Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان

  علی محمد الصلابی

واقعہ تحکیم کے بارے میں بہت زیادہ گفتگو کی گئی ہے، اسے مؤرخین اور اصحاب قلم نے ایسی ثابت شدہ حقیقت کے طور پر ہاتھوں ہاتھ لیا جس میں شک و شبہ کا شائبہ تک نہ ہو، اس حوالے سے کسی نے طویل و عریض بحث کی، کسی نے مختصر اور کسی نے اس سے مواعظ و عبر کا استنباط کیا مگر ان میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے تحقیق کی زحمت گوارا کی ہو گی۔ ابن العربی نے اگرچہ اجمالاً مگر بڑے احسن انداز سے اس کی تردید کی ہے، اس قصہ کے تمام متون نہ صرف یہ کہ علمی نقد کے معیار پر پورے نہیں اترتے بلکہ وہ سارے کے سارے متعدد وجوہ سے سراسر باطل ہیں۔

1۔ اس قصہ کی تمام اسناد ضعیف ہیں، اس کی سب سے قوی سند وہ ہے جسے عبدالرزاق اور طبری نے زہری سے مرسل طور پر ایسی سند سے نکالا جس کے راوی ثقہ ہیں۔ اس میں زہری کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اہل شام نے مصاحف کو کھولا اور عراقیوں کو ان کا فیصلہ قبول کرنے کی دعوت دی، جس سے اہل عراق خوف زدہ ہو گئے اور انہوں نے دو حاکموں کا فیصلہ قبول کرنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا، چنانچہ اہل عراق نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو اور اہل شام نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو اپنا حکم منتخب کر لیا، پھر انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ دومۃ الجندل کے مقام پر جمع ہوں گے اور اگر اس سال ایسا نہ ہو سکا تو وہ آئندہ سال اذرح کے مقام پر اکٹھے ہوں گے، پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس لوٹے تو حروریہ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ان سے بغاوت کر دی اور پھر ان سے جنگ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور ’’ لَا حُکْمَ اِلَّا لِلّٰہِ‘ کا نعرہ لگا دیا … الخ

(انساب الاشراف: جلد 1 صفحہ 382۔ تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 665، 666۔ البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 276، 277)

مگر یہ روایت مرسل ہے اس لیے کہ زہری موقع پر موجود نہیں تھے، اور جیسا کہ علماء نے قرار دیا ہے اس کی مرسل روایات کو دلیل کے طور سے پیش نہیں کیا جا سکتا۔

(مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 4042)

اس واقعہ کی ایک دوسری سند ہے جسے ابن عساکر نے اپنی سند سے زہری تک نکالا ہے اور یہ بھی مرسل ہے۔ اس کا ایک راوی ابوبکر بن سبرہ ہے جس کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ احادیث وضع کیا کرتا تھا۔

(تہذیب التہذیب: جلد 12 صفحہ 27 ، مرویات تاریخ الطبری: صفحہ 406)

نیز اس کی سند میں واقدی ہے اور وہ محدثین کے نزدیک متروک ہے۔

(مرویات تاریخ الطبری: صفحہ 406)

اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ اہل شام نے مصاحف کو بلند کیا اور کہنے لگے: ہم تمہیں کتاب اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور اس کے احکامات کے مطابق فیصلہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ مگر یہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی چال تھی، چنانچہ وہ صلح پر آمادہ ہو گئے اور اس کے لیے انہوں نے ایک معاہدہ تحریر کیا کہ وہ سال کے اختتام پر اذرح کے مقام پر ملاقات کریں گے، انہوں نے دو ایسے حاکموں کا تقرر کیا جو لوگوں کے معاملات کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے اور لوگ ان کے فیصلہ کو خوشی سے تسلیم کریں گے۔ اس کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور پھر لوگوں میں تقسیم پیدا ہو گئی، لہٰذا جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ واپس گئے تو بہت سارا اختلاف اور فساد بھی ساتھ لیتے گئے، آپ کے لشکر میں موجود آپ کے ساتھیوں نے ہی آپ کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور یہ کہتے ہوئے تحکیم کا انکار کر دیا کہ ’’لا حکم الا للہ‘‘ حکم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ جبکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ الفت و انس اور اتحاد و اتفاق کو ساتھ لے کر شام واپس لوٹے، سال کے اختتام پر شعبان 38 ھ میں حکمین اذرح کے مقام پر اکٹھے ہوئے اس دوران بہت سارے لوگ بھی ان کے پاس جمع ہو گئے، اندرونِ خانہ ان کا جس امر پر اتفاق ہوا تھا علانیہ طور سے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کر دی۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بات کا آغاز کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کو ان کے عہدوں سے معزول کر دیا مگر جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بات کی تو انہوں نے سیدنا علی کو تو معزول کر دیا مگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو برقرار رکھا۔ اس طرح حکمین اور وہاں موجود لوگوں میں تفرقہ پیدا ہو گیا اور اہل شام نے ذو القعدہ 38 ھ میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔

(تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 53)

جہاں تک ابو مخنف کے طرق کا تعلق ہے تو وہ تمام کے تمام اس کی اور ابو خباب کلبی کی وجہ سے معلول ہیں۔ ابو مخنف لوط بن یحییٰ ضعیف اور غیر ثقہ ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 223)

نیز غالی قسم کا رافضی ہے، جبکہ ابو جناب کلبی کے بارے میں ابن سعد فرماتے ہیں کہ وہ ضعیف ہے۔

(مرویات ابی مخنف: صفحہ 407)

امام بخاریؒ اور ابو حاتمؒ فرماتے ہیں کہ یحییٰ القطان اسے ضعیف قرار دیتے تھے۔

(التاریخ الکبیر: جلد 4 صفحہ 267۔ الجرح و التعدیل: جلد 9 صفحہ 138)

امام دارمیؒ (التاریخ للدارمی: صفحہ 238۔ تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 223)

اور امام نسائیؒ بھی اسے ضعیف بتاتے ہیں۔

(الضعفاء و المتروکون: صفحہ 253)

یہ ہیں مشہور قصہ تحکیم کے طرق اور ان کی فنی حالت، کیا ان جیسی چیزوں سے کوئی دلیل قائم ہو سکتی ہے۔ یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم جیسی شخصیات کی تاریخ میں ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ جو کہ مثالی دور اور اسوہ کا زمانہ تھا؟ ان روایات کے ضعیف ہونے کے لیے ان کے متون میں اضطراب ہی کافی تھا۔ مگر جب اس کے ساتھ ان کی اسانید کا ضعف بھی شامل کر دیا جائے تو ان کی پھر کیا حالت ہو گی؟

(روایات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 408)

2۔ یہ قضیہ عقیدہ اور تشریع کے حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل ہے مگر اس کے باوجود یہ صحیح سند کے ساتھ منقول نہیں ہے اور یہ بات ناقابل تسلیم ہے کہ علماء اس کی اہمیت اور شدید ضرورت کے باوجود اس سے چشم پوشی اختیار کر لیں۔

(مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 408)

3۔ ایک ایسی روایت بھی وارد ہے جو اِن روایات کے یکسر برعکس ہے اس روایت کو بخاری نے اپنی تاریخ میں ثقہ راویوں کی سند کے ساتھ مختصراً اور ابن عساکرؒ نے طوالت کے ساتھ حصین بن منذر سے نقل کیا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور مجھ سے کہا: مجھ تک سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے کچھ باتیں پہنچی ہیں، مجھے ان سے پوچھ کر بتائیں کہ انہوں نے اس بارے میں کیا کہا؟ انہوں نے کہا: لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں، مگر واللہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں ایسا ہوا کچھ نہیں ہوا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب میں اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے تو میں نے ان سے کہا: اس معاملہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میری رائے میں یہ معاملہ ایسے لوگوں سے متعلق ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ ان سے راضی تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ اس معاملہ میں مجھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو کہاں رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اگر اللہ تم سے کوئی خدمت لینا چاہے گا تو تم یقیناً ایسا کر پاؤ گے لیکن اگر وہ تم سے بے نیاز رہا تو بسا اوقات اللہ کا امر تم سے مستغنیٰ رہا ہے۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 178، 180)

