تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان - دفاعِ اہلِ سنت |…

تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

9۔ صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ لوگوں کی صورت حال تمہارے سامنے ہی ہے۔ مجھے تو کچھ بھی نہیں دیا گیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ تم ان کے پاس جاؤ وہ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہاری عدم موجودگی میں تفرقہ بازی کا شکار ہو جائیں گے۔ میں ان کے اصرار پر وہاں چلا گیا۔ جب لوگ منتشر ہو گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس بارے میں جو کوئی بات کرنا چاہتا ہے وہ ہمارے سامنے آئے۔ ہم اس امر کے اس سے بھی زیادہ حق دار ہیں اور اس کے والد سے بھی۔ یہ سن کر حبیب بن مسلمہؓ کہنے لگے: آپ نے انہیں کوئی جواب کیوں نہ دیا؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: میں نے یہ کہنا تو چاہا تھا کہ تم سے زیادہ اس کا حق دار وہ ہے جس نے اسلام کے لیے تم سے اور تمہارے باپ سے جنگ کی، مگر میں ایسی بات کہنے سے ڈر گیا جس سے جمعیت میں تفرقہ پیدا ہو اور خون بہایا جائے۔ پھر میں نے ان نعمتوں کو یاد کیا جو اللہ نے جنتوں میں تیار کر رکھی ہیں۔ اس پر حبیب نے کہا: تم محفوظ بھی رہے اور معصوم بھی۔

(بخاری: جلد 5 صفحہ 48 )

اس حدیث سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خلافت کے لیے بیعت لینا سمجھا تو جا سکتا ہے مگر اس میں اس کی تصریح نہیں ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں: یہ بات اس اجتماع سے متعلق ہے جس میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی تھی۔ ابن جوزیؒ فرماتے ہیں: یہ ان دنوں کی بات ہے جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا ولی عہد بنانے کا ارادہ کیا، جبکہ ابن حجرؒ کی رائے میں یہ واقعہ تحکیم کے دنوں کا ہے۔

(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 466)

دلالت نص پہلے دو اقوال پر زیادہ قوی ہے۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول: ’’میں ایسی بات کرنے سے ڈرا جس سے جمعیت میں تفرقہ بازی ہو۔‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اتفاق تھا جبکہ تحکیم کے ایام فرقہ بندی اور اختلاف کے ایام تھے نہ کہ جمعیت اور میل ملاپ کے۔

(مرویات ابی مخنف)

10۔ قرار داد تحکیم کی حقیقت: اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں اختلاف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کے بارے میں تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نہ تو خلافت کے مدعی تھے اور نہ وہ خلافت کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق سے منکر تھے، وہ ان کی بیعت اور شام میں ان کے اوامر و احکام کی تنفیذ سے اس لیے رکے ہوئے تھے کہ قانونی اعتبار سے نہیں بلکہ زمینی حقائق کی رو سے ان کا شام پر تسلط تھا، وہ تقریباً بیس برس تک شام کے والی رہے اور اس مدت امارت کے دوران لوگ ان کے اطاعت گزار رہے اور وہ اس سے مستفید بھی ہو رہے تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 2 صفحہ 234 )

ابن دحیہ کلبی اپنی کتاب ’’اعلام النصر المبین فی المفاضلۃ بین اہل الصفین‘‘ میں رقم طراز ہیں: ابوبکر محمد بن طیب اشعری باقلانی ’’مناقب الائمۃ‘‘ میں فرماتے ہیں: علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی معزولی پر حکمین کا اتفاق نہیں ہوا تھا، اور اگر ان کا اس پر اتفاق ہو بھی جاتا تو پھر بھی معاہدہ کی رو سے نہ تو وہ اپنے منصب سے معزول ہوتے اور نہ معاویہ ہی، الا یہ کہ وہ کتاب و سنت سے ایسے دلائل پیش کرتے جن کی رو سے ان کی معزولی واجب قرار پاتی اور اگر وہ ان سے انحراف یا تجاوز کرتے تو پھر ان کا حکم کسی کے لیے بھی واجب التسلیم نہ ہوتا؛ جبکہ کتاب و سنت سے ان کی امامت کا اثبات ہوتا ہے، اور وہ ان کی عدالت و امامت صدق و وفا، سبقت و جہاد اور دیگر فضائل کے شاہد ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار تھے اور وہ حلم و حوصلہ اور معرفت احکام میں خصوصی مقام رکھتے تھے، لہٰذا سیدنا علیؓ ہی منصب امامت کے حق دار اور خلافت کی ذمہ داریاں نبھانے کی اہلیت سے بہرہ مند تھے۔

(صفحہ 177)

11۔ موتمر کے انعقاد کی جگہ: قرارداد کی رو سے حکمین کو ماہ رمضان المبارک 37 ھ میں عراق اور شام کے درمیان واقعہ دومۃ الجندل (دومۃ الجندل: جزیرہ عربیہ کے شمال میں صوف شہر کے مغرب میں واقع ہے) کے مقام پر جمع ہونا تھا، ثقہ روایات میں اس جگہ کا یہی نام بتایا گیا ہے جبکہ ان سے کم درجہ کی دوسری روایات میں اس کا نام اذرح وارد ہوا ہے۔

(اذرح: اطراف شام میں ایک شہر کا نام) جو کہ دومۃ الجندل کے قریب واقع ہے حکمین کا اجتماع بغیر کسی رکاوٹ کے طے شدہ جگہ اور وقت پر منعقد ہوا۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 191، 192)

حکمین کا اجتماع دومۃ الجندل کے مقام پر ہوا، جبکہ یاقوت حموی بڑے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ اجتماع اذرح کے مقام پر انعقاد پذیر ہوا، اس کے لیے انہوں نے جن بعض روایات سے استدلال کیا ہے انہیں ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے اس کے لیے بعض اشعار اور خاص طور سے ذو الرمۃ (ذو الرمۃ: غیلان بن عقبۃ: متوفی 117 ھ، سیر اعلام النبلاء: جلد 5 صفحہ 267 کے ان اشعار سے استشہاد کیا ہے جن میں بلال بن ابو بردہ کی مدح کی گئی ہے۔

(بلال بن ابو بردۃ، عامر بن ابو موسیٰ الاشعریؓ تہذیب تاریخ دمشق: جلد 3 صفحہ 321)

اور وہ شعر ہے:

فَشدَّ اِصَارُ الدیْنِ أیام أذرح و ردّ حروبًا قد لقحن الی عقر

(دیوان ذی الرمۃ: صفحہ 361، 362 نقلا عن خلافۃ علی: 272)

12۔ کیا حکمین کے اجتماع میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے؟

حکمین مقررہ جگہ پر اکٹھے ہوئے، اس جگہ فریقین کی طرف سے سیکڑوں لوگ بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک وفد اہل شام کی نمائندگی کر رہا تھا اور دوسرا اہل عراق کی۔

حکمین نے اس موقع پر قریش کے سرکردہ اور معزز لوگوں کو بھی مشورہ کے لیے طلب کیا تھا، کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے متعدد لوگ اس اجتماع میں شریک نہیں ہوئے تھے اس لیے کہ انہوں نے آغاز سے ہی قتل و قتال سے علیحدگی اختیار کر رکھی تھی جن میں سے خاص طور سے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قابل ذکر ہیں۔ وہ نہ تو تحکیم کے موقع پر حاضر ہوئے اور نہ ہی کبھی اس کا ارادہ کیا۔

صفحہ 4 از 5