Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعوں کو زکوٰۃ، فطرانہ اور خیرات دینا


سوال: سورۃ الضحیٰ: میں ہے کہ سائل کو نہ جھڑکیں۔ کچھ سائل تو گھنٹی بجاتے ہیں، کچھ زور زور سے دروازے پر دستک دیتے ہیں اور کچھ خاص دن جمعرات کو آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کی صدا ہوتی ہے جمعرات دی روٹی دا سوال اے بابا دوسرے دنوں میں کچھ کی صدا ہوتی ہے مولا علی رنگ لا دے دوارے وسدے رہن کچھ کی سدا ہوتی ہے حسن حسین دے ناں دا سوال اے پتر۔

الغرض پورا ہفتہ اسی قسم کے گدا گروں کی ریل پیل رہتی ہے۔ایسوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے جو ایسے طریقے سے پیٹ پالتے ہیں؟ میں نے حدیث میں پڑھا ہے کہ تیرا کھانا پرہیزگار ہی کھائے۔

کیا ایسے لوگوں کو خیرات دینی چاہیے؟ جواز کی صورت میں انہیں صدقۃ الفطر اور قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: اسلامی آداب سے ناواقف اور غلط عقیدے کے ناواقف شخص کو بطریقِ احسن سمجھانا چاہیئے قال اللہ تعالیٰ: 

وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّهُ ۥ يَزَّكَّىٰٓ۝ أَوۡ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكۡرَىٰٓ۝ (سورۃ العبس: آیت، 3۔4)

اور جو سمجھانے سے بھی باز نہ آئے غیر اللہ کے نام پر مانگنے والوں کو ہرگز نہیں دینا چاہیے۔رہا معاملہ فطرانہ (زکوۃ الفطر) کا تو یہ فرض ہے، اس میں صرف کوشش نہیں کرنی چاہیئے بلکہ دوسروں کو دینا جائز نہیں۔ حدیث حضرت معاذ رضی اللہ عنہ میں ہے:

تؤخذ من اغنیاءھم وترد علی فقراءھم۔ زکوٰۃ مسلمان اغنیاء سے لے کر مسلمان فقراء کو دی جاتی ہے۔

لہٰذا سوال کرنے والا اگر عقیدہ توحید والا نہیں اور نمازی نہیں تو اسے فطرانہ نہیں دینا چاہیئے، خواہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ یہ خاص طور پر مسلمانوں کا حق ہے۔

(فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ: جلد، 1 صفحہ، 442)