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی پرہیز گاری، ان کے محاسبہ نفس، سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی سیرت کو یاد کرنے اور ان کے بعد سر اٹھانے والے احداث و واقعات سے خوف کے بارے میں بہت سی باتیں روایت کی ہیں۔

سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھ سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: و اللہ! اگر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے لیے حلال ہونے کے باوجود اس مال کو ترک کیا تو وہ غلط نہیں تھے اور نہ وہ ناقص الرائے ہی تھے، ہمیں یہ وہم اور ضعف اپنی طرف سے ہی لاحق ہوا ہے۔

4۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان پر فضیلت حاصل ہے اور یہ کہ وہ ان سے زیادہ خلافت کے حق دار ہیں، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہ تو خلافت کا تنازع کیا اور نہ ان کی زندگی میں اپنے لیے اس کا ان سے مطالبہ کیا۔ یحییٰ بن سلیمان جعفی جید سند کے ساتھ

(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 86)

ابو مسلمؒ خولانی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ خلافت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے تنازع کرتے ہیں یا آپ ان جیسے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، مجھے بخوبی علم ہے کہ وہ مجھ سے افضل ہیں اور مجھ سے خلافت کے زیادہ حق دار ہیں مگر کیا تم نہیں جانتے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ازراہِ ظلم قتل کیا گیا، اور میں ان کا عم زاد اور ولی ہوں اور اس حوالے سے ان کے خون کا مطالبہ کرتا ہوں، تم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اگر وہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو ہمارے حوالے کر دیں تو میں ان کی اطاعت قبول کر لوں گا۔ اس پر وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے بات کی مگر انہوں نے قاتلوں کو  سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 140)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اصل تنازع یہ تھا، تحکیم کا فیصلہ اس متنازع فیہ قضیہ کو حل کرنے کے لیے کیا گیا تھا، خلیفہ کو منتخب کرنے یا اسے معزول کرنے کے لیے نہیں کیا گیا تھا۔

(مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 409)

اس حوالے سے ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے اس لیے جنگ کی کہ وہ سرزمین شام میں ان کے اوامر کے نفاذ سے انکاری تھے، حالانکہ وہ ایسے امام تھے جن کی اطاعت واجب تھی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی افضلیت سے انکار نہیں کیا اور نہ کبھی خلافت پر اپنا استحقاق جتلایا لیکن ان کے اجتہاد نے انہیں اس نتیجہ پر پہنچایا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے سے مقدم ہے، ان کی رائے یہ تھی کہ میں اپنی عمر اور طاقت کی وجہ سے سیدنا عثمانؓ کے خون کا مطالبہ کرنے اور اس بارے بات کرنے کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور حکم بن ابو العاص کی اولاد سے زیادہ حق دار ہوں، ان کا یہ موقف درست تھا ان سے غلطی صرف یہ سرزد ہوئی کہ انہوں نے بیعت پر قصاص کو مقدم رکھا۔

(الفصل فی الملل و الاہواء و النحل: جلد 4 صفحہ 160)

