Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ صفین کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صلاحیتوں کے انداز تبدیل ہو گئے

  علی محمد الصلابی

معرکہ صفین کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صلاحیتوں کے انداز میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر سے خوارج نے علیحدہ ہو کر ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو وہ ان کے ساتھ جنگوں میں الجھ گئے، جبکہ تحکیم کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طاقت میں مزید اضافہ ہو گیا، وہ سری اور اعلانیہ طور سے مختلف وسائل کو استعمال میں لاتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کمزور کرنے کی کوششیں کرنے لگے اور انہوں نے ان کے لشکر میں پیدا ہونے والی پھوٹ اور اختلاف سے بھرپور فائدہ اٹھایا، چنانچہ انہوں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک لشکر مصر روانہ کیا اور انہوں نے اس پر تسلط جماتے ہوئے اسے اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ وہ متعدد امور جو اُن کے لیے مددگار ثابت ہوئے ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

1: امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ خوارج کے ساتھ جنگ میں الجھ گئے جس کی وجہ سے ان کی پوزیشن کمزور ہو گئی۔

2: مصر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عامل محمد بن ابوبکرؓ اپنے پیش رو قیس بن سعد انصاریؓ کی طرح زیرک و ہوشیار نہیں تھے۔ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ جنگ میں کود پڑے اور ان کے ساتھ سابقہ والی مصر کی طرح فہم و فراست پر مبنی رویہ اختیار نہ کر سکے جس کی وجہ سے وہ شکست سے دوچار ہو گئے۔

3: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مصر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کرنے والوں کی رائے سے اتفاق کر لیا اور یہ چیز ان کے لیے مصر پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ممد و معاون ثابت ہوئی۔

(خلافۃ علی: از عبدالحمید: صفحہ 351۔ صحیح سند کے ساتھ)

4: مصر امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے مرکز سے دور جب کہ شام سے قریب تھا جس کا فائدہ بھی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہوا۔

5: مصر کا جغرافیائی محل وقوع چونکہ مصر سیناء کے راستے سے سرزمین شام سے متصل ہے، لہٰذا اس نے سیدنا امیر معاویہؓ کو بہت بڑی افرادی اور اقتصادی قوت فراہم کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کئی فوجی لشکر جزیرہ عربیہ کے شمال، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور یمن کی طرف بھیجے مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے جانبازوں نے آگے بڑھ کر ان کا راستہ روک دیا اور پھر انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

(ولاۃ مصر: صفحہ 45، 46)

سیدنا امیر معاویہؓ نے مختلف قبائل کے سرکردہ لوگوں کے ساتھ سیدنا علیؓ کے عمال کو بھی اپنی حمایت کے لیے آمادہ کر لیا، اسی سلسلہ میں انہوں نے مصر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عامل قیس بن سعدؓ کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی مگر وہ اس میں تو کامیاب نہ ہو سکے مگر انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے مشیروں کی نظروں میں اسے مشکوک ضرور بنا دیا جس کی وجہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ان کے عہدہ سے ہٹا دیا۔

(الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 525، 526)

جس سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا، اسی طرح انہوں نے فارس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عامل زیاد بن ابیہ کو بھی منحرف کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ اس میں بھی ناکام رہے۔

(الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 5)

مختلف سرکردہ لوگوں کی وفاداریاں حاصل کرنے کی کوششوں سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ فائدہ ضرور ہوا کہ وہ بعض اعیان و ولاۃ پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ایک خطبہ کے دوران فرمانا پڑا: سنو! بسر(بن ارطاہ) نے سیدنا امیر معاویہ کی جانب سے خبر دی ہے، مجھے تو یوں لگتا ہے کہ یہ لوگ تم پر غالب آ جائیں گے اس لیے کہ وہ ناحق پر ہونے کے باوجود مجتمع ہیں جبکہ تم حق پر ہونے کے باوصف متفرق ہو، وہ لوگ اپنے امیر کی اطاعت کرتے ہیں اور تم اپنے امیر کی نافرمانی کرتے ہو۔ میں نے فلاں کو عامل مقرر کیا مگر اس نے خیانت کی، غداری کا مرتکب ہوا اور مال و زر سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس بھیج دیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ بعض امراء معمولی معمولی چیزوں میں خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ میرے اللہ! میں ان سے نفرت کرتا ہوں اور یہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں انہیں مجھ سے اور مجھے ان سے راحت پہنچا۔

(التاریخ الصغیر: جلد 1 صفحہ 125۔ منقطع سند کے ساتھ، اس کے اور بھی کئی شواہد ہیں)

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے ان مصائب و مشکلات اور اپنی سپاہ کی اس پست ہمتی کے سامنے ہتھیار نہ پھینکے، انہوں نے اپنے لشکر کی محبت بڑھانے کے لیے اپنا علم اور فصاحت و بیان سب کچھ کھپا ڈالا مگر اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔ شجاعت و بسالت پر مبنی ان کے ان مشہور خطبات جن کا شمار اہم ترین ادبی ورثہ میں ہوتا ہے وہ ایسی کڑواہٹ تھی جس کے گھونٹ انہیں بار بار پینا پڑے اور وہ ایسا دردناک امر واقع تھا جس کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔ میں نے ان میں سے بعض خطبات امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اپنی کتاب میں ذکر کیے ہیں۔

(سیرۃ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب: جلد 2 صفحہ 1020)