٔ المصنوعۃ: ۱؍ ۲۸ ۔ ۳۱)۔ میں ایسی متعدد روایات ذکر کی ہیں ۔ان میں سے ایک روایت حضرت ام طفیل والی مرفوع روایت ہے؛ جس میں آپ فرماتی ہیں :’’ میں نے اپنے رب کو نیند میں بہترین صورت میں دیکھا؛ ایک مؤقر نوجوان کی شکل میں ؛ اس کی ٹانگیں سبزہ میں تھیں ؛ اوران میں سونے کے جوتے تھے۔ اور اس کے چہرے پرسونے کے نشان تھے۔‘‘امام شوکانی نے یہ روایت ’’الفوائد ص ۴۴۷‘‘ پر نقل کی ہے۔ دوسری روایت(اللالیٔ المصنوعۃ: ۱؍ ۲۹)پرہے؛ حضرت ابن عباس سے روایت ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں نے اپنے رب کو ایک نوجوان کی صورت میں دیکھا جس کے کانوں تک بال تھے‘‘ تیسری روایت : حضرت عائشہ فرماتی ہیں : ’’ آپ نے اپنے رب کوایک نوجوان کی صورت میں دیکھا جو کہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا؛ اس کی ٹانگیں سبزے میں تھیں جن سے نور پھوٹ رہا تھا۔‘‘(اللالیٔ المصنوعۃ: ۱؍ ۲۸) چوتھی روایت: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو ایک نوجوان کی شکل و صورت میں دیکھا جس کے سر پر تاج تھا۔‘‘اور پانچویں روایت : حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : رسول اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں نے اپنے رب کو ایک بے ریش نوجوان کی شکل میں دیکھا؛ جس پر سبز لباس تھا۔ اور چھٹی روایت : حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو ایک بے ریش نوجوان کی میں بغیر پردہ کے دیکھا؛ اس کے پاؤں سبزہ میں تھے۔‘‘ علامہ سیوطی نے ان روایات کے بارے میں علماء کے اقوال نقل کئے ہیں ۔ ان میں سے بعض نے ان روایات کا انکار کیا ہے؛ اور انہیں من گھڑت کہا ہے؛ اور بعض نے ان میں تأویل کی کوشش کی ہے کہ یہاں پر رویت سے خواب میں دیکھنا ہے۔ اور رسول اللہ تعالیٰ نے اپنے رب کو اپنے دل سے دیکھا تھا۔ علامہ ابن دبیع الشیبانی نے اپنی کتاب (تمییز الطیب من الخبیث فیما یدور علی ألسنۃ الناس من الحدیث ص ۹ )میں کہا ہے: ’’ یہ حدیث : میں نے اپنے رب کو ایک بے ریش نوجوان کی شکل میں دیکھا‘‘ جو کہ عوام الناس صوفیہ کے ہاں زد زبان عام ہے؛ یہ ایک من گھڑت روایت ہے جو کہ رسول اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا گیا ہے۔جیسا کہ علامہ تاج الدین سبکی نے بھی کہا ہے۔‘‘ (انظر: تذکرۃ الموضوعات للفتنی ۹؍۲؛ الموضوعات لملا علی القاری ۴؍۹؛ وتنزیہ الشریعۃ ۱؍ ۱۴۵)  بلکہ آثار اور احادیثِ صحیحہ میں ایسا ھذیان ہر گز بھی وارد نہیں ۔ اس بارے منقول ہر حدیث باطل اور موضوع ہے۔ جیسے خاکی اونٹ والی حدیث، اور یہ کہ رب تعالیٰ عرفہ کی رات نزول فرماتا ہے، اور سواروں سے معانقہ اور پیادوں سے مصافحہ کرتا ہے، وغیرہ۔ اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے دوران اپنے رب کو دیکھا اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء مکہ میں اپنے رب کو دیکھا وغیرہ۔ اہل حدیث معرفت کا ان روایات کے جھوٹے ہونے پر اتفاق ہے۔ ان روایات کو گھڑنے والوں کا مقصود حضرات محدثین کو بدنام کرنا ہے کہ ان سے ایسی باتیں بھی منقول باور کی جائیں ۔ جیسے گھوڑے کے پسینے والی جھوٹی حدیث۔ [3] [3] سیوطی نے (اللالیٔ: ۱؍۳ میں ) یہ حدیث حاکم سے نقل کی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ تعالیٰ کے رسول! ہمارا رب کس چیز سے بنا ہے؟ فرمایا: کڑوے پانی سے۔ جو نہ زمین کا ہے اور نہ آسمان کا۔ اس نے گھوڑوں کو پیدا کیا اور انہیں دوڑایا جس سے انہیں پسینہ آیا۔ پس اس اپنے آپ کو اسی پسینہ سے پیدا فرمایا۔‘‘ اس کے بعد سیوطی حاکم کا یہ قول نقل کرتے ہیں : یہ ہدیث موضوع ہے۔ یہ محمد بن شجاع نے گھڑی ہے۔ کسی مسلمان سے ایسی حدیث گھڑنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سیوطی اس پر یہ زائد کہتے ہیں : اور نہ کسی عقل مند سے۔ اس کے بعد موصوف ابن شجاع الثلجی کے بارے میں کلام نقل کرتے ہیں ۔ دیکھیں : لسان المیزان: ۶؍ ۲۹۲۔

جھوٹوں اور جھوٹی حدیث گھڑنے والوں کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسی احادیث گھڑی ہیں ۔ جیسا کہ روافض نے اس سے کہیں زیادہ اور گھناؤنی باتیں گھڑ رکھی ہیں ۔ اگر یہ امامی اپنی تصنیف میں صرف اتنی باتوں ہی پر اکتفاء کرتا جو اس نے ذکر کی ہیں تو بھی ان میں وہ جھوٹ موجود ہے جس کے جھوٹ ہونے پر اہل علم اور حضرات محدثین کا اجماع ہے۔ انہیں میں سے ایک مثل آفتاب نیم روز ایک جھوٹ وہ ہے جو اس نے ’’منہاج الندامۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ہم گزشتہ میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس دنیا میں رؤیت باری تعالیٰ ممکن نہیں ۔ نہ تو کسی نبی کے لیے اور نہ کسی غیر نبی کے لیے۔ اس باب میں لوگوں کا خاص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ معروف احادیثِ معراج میں ایسی کوئی بات نہیں جو رؤیت پر اصالۃً دلالت کرتی ہو۔ یہ روایت ایک ضعیف اسناد کے ساتھ مروی ہے جو ابو عبیدہ کے طریق سے ہے۔ جسے خلال نے اور قاضی ابو یعلی نے ’’ابطال التاویل‘‘ میں ذکر کیا ہے، اور اہل علم کا اس روایت کے جھوٹے اور موضوع ہونے پر اتفاق ہے۔[1][1] امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے وہ مجھے نہیں ملی۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں :’’میں نے عرض کیا: اے اللہ تعالیٰ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رب دیکھا؟’’توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو نور ہے بھلا میں اسے کیونکر دیکھتا؟ [2] [2] صحیح مسلم: ۱؍ ۱۶۱۔ کتاب الایمان، باب فی قولہ علیہ السلام: نورٌ اَنّٰی اراہ۔ یہ بات ثابت نہیں ہے کہ کسی صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رؤیت کے بارے میں پوچھا ہو۔ صرف اسی ایک حدیث میں اس بات کا ذکر ہے۔ رہی وہ احادیث جو لوگ نقل کرتے ہیں کہ جنابِ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ سے پوچھا ؛تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ہاں میں نے رب کو دیکھا ہے۔‘‘اور سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سوال کے جواب میں فرمایا : ’’ میں نے رب تعالیٰ کو نہیں دیکھا۔‘‘تو اہل علم کا ان روایات کے جھوٹ ہونے پر اتفاق ہے۔ علماء میں سے کسی نے بھی ان روایات کو صحیح یا ضعیف اسناد کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ اسی بناء پر امام احمد رحمہ اللہ نے رؤیت کے باب میں حضرت ابی ذر رضی اللہ عنہ کے قول پر اعتماد کیا ہے ۔ اسی طرح عثمان بن سعید دارمی نے بھی۔ رہی ہر رات میں آسمان دنیا کی طرف نزول فرمانے کی احادیث تو حضرات محدثین کے نزدیک معروف اور ثابت ہیں ۔ اسی طرح عرفہ کی رات میں رب تعالیٰ کے قریب ہونے والی حدیث بھی ہے۔ جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [1] [1] صحیح مسلم: ۲؍ ۹۸۲ ۔ ۹۸۳۔ کتاب الحج، باب فی فضل الحج والعمرۃ ویوم عرفۃ۔ رہا نصف شعبان کی شب میں نزول تو اس بارے ایک مختلف فیہ اسناد والی حدیث ہے۔ [2][2] الرد علی الجہمیۃ للدارمی، ص: ۳ ۔ ۴۔ پھر جمہور اہلِ سنت کہتے ہیں کہ بے شک وہ نزول فرماتا ہے لیکن اس کا عرش اس سے خالی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اسحاق بن راہویہ اور حماد بن زید وغیرہ سے ایسا مروی ہے۔ اور امام احمد رحمہ اللہ مسدّد [3][3] یہ ابو الحسن مسدّد بن مسرھد بن مسربل اسدی بصری ہیں ۔ ابن حجر (تقریب، ص: ۴۹) کہتے ہیں : مسدّد ثقہ اور حافظ ہیں ۔ کہتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے آپ ہی نے مسند لکھی۔ ایک قول یہ ہے کہ مسدّد آپ کا لقب جبکہ نام عبدالملک بن عبدالعزیز ہے۔ ۲۲۸ھ میں وفات پائی۔ دیکھیں : طبقات الحنابلہ: ۱؍ ۳۴۱ ۔ ۳۴۵۔ کو لکھے اپنے خط میں فرماتے ہیں :’’علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مثل کوئی چیز نہیں ، اور یہ کہ اس کے نزول کی کیفیت غیر معلوم ہے، اور یہ کہ اس کی صفات اس کی مخلوق کی صفات کے مثل نہیں ۔‘‘علماء کا اس باب میں اختلاف ہے کہ آیا رب تعالیٰ کا نزول یہ فعل کی صفت ہے جو مخلوقات میں رب سے منفصل ہے یا یہ اس کا فعل ہے جس کے ساتھ یہ قائم ہے۔ اس بارے اہل سنت کے دو معروف اقوال ہیں ، اور یہ امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام ابو حنیفہ وغیرہ کے اصحابِ حدیث و تصوف کے اقوال ہیں ۔اسی طرح استواء علی العرش میں بھی اختلاف ہے کہ آیا یہ رب تعالیٰ کا فعل ہے جو اس سے منفصل ہے، جسے وہ عرش کے ساتھ کرتا ہے۔ جیسے اس کے قریب ہونا، یا یہ فعل ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔ غرض اس بارے دو اقوال ہیں : پہلا قول ابن کلاب، اشعری، قاضی ابو یعلی، ابو الحسن تمیمی وغیرہ کا ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ جو فعل اس کی مشیئت اور قدرت سے متعلق ہو، وہ اس کے ساتھ قائم نہیں ہوتا۔جبکہ دوسرا قول جمہور آئمہ محدثین کا ہے۔ جیسے ابن مبارک، حماد بن زید، اور زاعی، بخاری، حرب کرمانی، ابن خزیمہ، یحییٰ بن عمار سجستانی، دارمی، ابن حامد، ابوبکر عبدالعزیز، ابو عبداللہ بن مندہ، انصاری رحمہم اللہ وغیرہ۔یہ مقام ان مسائل کی تفصیل کا نہیں ۔ غرض صرف اس بات پر تنبیہ کرتا ہے کہ یہ اقوال نہ تو علماء اہلِ سنت کے ہیں اور نہ کسی عاقل کے ہیں ۔ یہ نرے جھوٹے اور کسی پرلے درجے کے جاہل کے ہیں ۔