طرفین میں اختلاف کی اس حقیقی تصویر کو سمجھنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ جن روایات میں یہ بتایا گیا ہے کہ حکمین کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین اختلاف کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا وہ یقیناً غلط ہیں۔ ان کا اختلاف نہ تو خلافت کے بارے میں تھا اور نہ اس بارے کہ ان دونوں میں سے خلافت کا زیادہ حق دار کون ہے؟ ان کا اختلاف صرف قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے کے بارے میں تھا اور اس کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اگر حکمین نے اس اساسی قضیہ کو پس پشت ڈال کر خلافت کے بارے میں فیصلہ کیا جیسا کہ تشہیر کردہ روایات میں بتایا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ نہ تو اصل نزاع کو سمجھ سکے اور نہ دعویٰ کے موضوع کا احاطہ کر سکے اور یہ بہت ہی بعید ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 2 صفحہ 225)

5۔ جن شروط کا خلیفہ میں پایا جانا واجب ہے، مثلاً عدالت، علم، تدبیر مصالح اور اس کا قریشی ہونا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان تمام پر پورے اترتے تھے، تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی بیعت منعقد ہوئی یا نہیں؟ اگر منعقد ہو گئی اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے اس لیے کہ انصار و مہاجرین میں سے اہل حل و عقد نے ان سے بیعت کی تھی اور اس کا ان کے مدمقابل بھی اقرار کرتے تھے تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گزشتہ قول اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جب امام امامت کی صفات سے عاری نہ ہو اور پھر اس سے عقد امامت کرنے والے اسے فسخ کرنا چاہیں تو ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انہیں اس بات کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، اس لیے کہ عقد امام لازم ہے اور بغیر کسی حقیقی سبب کے اس سے علیحدگی کا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ جب تک امامت و خلافت کے ساتھ قطعی لزوم نہ اپنایا جائے اس وقت تک وہ نہ تو منتظم ہوتی ہے اور نہ اس سے اصل مقصود حاصل ہوتا ہے۔ اگر امام کی قسمت کا فیصلہ رعایا کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو پھر نہ تو اس کی کوئی اطاعت کرے گا اور نہ اسے رعایا پر کوئی قدرت ہی حاصل ہو گی اور اس طرح منصب امام کا کوئی مطلب ہی نہیں رہے گا۔

(غیاث الامم: صفحہ 128۔ مرویات ابی مخنف: 410)

دریں حالات مسئلہ کی اصل صورت حال وہ نہیں ہے جو روایات بتاتی ہیں کہ جو کوئی بھی امام سے راضی نہ رہے وہ اسے الگ کر دے، امامت کی گرہ لگانے والا ہی اسے کھول سکتا ہے، اور وہ ہیں اہل حل و عقد اور اگر امام شروط امامت پر پورا اترنے سے قاصر رہ جائے تو کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوئی ایسا کام کیا؟ اور کیا اہل حل و عقد نے خلیفہ راشد کو خلافت سے علیحدہ کرنے پر اتفاق کیا یہاں تک کہ آگے بڑھ کر یہ کہا جائے کہ حکمین نے اس پر اتفاق کیا تھا؟ تو ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ ان کی وفات تک ان سے کسی ایسی چیز کا صدور نہیں ہوا جس سے ان کی بیعت کا نقض لازم آتا ہو۔ ان سے آخری دم تک صرف عدل و بر اور تقویٰ و خیر ہی کا ظہور ہوا۔

(الفصل فی الملل و الاہواء و النحل: جلد 4 صفحہ 238)

6۔ جس زمانہ میں واقعہ تحکیم متحقق ہوا وہ فتنہ کا زمانہ تھا اور خلیفہ کے باوجود مسلمانوں کی حالت اضطراب کا شکار تھی ایسے میں اگر خلیفہ کو معزول کر دیا جاتا تو ان کی حالت کا سدھار کس طرح ممکن تھا؟ یقیناً اس سے حالات مزید بگڑ جاتے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے اصحاب دانش و بینش لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس بات کی طرف کوئی پیش قدمی کریں گے۔ اس سے اس رائے کا عقلاً اور نقلاً ہر دو طرح سے بطلان ہوتا ہے۔

7۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کے چھ ارکان میں خلافت کو منحصر کر دیا تھا اور جسے انصار و مہاجرین سبھی نے پسند بھی کیا یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ جب تک ان میں سے ایک شخص بھی باقی رہے گا خلافت اسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس نہیں جائے گی، جبکہ ان میں سے تحکیم تک صرف سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہی باقی تھے مگر انہیں ولایت و امارت میں کوئی دلچسپی نہ تھی اور وہ اس سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔ جبکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد ان چھ میں سے افضل ترین سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ تھے اور وہی منصب خلافت پر فائز تھے پھر امر خلافت ان کے علاوہ اور کس کے پاس منتقل ہو سکتا تھا۔

(مرویات ابی محنف: صفحہ 411)

8۔ روایات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ اہل شام نے تحکیم کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی تھی۔ اس موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل شام کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ سے بیعت کرنے کا کیا جواز تھا؟ اگر ایسا تحکیم کی وجہ سے ہوا تو حکمین کا اس پر اتفاق نہیں تھا اور اس کا کوئی جواز بھی نہیں تھا۔ ابن عساکرؒ ثقہ راویوں کی سند سے سعید بن عبدالعزیز تنوخی (سعید بن عبدالعزیز تنوخی ثقہ امام ہیں۔ التقریب) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: عراق میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا دعویٰ تھا کہ وہ امیر المؤمنین ہیں جبکہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شام میں امارت کا دعویٰ کرتے تھے پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے شام میں امیر المؤمنین ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 76) 

یہ نص اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہی خلافت کی بیعت لی تھی۔ طبری کا بھی یہی مذہب ہے، وہ 40 ھ کے واقعات ذکر کرکے آخر میں فرماتے ہیں: اس سال ایلیاء کے مقام پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت کی بیعت لی گئی۔

(ایضاً)

اس پر ابن کثیرؒ نے یہ تبصرہ کیا ہے: یعنی جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو اہل شام نے امیر المؤمنین کی حیثیت سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی اس لیے کہ ان کے نزدیک اب اس سے تنازع کرنے والا باقی نہیں رہا تھا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 16)

اہل شام اس امر سے بخوبی آگاہ تھے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہم پلہ نہیں ہیں اس لیے کہ ان کا علم و فضل، دین و ورع، شجاعت و بسالت، ان کا سابق الاسلام ہونا اور کئی دیگر فضائل سے متصف ہونا ان کے نزدیک معروف اور مسلم امر تھا۔ جیسا کہ سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان وغیرہم رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب سے بھی وہ بخوبی آگاہ تھے۔

(الفتاوی: جلد 35 صفحہ 73)

علاوہ ازیں شرعی نصوص بھی پہلے خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے خلیفہ کی بیعت سے منع کرتی ہیں، صحیح مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب دو خلفاء کی بیعت کی جا رہی ہو تو ان میں سے آخری کو قتل کر دو۔‘‘

(صحیح مسلم: جلد 3 صفحہ 1480)

اس معنیٰ میں بہت سی نصوص وارد ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف سے اس کی مخالفت کرنا امر محال ہے۔

 (سنن بیہقی: جلد 8 صفحہ 144)

9۔ صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ لوگوں کی صورت حال تمہارے سامنے ہی ہے۔ مجھے تو کچھ بھی نہیں دیا گیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ تم ان کے پاس جاؤ وہ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہاری عدم موجودگی میں تفرقہ بازی کا شکار ہو جائیں گے۔ میں ان کے اصرار پر وہاں چلا گیا۔ جب لوگ منتشر ہو گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس بارے میں جو کوئی بات کرنا چاہتا ہے وہ ہمارے سامنے آئے۔ ہم اس امر کے اس سے بھی زیادہ حق دار ہیں اور اس کے والد سے بھی۔ یہ سن کر حبیب بن مسلمہؓ کہنے لگے: آپ نے انہیں کوئی جواب کیوں نہ دیا؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: میں نے یہ کہنا تو چاہا تھا کہ تم سے زیادہ اس کا حق دار وہ ہے جس نے اسلام کے لیے تم سے اور تمہارے باپ سے جنگ کی، مگر میں ایسی بات کہنے سے ڈر گیا جس سے جمعیت میں تفرقہ پیدا ہو اور خون بہایا جائے۔ پھر میں نے ان نعمتوں کو یاد کیا جو اللہ نے جنتوں میں تیار کر رکھی ہیں۔ اس پر حبیب نے کہا: تم محفوظ بھی رہے اور معصوم بھی۔

