Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جنگ جاری رکھنے پر قاتلین عثمان کا اصرار

  علی محمد الصلابی

قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ اس بات کے شدت کے ساتھ خواہش مند تھے کہ یہ جنگ جاری رہے یہاں تک کہ دونوں طرف کے لوگ ختم ہو جائیں اور ان کی طاقت کمزور پڑ جائے اور اس طرح وہ قصاص اور سزا سے بچ جائیں۔ جب انہوں نے اہل شام کو نیزوں پر قرآن بلند کر کے آگے بڑھتے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف سے صلح کی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے مسلمانوں کے خون بچانے کے لیے جنگ بند کرنے پر آمادہ دیکھا تو انہوں نے انہیں اس سے باز رکھنے کی بھرپور کوشش کی مگر جب وہ اس میں ناکام ہوئے تو ’’ الحکم للّٰہ‘‘ کا نعرہ لگا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر دی اور پھر طرفین سے الگ ہو کر بیٹھ گئے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے مؤرخین نے اس مرحلہ پر ان کے کردار کو اپنی توجہ کا مرکز نہ بنایا، حالانکہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے، نہ تو انہوں نے ان مذاکرات کی ناکامی کے پس پردہ امور کی نشاندہی کی جو کئی مہینوں تک جاری رہے اور نہ اس کردار کی پردہ دری کی جو جنگ صفین میں شامل ہونے والے ان حامیان علی رضی اللہ عنہ نے ادا کیا تاکہ طرفین میں جاری صلح کی کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے۔ اس لیے کہ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح ہو جاتی تو ان کی جانیں بچ نہ پاتیں، یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے کہ جن مؤرخین نے جنگِ جمل کے فتنہ کے اسباب کی کھوج لگانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر ڈالیں وہ معرکہ صفین میں ایسا کرنے سے کیوں قاصر رہے

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 147)