Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سنتے ہیں

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ارادے اور چاہت کے مطابق لشکر کو تیار کرنے سے قاصر رہے اور انہیں اس حوالے سے اپنی ناکامی نظر آنے لگی تو زندگی سے اکتا کر موت کی تمنا کرنے اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر جلد از جلد موت کی دعائیں کرنے لگے۔ مروی ہے کہ سیدنا علیؓ نے ایک دن دوران خطبہ ارشاد فرمایا: اے میرے اللہ! میں ان سے اکتا گیا اور یہ مجھ سے اکتا گئے، مجھے ان سے راحت عطا فرما اور انہیں مجھ سے راحت دے دے۔ پھر سیدنا علیؓ نے اپنی ریش مبارک پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ان کے بدنصیب کو اسے خون میں رنگنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 10 صفحہ 154 )

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بڑے اصرار کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے۔ جندب فرماتے ہیں: لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر اس قدر رش کیا کہ ان کی رہائش گاہ کو روند ڈالا، اس وقت آپ نے یہ دعا کی: یا اللہ! میں ان سے اکتا گیا ہوں اور یہ مجھ سے اکتا گئے ہیں۔ میں ان سے نفرت کرتا ہوں اور یہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں، مجھے ان سے راحت نصیب فرما اور انہیں مجھ سے راحت دے۔

(الاحاد و المثانی: ابن ابی عاصم: جلد 1 صفحہ 37۔ حسن سند کے ساتھ۔ خلافۃ علی: صفحہ 432)

ابو صالح سے مروی ایک دوسری روایت میں ان کا یہ بیان مروی ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سر پر مصحف رکھ کر یہ کہتے سنا: یا اللہ! میں نے ان سے اس چیز کا سوال کیا جو تیرے اس مصحف میں ہے مگر انہوں نے اس سے انکار کر دیا، یا اللہ! میں ان لوگوں سے اکتا گیا ہوں اور یہ مجھ سے اکتا گئے ہیں، میں ان سے نفرت کرتا ہوں اور یہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں، اور انہوں نے مجھے میرے اخلاق کے علاوہ کسی اور چیز پر اکسایا، انہیں میرے بدلے میں کوئی بہت بُرا آدمی عطا فرما اور مجھے ان کے بدلے میں بہت اچھے لوگ عطا فرما، اور ان کے دلوں کو اس طرح پگھلا دے جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 144)

دوسری روایت میں آتا ہے کہ اس کے تقریباً تین دن بعد انہیں شہید کر دیا گیا۔

(المحن: صفحہ 99 لابی العرب: خلافۃ علی: از عبدالحمید: صفحہ 432)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھ سے میرے باپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج رات مجھے خواب میں ملے تو میں نے کہا: مجھے آپ کی امت کی طرف سے کس قدر کج روی اور خصومت کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان کے لیے بددعا کریں۔ میں نے کہا: یا اللہ! مجھے ان سے بہتر لوگ عطا فرما اور انہیں میرے بدلے میں کوئی برا انسان دے۔ سیدنا حسنؓ فرماتے ہیں: اس کے بعد انہیں شہید کر دیا گیا۔

(تاریخ الاسلام فی عہد خلفاء الراشدین: صفحہ 649)

پھر جب ان کی شہادت کی خبر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملی تو وہ رونے لگ گئے، اس پر ان کی بیوی کہنے لگی: آپ انہیں رو رہے ہیں، حالانکہ آپ ان سے جنگیں لڑتے رہے؟ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرے لیے افسوس، تجھے نہیں معلوم کہ لوگ کس قدر علم و فضل اور فقہ سے محروم ہو گئے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 133)

دوسری روایت میں ہے کہ جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی، تو کہنے لگے: ابن ابو طالب کی موت سے فقہ اور علم جاتے رہے۔ یہ سن کر ان کا بھائی عتبہ کہنے لگا: اہل شام کو آپ کے منہ سے یہ بات نہیں سننی چاہیے۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جانے دیں۔

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1108)

ایک دفعہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ضرار صدائی سے فرمایا کہ مجھ سے علی کے اوصاف بیان کریں۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین! مجھ سے درگزر فرمائیں۔ مگر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے اصرار کیا تو وہ کہنے لگا: اگر ان کے اوصاف بیان کرنا ضروری ہیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مقاصد بڑے عظیم تھے، وہ بڑی قوت کے مالک تھے، فیصلہ کن بات کرتے،

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1107)

عادلانہ فیصلے کرتے، ان کے ہر پہلو سے علم کے چشمے پھوٹتے اور وہ حکمت پر مبنی گفتگو کرتے تھے، دنیا اور اس کی زیب و زیبائش سے متنفر، رات اور اس کی تنہائی سے مانوس تھے، بکثرت رویا کرتے اور طویل سوچ و بچار میں پڑے رہتے۔ آپ کو چھوٹا لباس اور سادہ کھانا پسند تھا، وہ ہم میں ایک عام آدمی کی طرح موجود رہتے، جب ہم ان سے سوال کرتے تو وہ اس کا جواب دیتے اور اگر کسی معاملہ کی آگاہی چاہتے تو ہمیں اس سے آگاہ کرتے، اللہ کی قسم! اگرچہ ہم ان کے قریب تھے اور وہ ہم سے قریب، تو بھی ہم ان کی ہیبت کی وجہ سے ان سے بات نہ کر پاتے۔ دین دار لوگوں کی تعظیم کرتے اور مساکین کو اپنے نزدیک رکھتے، طاقت ور ان کے باطل میں طمع نہ کرتا، کمزور ان کے عدل سے مایوس نہ ہوتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے انہیں متعدد بار دیکھا جب رات اپنے سائے پھیلا دیتی اور ستارے غروب ہو جاتے تو وہ اپنی داڑھی کو پکڑ کر بیمار انسان کی طرح تڑپتے اور غمگین انسان کی طرح روتے اور فرماتے: اے دنیا! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکہ دے، تو میرے درپے ہوتی ہے یا میرے لیے بنتی سنورتی ہے۔ مجھ سے دور ہو جا، مجھ سے دور ہو جا، میں نے تجھے تین طلاق دے دیں جن میں رجوع کی گنجائش نہیں ہے، تیری عمر بڑی مختصر ہے اور تیرے خطرات بہت زیادہ۔ آہ، زاد سفر بہت کم، سفر بہت طویل اور راستہ پر خطر ہے۔

یہ سن کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا: اللہ ابو الحسن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ انہی اوصاف سے متصف تھے۔ ضرار! ان پر تیرے غم کی کیا کیفیت ہے؟ اس نے جواب دیا: میرا غم اس ماں جیسا ہے جس کی گود میں اس کے شیرخوار بیٹے کو ذبح کر دیا جائے۔

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1108)

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے تھے، میں نے آپﷺ کو سلام کیا اور پھر بیٹھ گیا، میں اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا پھر انہیں گھر میں داخل کر کے اس کا دروازہ بند کر دیا گیا، میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا، پھر زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لائے: رب کعبہ کی قسم! فیصلہ میرے حق میں ہوا، پھر جلد ہی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور وہ کہہ رہے تھے: رب کعبہ کی قسم! مجھے معاف کر دیا گیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 133)