(بخاری: جلد 5 صفحہ 48 )

اس حدیث سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خلافت کے لیے بیعت لینا سمجھا تو جا سکتا ہے مگر اس میں اس کی تصریح نہیں ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں: یہ بات اس اجتماع سے متعلق ہے جس میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی تھی۔ ابن جوزیؒ فرماتے ہیں: یہ ان دنوں کی بات ہے جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا ولی عہد بنانے کا ارادہ کیا، جبکہ ابن حجرؒ کی رائے میں یہ واقعہ تحکیم کے دنوں کا ہے۔

(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 466)

دلالت نص پہلے دو اقوال پر زیادہ قوی ہے۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول: ’’میں ایسی بات کرنے سے ڈرا جس سے جمعیت میں تفرقہ بازی ہو۔‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اتفاق تھا جبکہ تحکیم کے ایام فرقہ بندی اور اختلاف کے ایام تھے نہ کہ جمعیت اور میل ملاپ کے۔

(مرویات ابی مخنف)

10۔ قرار داد تحکیم کی حقیقت: اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں اختلاف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کے بارے میں تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نہ تو خلافت کے مدعی تھے اور نہ وہ خلافت کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق سے منکر تھے، وہ ان کی بیعت اور شام میں ان کے اوامر و احکام کی تنفیذ سے اس لیے رکے ہوئے تھے کہ قانونی اعتبار سے نہیں بلکہ زمینی حقائق کی رو سے ان کا شام پر تسلط تھا، وہ تقریباً بیس برس تک شام کے والی رہے اور اس مدت امارت کے دوران لوگ ان کے اطاعت گزار رہے اور وہ اس سے مستفید بھی ہو رہے تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 2 صفحہ 234 )

ابن دحیہ کلبی اپنی کتاب ’’اعلام النصر المبین فی المفاضلۃ بین اہل الصفین‘‘ میں رقم طراز ہیں: ابوبکر محمد بن طیب اشعری باقلانی ’’مناقب الائمۃ‘‘ میں فرماتے ہیں: علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی معزولی پر حکمین کا اتفاق نہیں ہوا تھا، اور اگر ان کا اس پر اتفاق ہو بھی جاتا تو پھر بھی معاہدہ کی رو سے نہ تو وہ اپنے منصب سے معزول ہوتے اور نہ معاویہ ہی، الا یہ کہ وہ کتاب و سنت سے ایسے دلائل پیش کرتے جن کی رو سے ان کی معزولی واجب قرار پاتی اور اگر وہ ان سے انحراف یا تجاوز کرتے تو پھر ان کا حکم کسی کے لیے بھی واجب التسلیم نہ ہوتا؛ جبکہ کتاب و سنت سے ان کی امامت کا اثبات ہوتا ہے، اور وہ ان کی عدالت و امامت صدق و وفا، سبقت و جہاد اور دیگر فضائل کے شاہد ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار تھے اور وہ حلم و حوصلہ اور معرفت احکام میں خصوصی مقام رکھتے تھے، لہٰذا سیدنا علیؓ ہی منصب امامت کے حق دار اور خلافت کی ذمہ داریاں نبھانے کی اہلیت سے بہرہ مند تھے۔

(صفحہ 177)

