ان جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف - دفاعِ اہلِ سنت |…

ان جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

6۔ ابو عبداللہ بن بطہؒ اہل السنہ و الجماعہ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہمیں مشاجرات صحابہ کرامؓ کے بارے میں لب کشائی سے باز رہنا چاہیے، وہ ہر میدان شہادت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، سب لوگوں سے بڑھ کر فضل و شرف حاصل کیا، اللہ نے خود ان کی مغفرت فرما دی اور تمہیں ان کے لیے مغفرت طلب کرنے اور ان سے محبت کر کے اپنا قرب حاصل کرنے کا حکم دیا اور اسے اپنے نبی مکرم کی زبان مبارک سے تم پر فرض قرار دیا، وہ بخوبی جانتا تھا کہ آگے چل کر ان سے کیا کچھ سرزد ہونا ہے، انہیں کل کائنات پر اس لیے فضیلت دی گئی کہ ان کے عمد و خطا کو معاف کر دیا گیا اور ان کے باہمی مشاجرات کی مغفرت فرما دی گئی۔

(الشرح و الابانۃ علی اصول السنۃ و الدیانۃ: صفحہ 268)

7۔ ابوبکر بن الطیب باقلانیؒ فرماتے ہیں: ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمیں مشاجرات صحابہ کرامؓ کے بارے میں لب کشائی نہیں کرنی، بلکہ ان سب کے لیے رحمت کی دعا اور مدح و ثناء کرنی ہے۔ ہم ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے رضوان، امان، فوز و فلاح اور جنتوں کے خواستگار ہیں، ہمارا اعتقاد ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو کچھ بھی کیا درست کیا اور ان کے لیے دوہرا اجر ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جس چیز کا بھی صدور ہوا وہ ان کے اجتہاد کا نتیجہ تھا جس کے لیے وہ اجر کے مستحق ہیں وہ نہ تو فسق و فجور کے مرتکب ہوئے اور نہ کسی بدعت کے۔ اس کی دلیل یہ ارشاد باری ہے:

لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا ۞ (سورۃ الفتح آیت 18)

ترجمہ: یقیناً اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا۔ اس لیے اس نے ان پر سکینت اتار دی، اور ان کو انعام میں ایک قریبی فتح عطا فرما دی۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد: ’’جب حاکم اجتہاد کرے اور درست نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور جب وہ اجتہاد کرے اور اس سے غلطی ہو جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔‘‘ اگر ہمارے وقت کے حاکم کو اس کے درست اجتہاد کی وجہ سے دوہرا اجر مل سکتا ہے تو آپ کا ان لوگوں کے اجتہاد کے بارے میں کیا خیال ہے جن سے اللہ راضی ہو چکا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے، اس قول کی صحت کی دلیل سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے: ’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا۔‘‘

(بخاری: کتاب الفتن: رقم: 7109)

اس ارشاد گرامی میں دونوں جماعتوں کے لیے عظمت کا اثبات کیا گیا اور دونوں کے لیے صحت اسلام کا حکم لگایا گیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے سینوں سے رنجش و کینہ نکال دینے کا وعدہ کر رکھا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

وَنَزَعۡنَا مَا فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ۞ (سورۃ الحجر آیت 47)

ترجمہ: ان کے سینوں میں جو کچھ رنجش ہوگی، اسے ہم نکال پھینکیں گے، وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے اونچی نشستوں پر بیٹھے ہوں گے۔

اور آگے چل کر فرماتے ہیں: ان کے مشاجرات و تنازعات کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا واجب ہے۔

(الانصاف فیما یجب اعتقادہ و لا یجوز الجہل بہ: صفحہ 67، 69)

8۔ اس حوالے سے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل سنت مشاجرات صحابہ کرام کے بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی برائیوں کے بارے میں مروی آثار میں سے کچھ تو محض جھوٹے ہیں اور بعض میں کمی بیشی کر کے انہیں ان کے اصل مقصد سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جبکہ صحیح طور سے ثابت شدہ امور میں وہ معذور ہیں، یا تو وہ صائب فیصلہ پر پہنچنے والے مجتہد ہیں یا مبنی پر خطا فیصلہ کرنے والے اور دونوں صورتوں میں اجر و ثواب کے مستحق۔

(العقیدہ الواسطیہ مع شرح از محمد خلیل ہراس: صفحہ 173)

9۔ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رونما ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تنازعات و مشاجرات میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی حیثیت یہ ہے کہ ان میں سے کچھ تو غیر ارادی طور سے واقع ہوئے جیسا کہ جنگ جمل کا واقعہ اور کچھ اجتہاد کے نتیجہ میں، جیسا کہ جنگ صفین اور اجتہاد میں خطاء کا امکان بھی ہوتا ہے اور صواب کا بھی، لیکن غلطی کرنے والا مجتہد معذور بھی ہوتا ہے اور عند اللہ ماجور بھی۔ جبکہ صحیح نتیجہ پر پہنچنے والا مجتہد دوہرے اجر کا مستحق ہوتا ہے۔

(الباعث الحیثیت: صفحہ 182)

10۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ان سے صادر ہونے والے بعض امور کی وجہ سے طعن و تشنیع کرنا منع ہے، اس لیے کہ انہوں نے ان جنگوں میں اجتہاد کی بنیاد پر قتال کیا تھا، بلکہ یہ بھی ثابت ہے کہ ان میں سے غلطی کرنے والے کو ایک اجر اور صحیح فیصلہ کرنے والے کو دوہرا اجر دیا جائے گا۔

(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 634۔ عقیدہ اہل السنۃ: جلد 2 صفحہ 740)

الغرض اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سر اٹھانے والے فتنوں کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا واجب ہے، نیز ان کے لیے رحمت کی دعا کرنا، ان کے فضائل کا خیال رکھنا، ان کے سابق الاسلام ہونے کا اعتراف کرنا اور ان کے محاسن کو عام کرنا بھی ضروری ہے۔ رضی اللّٰہ عنہم و ارضاہم۔

(عقیدۃ اہل السنۃ: جلد 2 صفحہ 740)



صفحہ 3 از 3