امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) شہادت امام حسن رضی اللہ عنہ سن کر خوش ہوا اور سجدہ شکر بجا لایا. (ربیع الابرار، و نصوص الاخیار)
مولانا ابوالحسن ہزارویامیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) شہادت امام حسن رضی اللہ عنہ سن کر خوش ہوا اور سجدہ شکر بجا لایا. (ربیع الابرار، و نصوص الاخیار)
الجواب اہلسنّت
1: بے شک مذکورہ کتاب میں یہ عبارت موجود ہے جس سے ان حضرات کا آپس میں اس حد تک اختلاف نظر آتا ہے کہ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر خوشی کا اظہار جو انتہائی درجہ کی بُری حرکت ہے وہ معلوم ہوتی ھے مگر یہ سب کچھ کہاں سے آیا ہے۔ علامہ زمحشری معترلی شیعہ کی یہ کرم فرمائیاں ہیں جو کرتوت شیعہ کرتے ہیں۔ اسے اہلسنت کے کھاتے ڈالنے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے جو کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔
یاد رہے یہ کتاب علامہ زمحشری ہی ہے اور زمحشری کے بارے میں ارباب علم کا فرمانا یہ ہے کہ یہ شخص معتزلی شیعہ ہے محض دھوکہ دینے کے لئے اپنے ہم مذہب کی کتاب کو اہلسنت پر الزام دھرنے کیلئے اٹھا لائے ہیں ورنہ زمحشری کا شیعہ ہونا تحقیقی دستاویز والوں سے بھی مخفی نہیں ہے۔ نیز اخبار الطوال کا مواد بھی اسی مذکورہ کتاب سے حاصل شدہ ہے۔
2: ان دونوں کتابوں میں درج روایات کے راوی بھی شیعہ ہیں اور شیعہ کی روایت اہلسنّت کے ہاں مقبول نہیں ہے۔
3: درست بات یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر ملی تو آپ افسردہ ہوئے۔ قدرتی طور پر اس وقت حضرت عبد الله ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی وہاں پر موجود تھے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس سے تعزیت کی اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی بہت اچھے انداز میں اس کا جواب دیا۔ تحقیقی دستاویز کے صفحہ 1108 سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