11۔ موتمر کے انعقاد کی جگہ: قرارداد کی رو سے حکمین کو ماہ رمضان المبارک 37 ھ میں عراق اور شام کے درمیان واقعہ دومۃ الجندل (دومۃ الجندل: جزیرہ عربیہ کے شمال میں صوف شہر کے مغرب میں واقع ہے) کے مقام پر جمع ہونا تھا، ثقہ روایات میں اس جگہ کا یہی نام بتایا گیا ہے جبکہ ان سے کم درجہ کی دوسری روایات میں اس کا نام اذرح وارد ہوا ہے۔

(اذرح: اطراف شام میں ایک شہر کا نام) جو کہ دومۃ الجندل کے قریب واقع ہے حکمین کا اجتماع بغیر کسی رکاوٹ کے طے شدہ جگہ اور وقت پر منعقد ہوا۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 191، 192)

حکمین کا اجتماع دومۃ الجندل کے مقام پر ہوا، جبکہ یاقوت حموی بڑے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ اجتماع اذرح کے مقام پر انعقاد پذیر ہوا، اس کے لیے انہوں نے جن بعض روایات سے استدلال کیا ہے انہیں ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے اس کے لیے بعض اشعار اور خاص طور سے ذو الرمۃ (ذو الرمۃ: غیلان بن عقبۃ: متوفی 117 ھ، سیر اعلام النبلاء: جلد 5 صفحہ 267 کے ان اشعار سے استشہاد کیا ہے جن میں بلال بن ابو بردہ کی مدح کی گئی ہے۔

(بلال بن ابو بردۃ، عامر بن ابو موسیٰ الاشعریؓ تہذیب تاریخ دمشق: جلد 3 صفحہ 321)

اور وہ شعر ہے:

فَشدَّ اِصَارُ الدیْنِ أیام أذرح و ردّ حروبًا قد لقحن الی عقر

(دیوان ذی الرمۃ: صفحہ 361، 362 نقلا عن خلافۃ علی: 272)

12۔ کیا حکمین کے اجتماع میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے؟

حکمین مقررہ جگہ پر اکٹھے ہوئے، اس جگہ فریقین کی طرف سے سیکڑوں لوگ بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک وفد اہل شام کی نمائندگی کر رہا تھا اور دوسرا اہل عراق کی۔

حکمین نے اس موقع پر قریش کے سرکردہ اور معزز لوگوں کو بھی مشورہ کے لیے طلب کیا تھا، کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے متعدد لوگ اس اجتماع میں شریک نہیں ہوئے تھے اس لیے کہ انہوں نے آغاز سے ہی قتل و قتال سے علیحدگی اختیار کر رکھی تھی جن میں سے خاص طور سے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قابل ذکر ہیں۔ وہ نہ تو تحکیم کے موقع پر حاضر ہوئے اور نہ ہی کبھی اس کا ارادہ کیا۔

(خلافۃ علی بن ابی طالب: عبدالحمید صفحہ 272)

عامر بن سعدؓ سے مروی ہے کہ ان کا بھائی عمر بن سعدؓ اپنے باپ سعد کے پاس گیا۔ اس وقت وہ مدینہ سے باہر اپنی بکریوں میں موجود تھے جب سعد رضی اللہ عنہ نے اسے آتے دیکھا تو کہنے لگے: میں اس قافلہ کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، جب وہ ان کے پاس گئے تو کہنے لگے: ابا جان! کیا آپ اپنی بکریوں میں ہی بادیہ نشین بن کر رہنے پر راضی ہو گئے ہیں جبکہ لوگ مدینہ میں حکومت و امارت کے لیے جھگڑ رہے ہیں؟ اس پر سعد رضی اللہ عنہ عمر کے سینے پر ہاتھ مار کر کہنے لگے: خاموش ہو جاؤ، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ’’اللہ تعالیٰ متقی، غنی، چھپ کر رہنے والے بندے سے محبت کرتا ہے۔

 (المسند: جلد 1 صفحہ 168، احمد شاکر فرماتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے: (جلد 3 صفحہ 26)۔ خلافۃ علی بن ابی طالب: از سلمی: 107)