شیعہ مذہب جھوٹ کا پلندہ: - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ مذہب جھوٹ کا پلندہ:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

جھوٹوں اور جھوٹی حدیث گھڑنے والوں کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسی احادیث گھڑی ہیں ۔ جیسا کہ روافض نے اس سے کہیں زیادہ اور گھناؤنی باتیں گھڑ رکھی ہیں ۔ اگر یہ امامی اپنی تصنیف میں صرف اتنی باتوں ہی پر اکتفاء کرتا جو اس نے ذکر کی ہیں تو بھی ان میں وہ جھوٹ موجود ہے جس کے جھوٹ ہونے پر اہل علم اور حضرات محدثین کا اجماع ہے۔ انہیں میں سے ایک مثل آفتاب نیم روز ایک جھوٹ وہ ہے جو اس نے ’’منہاج الندامۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ہم گزشتہ میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس دنیا میں رؤیت باری تعالیٰ ممکن نہیں ۔ نہ تو کسی نبی کے لیے اور نہ کسی غیر نبی کے لیے۔ اس باب میں لوگوں کا خاص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ معروف احادیثِ معراج میں ایسی کوئی بات نہیں جو رؤیت پر اصالۃً دلالت کرتی ہو۔ یہ روایت ایک ضعیف اسناد کے ساتھ مروی ہے جو ابو عبیدہ کے طریق سے ہے۔ جسے خلال نے اور قاضی ابو یعلی نے ’’ابطال التاویل‘‘ میں ذکر کیا ہے، اور اہل علم کا اس روایت کے جھوٹے اور موضوع ہونے پر اتفاق ہے۔[1][1] امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے وہ مجھے نہیں ملی۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں :’’میں نے عرض کیا: اے اللہ تعالیٰ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رب دیکھا؟’’توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو نور ہے بھلا میں اسے کیونکر دیکھتا؟ [2] [2] صحیح مسلم: ۱؍ ۱۶۱۔ کتاب الایمان، باب فی قولہ علیہ السلام: نورٌ اَنّٰی اراہ۔ یہ بات ثابت نہیں ہے کہ کسی صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رؤیت کے بارے میں پوچھا ہو۔ صرف اسی ایک حدیث میں اس بات کا ذکر ہے۔ رہی وہ احادیث جو لوگ نقل کرتے ہیں کہ جنابِ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ سے پوچھا ؛تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ہاں میں نے رب کو دیکھا ہے۔‘‘اور سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سوال کے جواب میں فرمایا : ’’ میں نے رب تعالیٰ کو نہیں دیکھا۔‘‘تو اہل علم کا ان روایات کے جھوٹ ہونے پر اتفاق ہے۔ علماء میں سے کسی نے بھی ان روایات کو صحیح یا ضعیف اسناد کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ اسی بناء پر امام احمد رحمہ اللہ نے رؤیت کے باب میں حضرت ابی ذر رضی اللہ عنہ کے قول پر اعتماد کیا ہے ۔ اسی طرح عثمان بن سعید دارمی نے بھی۔ رہی ہر رات میں آسمان دنیا کی طرف نزول فرمانے کی احادیث تو حضرات محدثین کے نزدیک معروف اور ثابت ہیں ۔ اسی طرح عرفہ کی رات میں رب تعالیٰ کے قریب ہونے والی حدیث بھی ہے۔ جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [1] [1] صحیح مسلم: ۲؍ ۹۸۲ ۔ ۹۸۳۔ کتاب الحج، باب فی فضل الحج والعمرۃ ویوم عرفۃ۔ رہا نصف شعبان کی شب میں نزول تو اس بارے ایک مختلف فیہ اسناد والی حدیث ہے۔ [2][2] الرد علی الجہمیۃ للدارمی، ص: ۳ ۔ ۴۔ پھر جمہور اہلِ سنت کہتے ہیں کہ بے شک وہ نزول فرماتا ہے لیکن اس کا عرش اس سے خالی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اسحاق بن راہویہ اور حماد بن زید وغیرہ سے ایسا مروی ہے۔ اور امام احمد رحمہ اللہ مسدّد [3][3] یہ ابو الحسن مسدّد بن مسرھد بن مسربل اسدی بصری ہیں ۔ ابن حجر (تقریب، ص: ۴۹) کہتے ہیں : مسدّد ثقہ اور حافظ ہیں ۔ کہتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے آپ ہی نے مسند لکھی۔ ایک قول یہ ہے کہ مسدّد آپ کا لقب جبکہ نام عبدالملک بن عبدالعزیز ہے۔ ۲۲۸ھ میں وفات پائی۔ دیکھیں : طبقات الحنابلہ: ۱؍ ۳۴۱ ۔ ۳۴۵۔ کو لکھے اپنے خط میں فرماتے ہیں :’’علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مثل کوئی چیز نہیں ، اور یہ کہ اس کے نزول کی کیفیت غیر معلوم ہے، اور یہ کہ اس کی صفات اس کی مخلوق کی صفات کے مثل نہیں ۔‘‘علماء کا اس باب میں اختلاف ہے کہ آیا رب تعالیٰ کا نزول یہ فعل کی صفت ہے جو مخلوقات میں رب سے منفصل ہے یا یہ اس کا فعل ہے جس کے ساتھ یہ قائم ہے۔ اس بارے اہل سنت کے دو معروف اقوال ہیں ، اور یہ امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام ابو حنیفہ وغیرہ کے اصحابِ حدیث و تصوف کے اقوال ہیں ۔اسی طرح استواء علی العرش میں بھی اختلاف ہے کہ آیا یہ رب تعالیٰ کا فعل ہے جو اس سے منفصل ہے، جسے وہ عرش کے ساتھ کرتا ہے۔ جیسے اس کے قریب ہونا، یا یہ فعل ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔ غرض اس بارے دو اقوال ہیں : پہلا قول ابن کلاب، اشعری، قاضی ابو یعلی، ابو الحسن تمیمی وغیرہ کا ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ جو فعل اس کی مشیئت اور قدرت سے متعلق ہو، وہ اس کے ساتھ قائم نہیں ہوتا۔جبکہ دوسرا قول جمہور آئمہ محدثین کا ہے۔ جیسے ابن مبارک، حماد بن زید، اور زاعی، بخاری، حرب کرمانی، ابن خزیمہ، یحییٰ بن عمار سجستانی، دارمی، ابن حامد، ابوبکر عبدالعزیز، ابو عبداللہ بن مندہ، انصاری رحمہم اللہ وغیرہ۔یہ مقام ان مسائل کی تفصیل کا نہیں ۔ غرض صرف اس بات پر تنبیہ کرتا ہے کہ یہ اقوال نہ تو علماء اہلِ سنت کے ہیں اور نہ کسی عاقل کے ہیں ۔ یہ نرے جھوٹے اور کسی پرلے درجے کے جاہل کے ہیں ۔


صفحہ 2 از 2