تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان - دفاعِ اہلِ سنت |…

تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

واقعہ تحکیم کے بارے میں بہت زیادہ گفتگو کی گئی ہے، اسے مؤرخین اور اصحاب قلم نے ایسی ثابت شدہ حقیقت کے طور پر ہاتھوں ہاتھ لیا جس میں شک و شبہ کا شائبہ تک نہ ہو، اس حوالے سے کسی نے طویل و عریض بحث کی، کسی نے مختصر اور کسی نے اس سے مواعظ و عبر کا استنباط کیا مگر ان میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے تحقیق کی زحمت گوارا کی ہو گی۔ ابن العربی نے اگرچہ اجمالاً مگر بڑے احسن انداز سے اس کی تردید کی ہے، اس قصہ کے تمام متون نہ صرف یہ کہ علمی نقد کے معیار پر پورے نہیں اترتے بلکہ وہ سارے کے سارے متعدد وجوہ سے سراسر باطل ہیں۔

1۔ اس قصہ کی تمام اسناد ضعیف ہیں، اس کی سب سے قوی سند وہ ہے جسے عبدالرزاق اور طبری نے زہری سے مرسل طور پر ایسی سند سے نکالا جس کے راوی ثقہ ہیں۔ اس میں زہری کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اہل شام نے مصاحف کو کھولا اور عراقیوں کو ان کا فیصلہ قبول کرنے کی دعوت دی، جس سے اہل عراق خوف زدہ ہو گئے اور انہوں نے دو حاکموں کا فیصلہ قبول کرنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا، چنانچہ اہل عراق نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو اور اہل شام نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو اپنا حکم منتخب کر لیا، پھر انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ دومۃ الجندل کے مقام پر جمع ہوں گے اور اگر اس سال ایسا نہ ہو سکا تو وہ آئندہ سال اذرح کے مقام پر اکٹھے ہوں گے، پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس لوٹے تو حروریہ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ان سے بغاوت کر دی اور پھر ان سے جنگ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور ’’ لَا حُکْمَ اِلَّا لِلّٰہِ‘ کا نعرہ لگا دیا … الخ

(انساب الاشراف: جلد 1 صفحہ 382۔ تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 665، 666۔ البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 276، 277)

مگر یہ روایت مرسل ہے اس لیے کہ زہری موقع پر موجود نہیں تھے، اور جیسا کہ علماء نے قرار دیا ہے اس کی مرسل روایات کو دلیل کے طور سے پیش نہیں کیا جا سکتا۔

(مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 4042)

اس واقعہ کی ایک دوسری سند ہے جسے ابن عساکر نے اپنی سند سے زہری تک نکالا ہے اور یہ بھی مرسل ہے۔ اس کا ایک راوی ابوبکر بن سبرہ ہے جس کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ احادیث وضع کیا کرتا تھا۔

(تہذیب التہذیب: جلد 12 صفحہ 27 ، مرویات تاریخ الطبری: صفحہ 406)

نیز اس کی سند میں واقدی ہے اور وہ محدثین کے نزدیک متروک ہے۔

(مرویات تاریخ الطبری: صفحہ 406)

اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ اہل شام نے مصاحف کو بلند کیا اور کہنے لگے: ہم تمہیں کتاب اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور اس کے احکامات کے مطابق فیصلہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ مگر یہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی چال تھی، چنانچہ وہ صلح پر آمادہ ہو گئے اور اس کے لیے انہوں نے ایک معاہدہ تحریر کیا کہ وہ سال کے اختتام پر اذرح کے مقام پر ملاقات کریں گے، انہوں نے دو ایسے حاکموں کا تقرر کیا جو لوگوں کے معاملات کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے اور لوگ ان کے فیصلہ کو خوشی سے تسلیم کریں گے۔ اس کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور پھر لوگوں میں تقسیم پیدا ہو گئی، لہٰذا جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ واپس گئے تو بہت سارا اختلاف اور فساد بھی ساتھ لیتے گئے، آپ کے لشکر میں موجود آپ کے ساتھیوں نے ہی آپ کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور یہ کہتے ہوئے تحکیم کا انکار کر دیا کہ ’’لا حکم الا للہ‘‘ حکم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ جبکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ الفت و انس اور اتحاد و اتفاق کو ساتھ لے کر شام واپس لوٹے، سال کے اختتام پر شعبان 38 ھ میں حکمین اذرح کے مقام پر اکٹھے ہوئے اس دوران بہت سارے لوگ بھی ان کے پاس جمع ہو گئے، اندرونِ خانہ ان کا جس امر پر اتفاق ہوا تھا علانیہ طور سے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کر دی۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بات کا آغاز کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کو ان کے عہدوں سے معزول کر دیا مگر جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بات کی تو انہوں نے سیدنا علی کو تو معزول کر دیا مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو برقرار رکھا۔ اس طرح حکمین اور وہاں موجود لوگوں میں تفرقہ پیدا ہو گیا اور اہل شام نے ذو القعدہ 38 ھ میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔

(تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 53)

جہاں تک ابو مخنف کے طرق کا تعلق ہے تو وہ تمام کے تمام اس کی اور ابو خباب کلبی کی وجہ سے معلول ہیں۔ ابو مخنف لوط بن یحییٰ ضعیف اور غیر ثقہ ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 223)

نیز غالی قسم کا رافضی ہے، جبکہ ابو جناب کلبی کے بارے میں ابن سعد فرماتے ہیں کہ وہ ضعیف ہے۔

(مرویات ابی مخنف: صفحہ 407)

امام بخاریؒ اور ابو حاتمؒ فرماتے ہیں کہ یحییٰ القطان اسے ضعیف قرار دیتے تھے۔

(التاریخ الکبیر: جلد 4 صفحہ 267۔ الجرح و التعدیل: جلد 9 صفحہ 138)

امام دارمیؒ (التاریخ للدارمی: صفحہ 238۔ تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 223)

اور امام نسائیؒ بھی اسے ضعیف بتاتے ہیں۔

(الضعفاء و المتروکون: صفحہ 253)

یہ ہیں مشہور قصہ تحکیم کے طرق اور ان کی فنی حالت، کیا ان جیسی چیزوں سے کوئی دلیل قائم ہو سکتی ہے۔ یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم جیسی شخصیات کی تاریخ میں ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ جو کہ مثالی دور اور اسوہ کا زمانہ تھا؟ ان روایات کے ضعیف ہونے کے لیے ان کے متون میں اضطراب ہی کافی تھا۔ مگر جب اس کے ساتھ ان کی اسانید کا ضعف بھی شامل کر دیا جائے تو ان کی پھر کیا حالت ہو گی؟

(روایات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 408)

2۔ یہ قضیہ عقیدہ اور تشریع کے حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل ہے مگر اس کے باوجود یہ صحیح سند کے ساتھ منقول نہیں ہے اور یہ بات ناقابل تسلیم ہے کہ علماء اس کی اہمیت اور شدید ضرورت کے باوجود اس سے چشم پوشی اختیار کر لیں۔

(مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 408)

صفحہ 1 از 5