وثیقہ تحکیم کی نص
علی محمد الصلابیبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
1۔ یہ معاہدہ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ، ان کے گروہ اور سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما اور ان کے گروہ کے درمیان ہے۔
انہوں نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس معاہدہ کو خوشی سے تسلیم کیا ہے۔
2۔ علی رضی اللہ عنہ اہل عراق کے ذمہ دار ہوں گے یہاں موجود لوگوں کے بھی اور غیر موجود لوگوں کے بھی جبکہ معاویہ رضی اللہ عنہ اہل شام کے ذمہ دار ہوں گے یہاں موجود لوگوں کے بھی اور غیر موجود لوگوں کے بھی۔
3۔ قرآن عزیز جو بھی فیصلہ کرے گا ہم اسے صدقِ دل سے تسلیم کریں گے۔
4۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت نے عبداللہ بن قیس (ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کو جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو حکم مقرر کیا ہے۔
5۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ فیصلہ کے دوران قرآن کو اپنا امام بنائیں گے اور اس سے ہرگز تجاوز نہیں کریں گے اور اگر انہیں قرآن سے راہنمائی نہ ملے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف رجوع کریں گے۔
6۔ یہ دونوں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں جو بھی فیصلہ کریں گے وہ فریقین کے لیے واجب التسلیم ہو گا اور انہیں اس سے انحراف کی اجازت نہیں ہو گی۔
7۔ حَکمَین کی جان، مال، اہل و عیال اور اولاد بالکل محفوظ رہیں گے اور وہ حق سے تجاوز نہیں کریں گے، اس سے کوئی راضی ہو یا ناراض۔
8۔ اگر فیصلہ کے اعلان سے قبل حَکمَین میں سے کوئی ایک مر جائے تو اس کے أعوان و أنصار کو اس کی جگہ کسی دوسرے ایسے شخص کو منتخب کرنے کا حق حاصل ہو گا جس کا شمار اہل عدل و صلاح میں ہوتا ہو۔
9۔ اگر فیصلہ کے اعلان سے قبل امیرین میں سے کسی ایک امیر کا انتقال ہو جائے تو اس کی جماعت اس کی جگہ کسی دوسرے آدمی کو اپنا امیر مقرر کر سکے گی۔
10۔ اس دوران فریقین میں مذاکرات ہوتے رہیں گے، ہتھیار اٹھانے پر پابندی ہو گی اور امن و امان کو برقرار رکھا جائے گا۔
11۔ اس معاہدہ کی شرائط کا اطلاق امیرین، حکمین اور فریقین پر یکساں ہو گا، اور اگر حکمین اس معاہدہ کی مخالفت کریں یا اپنی حدود سے تجاوز کریں تو امت ان کے فیصلہ سے لاتعلق ہو گی اور وہ ان کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان کی پابند نہیں ہو گی۔
12۔ فیصلہ آنے تک لوگوں کو ان کی جان، مال، اہل و عیال اور اولاد کے حوالے سے امن و امان حاصل ہو گا، اسلحہ رکھ دیا جائے گا، راستے پرامن رہیں گے اور فریقین میں غائب شخص پر بھی وہی حکم لاگو ہو گا جو حاضر پر ہو گا۔
13۔ حکمین شام اور عراق کے درمیان کسی مناسب جگہ پر ملاقات کر سکتے ہیں۔
14۔ ان کے پاس صرف وہی شخص آ سکے گا جسے وہ باہم مشاورت اور رضامندی سے وہاں آنے کی اجازت دیں گے۔
15۔ صلح کی یہ مدت رمضان المبارک کے اختتام تک جاری رہے گی، اگر حکمین اس سے قبل فیصلہ سنانا چاہیں تو انہیں اس کا حق ہو گا اور اگر وہ مدت کے اختتام تک اسے مؤخر کرنا چاہیں تو وہ ایسا بھی کر سکتے ہیں۔
16۔ اگر مقرر مدت میں فیصلہ نہ سنایا گیا تو فریقین کو ازسر نو جنگ شروع کرنے کا اختیار ہو گا۔
17۔ امت اس عہد کی پاس داری کرے گی اور جو کوئی بھی اس معاہدہ کے حوالے سے ظلم و الحاد اور خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا۔ اُمت متحدہ قوت کے طور سے اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہو گی۔
اس تحریری معاہدہ پر فریقین کے مندرجہ ذیل لوگوں کے دستخط تھے:
اہل عراق کے گواہ: حسن بن علی، حسین بن علی، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن جعفر بن ابو طالب، اشعث بن قیس کندی، اشتر بن حارث، سعید بن قیس ہمدانی، حصین بن حارث بن عبدالمطلب، طفیل بن حارث بن عبدالمطلب، ابو سعید بن ربیعہ انصاری، عبداللہ بن خباب بن الارت، سہل بن حنیف، ابو بشر بن عمر انصاری، عوف بن حارث بن عبدالمطلب، یزید بن عبداللہ اسلمی، عقبہ بن عامر جہنی، رافع بن خدیج انصاری، عمر بن حمق خزاعی، نعمان بن عجلان انصاری، حجر بن عدی کندی، یزید بن حجیہ نکری ، مالک بن کعب ہمدانی، ربیعہ بن شرحبیل، حارث بن مالک، حجر بن یزید اور علبہ بن حجیہ۔
اور اہل شام کے گواہ تھے: حبیب بن مسلمہ فہری، ابو الاعور سلمی، بشر بن ارطاۃ قرشی، معاویہ بن خدیج کندی، مخارق بن حارث ذبیدی، مسلم بن عمرو سکسکی، عبداللہ بن خالد بن ولید، حمزہ بن مالک، سبیع بن یزید حضرمی، عبداللہ بن عمرو بن العاص، علقمہ بن یزید حضرمی، یزید بن ابجر عبسی، مسروق بن حبلہ عکی، بسر بن یزید حمیری، عبداللہ بن عامر قرشی، عتبہ بن ابو سفیان، محمد بن ابو سفیان، محمد بن عمرو بن العاص، عمار بن احوص کلبی، مسعدہ بن عمرو عتبی، صباح بن جلہمہ حمیری، عبدالرحمن بن ذوالکلاع، تمامہ بن حوشب اور علقمہ بن حکم۔
یہ معاہدہ سترہ صفر 37 ھ کو بدھ کے دن لکھا گیا تھا۔
(ملاحظہ ہو: الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 537، 538۔ الاخبار الطوال للدینوری: صفحہ 196، 199)