امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں صلح
علی محمد الصلابیان تھکا دینے والی کوششوں کے باوجود امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے، اس لیے کہ وہ اپنی سپاہ میں داخلی انتشار و خلفشار اور اس کی خواہش پرستی کی وجہ سے شام کے ساتھ جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہ آ سکے، چنانچہ انہیں 40 ھ میں یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس بات پر اتفاق کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا کہ عراق پر میرا اقتدار قائم رہے گا اور شام پر ان کا اور ہم ایک دوسرے کے معاملات اور علاقوں میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے، نہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ ہو گی نہ غارت گری اور نہ ہی کوئی دیگر فوجی کارروائی۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 56۔ خلافۃ علی رضی اللہ عنہ، عبدالحمید، صفحہ 356)
طبری اپنی تاریخ میں اس صلح کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ صلح جاری نہ رہ سکی، جس کی وجہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے سال بسر بن ارطاۃ کو حجاز اور یمن کی طرف بھیجا۔
(التاریخ الصغیر: امام بخاری: جلد 1 صفحہ 41)